مرتا ہےتو مرجائے , مددکیوں کرےکوئی

ایک اردو غزل از ارشاد نیازی

مرتا ہے تو مر جائے , مدد کیوں کرے کوئی
مفلس کی انا حرفِ سند کیوں کرے کوئی

ہر بار دعاؤں کو سمندر میں بہائے
ہر بار لبِ تشنہ احد کیوں کرے کوئی

گنتی کے جو دکھ درد مٹانے سے ہو قاصر
پھر یاد بھلا ایسا عدد کیوں کرے کوئی

خوش بخت مسافر ترے پاؤں کی ہنسی پر
زنجیر کی سرشاری کو رد کیوں کرے کوئی

معیار عجب ہے ترے اس شہرِ ستم کا
اونچا تری دستار سے قد کیوں کرے کوئی

کم ظرف منافق سے کوئی کس لیے الجھے
بیکار میں کردار کو بد کیوں کرے کوئی

ارشاد پرندوں کو ہواؤں سے بچائے
کٹتے ہوئے پیڑوں کی رسَد کیوں کرے کوئی

ارشاد نیازی

ارشاد نیازی

نیازی تخلص رکھنے والے ارشاد احمد17 اپریل 1979 کو سیالکوٹ ایک قصبے چوبارہ میں پیدا ہوئے ۔ والدہ گھریلو خاتون تھیں اور والد صاحب شعبہ ء حکمت سے وابستہ تھے چار بھائی ہیں ایک بھائی اور شاعری کرتا ہے ابتدائی تعلیم گورنمنٹ ہائی سکول چوبارہ سے، ایف اے پرائیوٹ اور بی اے علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی سے کیا ۔