میجر سبطین حیدر ؛ ایک نشانِ وفا، ایک عہدِ شہادت
آٹھ اکتوبر دوہزار پچیس کی صبح، ڈیرہ اسماعیل خان کے علاقے درابن کی وادی میں وہ داستان رقم ہوئی جو پاکستان کے عسکری وقار اور قومی غیرت کی مثال بنی رہے گی۔ سیکیورٹی فورسز نے خفیہ اطلاعات کی روشنی میں ایک انٹیلی جنس بیسڈ کارروائی کی جس کا مقصد بھارتی سرپرستی میں سرگرم دہشت گرد گروہ ”فتنہ الخوارج” کے ٹھکانے تباہ کرنا تھا۔ یہ گروہ بھارت کی پراکسی وار کا خطرناک ہتھیار تھا، جس کا مقصد ملک میں عدم استحکام پھیلانا اور عام شہریوں کے درمیان خوف و ہراس قائم کرنا تھا، مگر اس مرتبہ بھی دشمن کے ناپاک عزائم کو پاک فوج کے جوانوں نے خاک میں ملا دیا۔ آپریشن کے دوران سات بھارتی حمایت یافتہ خوارج انجام کو پہنچے، اور اس معرکے میں پاک فوج کے بہادر افسر میجر سبطین حیدر نے اپنی جان وطن پر نچھاور کر کے شہادت کا عطا پایا۔
میجر سبطین حیدر کا تعلق بلوچستان کے ضلع کوئٹہ سے تھا۔ عمر محض تیس برس تھی، مگر ان کا عزم و حوصلہ ان کی عمر سے کہیں زیادہ پختہ اور مضبوط تھا۔ وہ قیادت کو محض منصب نہیں سمجھتے تھے بلکہ ایک ایسی ذمہ داری سمجھتے تھے جس میں خود خطرے کے سامنے کھڑے
قرآنِ مجید میں ارشاد ہے: "اور جو لوگ اللہ کی راہ میں مارے جائیں، انہیں مردہ مت کہو، بلکہ وہ زندہ ہیں، مگر تم شعور نہیں رکھتے” (سورۃ البقرہ: 154)۔ میجر سبطین اس آیت کی زندہ تفسیر بن گئے؛ وہ بظاہر ہم سے جدا ہوئے مگر حقیقت میں ان کا نام، ان کا لہو اور ان کی قربانی اس دھرتی کی رگوں میں دوڑ رہی ہے۔ شہادت موت نہیں، بلکہ ایمان اور فرض کی تکمیل ہے؛ وہ عملی پیغام ہے کہ وطن کی حفاظت کی قیمت جب بھی مانگی جائے، سچے سپاہی اسے دینے کو تیار رہتے ہیں۔
یہ امر واضح ہے کہ بھارت نے پاکستان کے خلاف ایک غیر اعلانیہ حکمت عملی اپنائی ہوئی ہے جو براہِ راست جنگ سے زیادہ پراکسی نیٹ ورکس، فتنہ گروہوں اور دہشت گرد تنظیموں کے ذریعے کشور میں بے امنی پھیلانے کی کوشش کرتی ہے۔ ”فتنہ الخوارج” اسی سازش کا حصہ ہے، جسے بارہا بروقت کارروائیوں کے ذریعے ناکام بنایا جاتا رہا ہے۔ مگر یہ بات بھی سچ ہے کہ ہر ناکامی کے پیچھے ہمارے جوانوں کی بے مثال قربانیاں ہوتی ہیں؛ پاک افواج نے اپنی جانوں کی قربانی کے ذریعے متعدد سازشوں کو بے اثر کیا ہے۔ میجر سبطین حیدر اور ان جیسے دیگر افسران و جوانوں نے یہ ثابت کیا ہے کہ دشمن کی ہر چال کا مقابلہ ہمارے ایمان اور عزم سے ممکن ہے۔
پاکستانی افواج نے دہشت گردی کے خلاف اس طویل اور کٹھن جنگ میں وہ قربانیاں دیں جن کی مثال کم ہی ملتی ہے۔ ہزاروں افسران و جوانوں نے اپنی جانیں دے کر اس قوم کو تحفظ مہیا کیا؛ یہ فتوحات کسی معاہدے یا محض بیانات کا نتیجہ نہیں بلکہ ایثار، صبر اور شہادتوں کا حاصل ہیں۔ میجر سبطین کی شہادت اسی تسلسل کی ایک روشن کڑی ہے، جس نے قوم کے لیے یہ پیغام دوہرایا کہ سلامتی پر کوئی سمجھوتہ قابلِ قبول نہیں۔
یہ قربانیاں محض فوج کی نہیں بلکہ پوری قوم کی امانت ہیں۔ شہداء کے اہلِ خانہ ہمارے قومی وقار کا حصہ ہیں — ان کے والدین، بہن بھائی اور بچے وہ چہرے ہیں جن کی استقامت اور صبر نے ہمیں یہ سبق دیا کہ وطن کا دفاع صرف محاذِ جنگ تک محدود نہیں، بلکہ گھروں میں بھی عزم و استقامت سے جاری رہتا ہے۔ ہمیں بحیثیت قوم یہ احساس برقرار رکھنا ہوگا کہ ہمارے محافظوں کا خون ہماری آزادی اور وقار کی ضمانت ہے؛ اسی لیے شہداء کی تعظیم اور ان کے اہلِ خانہ کی کفالت ہر شہری کی ذمّہ داری ہونی چاہیے۔
آج دنیا سیاسی اختلافات، لسانی تقسیم اور خودغرضی کے باعث کئی محاذوں پر بٹی ہوئی دکھائی دیتی ہے، مگر پاکستان کی مسلح افواج ایک مربوط نظم، ایمان اور قربانی کی مثال دے رہی ہیں جو قوم کو زندہ رکھتی ہے۔ ہمیں شہداء کی قربانیوں کو محض اطلاع یا یادداشت کے طور پر نہیں دیکھنا؛ انہیں سبقِ حیات بنانا ہوگا۔ سوشل میڈیا اور عوامی مباحث میں منفی یا تفرقہ انگیز بیانیوں کی بجائے یکجہتی، احترامِ شہداء اور حب الوطنی کا پیغام عام کرنا ہم سب کا قومی فریضہ ہے؛ کیونکہ جب قوم اپنے محافظوں کے ساتھ یکجا ہوتی ہے تو دشمنوں کے حوصلے خود بخود پست ہو جاتے ہیں۔
میجر سبطین حیدر کی شہادت ہمیں یاد دلاتی ہے کہ وطن محض زمین کا ٹکڑا نہیں، بلکہ ایمان، غیرت اور قربانی کا استعارہ ہے۔ یہ دھرتی انہی بہادر بیٹوں کے لہو سے سیراب ہے جنہوں نے اپنی آخری سانس تک پاکستان کی حفاظت کو مقدم رکھا۔ جب ہم ان کا نام لیتے ہیں تو دلوں میں فخر پیدا ہوتا ہے؛ وہ زندہ ہیں — ہر فوجی کے دل میں، ہر شہری کے یقین میں، اور ہر پاکستانی کے ضمیر میں۔ سلام ان ماؤں پر جنہوں نے وطن کے لیے بیٹے قربان کیے، سلام ان سپاہیوں پر جو دن رات سرحدوں پر پہرہ دے رہے ہیں، اور سلام اس وطن پر جسے میجر سبطین جیسے بیٹے نصیب ہوئے۔ شہید کی موت قوم کی حیات ہے، اور جب تک اس سرزمین پر ایسے بیٹے جنم لیتے رہیں گے، پاکستان ان شاء اللہ قائم و دائم رہے گا۔
یوسف صدیقی