آج کا دور معلومات اور ابلاغ کا دور کہلاتا ہے۔ دنیا کے کسی بھی کونے میں ہونے والا واقعہ چند لمحوں میں پوری دنیا تک پہنچ جاتا ہے۔ اس تیز رفتار نظام میں میڈیا کا کردار انتہائی اہم ہو چکا ہے۔ میڈیا نہ صرف خبریں فراہم کرتا ہے بلکہ معاشرے کی سوچ، رویوں اور نظریات پر بھی گہرا اثر ڈالتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اکثر کہا جاتا ہے کہ میڈیا معاشرے کا آئینہ بھی ہے اور اسے تشکیل دینے والا ذریعہ بھی۔
ماضی میں اطلاعات کے ذرائع محدود تھے۔ لوگ زیادہ تر اخبارات، ریڈیو یا چند سرکاری ٹی وی چینلز پر انحصار کرتے تھے۔ مگر اب صورتحال مکمل طور پر تبدیل ہو چکی ہے۔ سوشل میڈیا، آن لائن نیوز ویب سائٹس اور مختلف ڈیجیٹل پلیٹ فارمز نے معلومات تک رسائی کو بے حد آسان بنا دیا ہے۔ ہر شخص کے ہاتھ میں موبائل فون ہے اور چند کلکس کے ذریعے وہ دنیا بھر کی خبریں اور آراء تک رسائی حاصل کر سکتا ہے۔
میڈیا کے اس پھیلاؤ نے معاشرے کو کئی مثبت فوائد بھی دیے ہیں۔
لیکن اس کے ساتھ ساتھ میڈیا کے منفی اثرات بھی نظر انداز نہیں کیے جا سکتے۔ بعض اوقات سنسنی خیزی، غیر مصدقہ خبروں اور غلط معلومات کی وجہ سے معاشرے میں الجھن اور بے یقینی پیدا ہو جاتی ہے۔ سوشل میڈیا پر جھوٹی خبریں بہت تیزی سے پھیلتی ہیں اور اکثر لوگ بغیر تحقیق کے انہیں سچ مان لیتے ہیں۔ اس رجحان نے معاشرے میں غلط فہمیوں اور اختلافات کو بڑھانے میں بھی کردار ادا کیا ہے۔
مزید یہ کہ بعض میڈیا ادارے ریٹنگ اور مقبولیت کے حصول کے لیے سنجیدہ مسائل کو بھی تفریحی انداز میں پیش کرتے ہیں۔ اس عمل سے اصل مسئلے کی سنجیدگی کم ہو جاتی ہے اور عوام کی توجہ اصل حقیقت سے ہٹ جاتی ہے۔ ایسے حالات میں ضروری ہے کہ میڈیا اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریوں کو سمجھتے ہوئے ذمہ دارانہ صحافت کو فروغ دے۔
دوسری طرف عوام کی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ ہر خبر کو آنکھ بند کر کے قبول نہ کریں بلکہ تحقیق اور تصدیق کو اپنی عادت بنائیں۔ میڈیا کے استعمال میں اعتدال اور شعور بہت ضروری ہے۔ اگر معاشرہ باشعور ہو تو وہ صحیح اور غلط میں فرق کر سکتا ہے اور گمراہ کن معلومات سے خود کو بچا سکتا ہے۔
تعلیم اور شعور اس مسئلے کا بہترین حل ہیں۔ جب لوگوں میں تنقیدی سوچ پیدا ہوگی تو وہ ہر خبر کو پرکھنے کی صلاحیت حاصل کر لیں گے۔ اسی طرح میڈیا اداروں کو بھی چاہیے کہ وہ تحقیق پر مبنی صحافت کو فروغ دیں اور معاشرے کی مثبت رہنمائی کا کردار ادا کریں۔
آخر میں یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ میڈیا ایک طاقتور ہتھیار ہے۔ اگر اسے ذمہ داری اور دیانتداری کے ساتھ استعمال کیا جائے تو یہ معاشرے کی اصلاح اور ترقی کا ذریعہ بن سکتا ہے۔ لیکن اگر اس کا غلط استعمال ہو تو یہ معاشرے میں انتشار اور غلط فہمیوں کو بھی جنم دے سکتا ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ میڈیا اور عوام دونوں اپنی ذمہ داریوں کو سمجھیں تاکہ ایک باشعور، مثبت اور ترقی یافتہ معاشرہ تشکیل دیا جا سکے۔
خیر اندیش
نعمان علی بھٹی