میں دیکھتا ہوں خواب کی تعبیر وغیرہ

ڈاکٹر الیاس عاجز کی ایک غزل

میں دیکھتا ہوں خواب کی تعبیر وغیرہ
کرتا نہیں ہے کوٸی بھی تدبیر وغیرہ

پیہم نہ کٹے تھوڑی تھوڑی روز اگر تو
کٹتی نہیں ہے پاٶں کی زنجیر وغیرہ

اُس چشمِ فُسوں کار نے دل زخمی کیا ہے
جتنا کہ نہیں کرتا کوٸی تیر وغیرہ

پسماندگانِ عشق کا جب ذکر چلا تو
یاد آٸے مجھے درد و ناصر میر وغیرہ

اک چلہ کاٹا عشق کا تو پیچھے پھرتے ہیں
درویش،سادھو، سنت کیا ؟ سب پیر وغیرہ

قسمت ہے میاں کارِ مشقت سے ہی مشروط
مومن کے لیے کچھ نہیں تقدیر وغیرہ

قرطاس و قلم چھین لیا وقت نے عاجِزؔ
اپنی تھی فقط ایک ہی جاگیر وغیرہ

ڈاکٹر الیاس عاجزؔ