میڈیا کا اثر اور ہماری سوچ تحریر

ایک اردو تحریر از محمد نعمان بھٹی

آج کا دور معلومات اور ابلاغ کا دور کہلاتا ہے۔ دنیا کے کسی بھی کونے میں ہونے والا واقعہ چند لمحوں میں پوری دنیا تک پہنچ جاتا ہے۔ اس تیز رفتار نظام میں میڈیا کا کردار انتہائی اہم ہو چکا ہے۔ میڈیا نہ صرف خبریں فراہم کرتا ہے بلکہ معاشرے کی سوچ، رویوں اور نظریات پر بھی گہرا اثر ڈالتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اکثر کہا جاتا ہے کہ میڈیا معاشرے کا آئینہ بھی ہے اور اسے تشکیل دینے والا ذریعہ بھی۔
ماضی میں اطلاعات کے ذرائع محدود تھے۔ لوگ زیادہ تر اخبارات، ریڈیو یا چند سرکاری ٹی وی چینلز پر انحصار کرتے تھے۔ مگر اب صورتحال مکمل طور پر تبدیل ہو چکی ہے۔ سوشل میڈیا، آن لائن نیوز ویب سائٹس اور مختلف ڈیجیٹل پلیٹ فارمز نے معلومات تک رسائی کو بے حد آسان بنا دیا ہے۔ ہر شخص کے ہاتھ میں موبائل فون ہے اور چند کلکس کے ذریعے وہ دنیا بھر کی خبریں اور آراء تک رسائی حاصل کر سکتا ہے۔
میڈیا کے اس پھیلاؤ نے معاشرے کو کئی مثبت فوائد بھی دیے ہیں۔ سب سے بڑا فائدہ معلومات کی فراہمی ہے۔ آج عام آدمی کو اپنے حقوق، ملکی حالات اور عالمی واقعات کے بارے میں پہلے سے زیادہ آگاہی حاصل ہے۔ کسی بھی ناانصافی یا ظلم کی خبر چند لمحوں میں عام ہو جاتی ہے اور عوامی دباؤ کی وجہ سے حکام کو کارروائی کرنا پڑتی ہے۔ اس طرح میڈیا احتساب کا ایک مضبوط ذریعہ بن چکا ہے۔
لیکن اس کے ساتھ ساتھ میڈیا کے منفی اثرات بھی نظر انداز نہیں کیے جا سکتے۔ بعض اوقات سنسنی خیزی، غیر مصدقہ خبروں اور غلط معلومات کی وجہ سے معاشرے میں الجھن اور بے یقینی پیدا ہو جاتی ہے۔ سوشل میڈیا پر جھوٹی خبریں بہت تیزی سے پھیلتی ہیں اور اکثر لوگ بغیر تحقیق کے انہیں سچ مان لیتے ہیں۔ اس رجحان نے معاشرے میں غلط فہمیوں اور اختلافات کو بڑھانے میں بھی کردار ادا کیا ہے۔
مزید یہ کہ بعض میڈیا ادارے ریٹنگ اور مقبولیت کے حصول کے لیے سنجیدہ مسائل کو بھی تفریحی انداز میں پیش کرتے ہیں۔ اس عمل سے اصل مسئلے کی سنجیدگی کم ہو جاتی ہے اور عوام کی توجہ اصل حقیقت سے ہٹ جاتی ہے۔ ایسے حالات میں ضروری ہے کہ میڈیا اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریوں کو سمجھتے ہوئے ذمہ دارانہ صحافت کو فروغ دے۔
دوسری طرف عوام کی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ ہر خبر کو آنکھ بند کر کے قبول نہ کریں بلکہ تحقیق اور تصدیق کو اپنی عادت بنائیں۔ میڈیا کے استعمال میں اعتدال اور شعور بہت ضروری ہے۔ اگر معاشرہ باشعور ہو تو وہ صحیح اور غلط میں فرق کر سکتا ہے اور گمراہ کن معلومات سے خود کو بچا سکتا ہے۔
تعلیم اور شعور اس مسئلے کا بہترین حل ہیں۔ جب لوگوں میں تنقیدی سوچ پیدا ہوگی تو وہ ہر خبر کو پرکھنے کی صلاحیت حاصل کر لیں گے۔ اسی طرح میڈیا اداروں کو بھی چاہیے کہ وہ تحقیق پر مبنی صحافت کو فروغ دیں اور معاشرے کی مثبت رہنمائی کا کردار ادا کریں۔
آخر میں یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ میڈیا ایک طاقتور ہتھیار ہے۔ اگر اسے ذمہ داری اور دیانتداری کے ساتھ استعمال کیا جائے تو یہ معاشرے کی اصلاح اور ترقی کا ذریعہ بن سکتا ہے۔ لیکن اگر اس کا غلط استعمال ہو تو یہ معاشرے میں انتشار اور غلط فہمیوں کو بھی جنم دے سکتا ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ میڈیا اور عوام دونوں اپنی ذمہ داریوں کو سمجھیں تاکہ ایک باشعور، مثبت اور ترقی یافتہ معاشرہ تشکیل دیا جا سکے۔

خیر اندیش
نعمان علی بھٹی

نعمان علی بھٹی

السلام علیکم! میرا نام نعمان علی بھٹی ہے اور میرا تعلق پاکستان سے ہے۔ میں ایک لکھاری اور بلاگر ہوں، جو سماجی مسائل، قومی حالات، قانون کی اہمیت اور عوامی شعور جیسے اہم موضوعات پر کالم لکھتا ہوں۔ میری تحریروں کا بنیادی مقصد معاشرے میں مثبت سوچ، ذمہ داری کا احساس اور شعور کو فروغ دینا ہے۔ میرے کالم مختلف معروف آن لائن پلیٹ فارمز پر شائع ہو چکے ہیں جن میں Hum Sub Daily Urdu Columns, اور Info Devil شامل ہیں۔ اس کے علاوہ میں اپنی ذاتی ویب سائٹ PK24FutureUpdates پر باقاعدگی سے مضامین (Articles) اور جابز اپڈیٹس (Jobs Updates) بھی شائع کرتا ہوں، تاکہ قارئین کو معلومات اور مواقع دونوں فراہم کیے جا سکیں۔ میں سوشل میڈیا پر بھی متحرک ہوں، خاص طور پر اپنے Facebook Page کے ذریعے، جہاں میں موجودہ حالات، نئے کالمز، اور جابز اپڈیٹس سے متعلق معلومات مسلسل شیئر کرتا رہتا ہوں۔