میڈم – ناولٹ (قسط نمبر 4 آخری)

مصنفہ ۔ عندلیب بھٹی

میڈم – ناولٹ (قسط نمبر 4 آخری)

وطن واپس آکر خوب آرام کرنے پر مَیں خوش تھا ۔ ہمہ وقت اچھا بننے کی کوشش سے جان جو چھٹ گئی تھی ۔اخبار اور میگزین والد صاحب نے بخوبی سنبھال رکھے تھے ۔شام کو میرا دفتر جانے کا اردہ تھا ۔ظہرانے کے بعد کافی پیتے ہوئے اپنے مُلک کے ٹی وی سے لطف اندوز ہونا اچھا لگ رہا تھا۔اچانک ٹی وی اسکرین پر ایک چہرہ دکھائی دیا ۔ اُس عکس میں یوں الجھا کہ ٹِکر پر نگاہ نہ پڑ سکی ۔چاہنے کے باوجود اُس سے جڑی کسی یاد نے ذہن کے دروازے پر دستک نہ دی۔ شا م تک اِدھر اُد ھر کے کاموں میں مصرو ف رہنے کے باوجود اُس شبیہ میں الجھتا رہا ۔میں سر کو جھٹکتا مگر پل سرکتا اور دو نگاہیں پھر سے میرے روبرو ہوتیں ۔
’’ واہ ۔۔تبریز صاحب آپ کیسے صحافی ہیں؟‘‘
رات کو میں خود ہی اپنی یادداشت پر کئی سو بار لعنت ملامت کر چکا تھا ۔ ذہن میںوہ خبر تازہ دم کرنے کے بعداپنا اخبار دیکھنے پر اُس خبر کی تفصیل مہیّا ہو گئی ۔وہ گلوکارہ سویراابراہیم تھی ۔آنے والے روز اِس کے میوزک سکول کا اٖفتتاح تھا ۔یہ خبر اُسی فنکشن کے بارے میں تھی ۔یہ کیسے ہو سکتا ہے ؟سویراابراہیم یا عفیفہ ابراہیم۔۔ جسے میں پہچانتاتھا ۔۔اخبار میںاُس چہرے کا فرنٹ کلوزاپ تھا ۔ ۔یہ وہ ہو کر بھی وہ نہیں ہے ۔۔مگر اُس جیسی کون تھی ؟سر نیم وہی آنکھیں وہی ۔۔لیکن انداز اور کام ۔۔۔یہ طے تھا کہ اُس جیسی کوئی اور ہو نہیں سکتی ۔۔پھر یہ گہری نیلے رنگ کی جینز کرُتے میں سویراابراہیم کون ہے ۔۔؟اور گلوکارہ ۔۔؟‘‘
’’ تبریز چودھری یہ چار برس میں دنیا کتنا گھوم لی ؟‘‘
’’ ۔۔یہ تو طے تھا کہ مجھے کل اُس فنکشن جانا ہی تھا ۔‘‘
اگلی رو میں نشت لینے کے لیے میں نے اپنی صحافیانہ رسائی کو استعمال کیا ۔۔جس پر اُس وقت بے تحاشا مسرور ہوا ۔۔جب وہ اسٹیج پر نمودار ہوئی ۔اُس کی چال چست اور سبک تھی ۔ہمیشہ کی طرح ۔۔اب اِس میں تمکنت کا اضافہ بھی ہو چکا تھا۔میں پیشہ وارانہ تجزیے میں مصرو ف رہا ۔
مائک پر اُس کی شان میں قلابے ملائے جانے لگے۔جب کہ وہ ایک شاندار کرسی پر ملکہ کی طرح براجمان تھی ۔جب وہ دوپٹے کے ہالے میں چہرہ کافی سے زیادہ چھپائے لیکچر دینے آتی۔۔ ملکہ تو وہ جب بھی لگا کرتی تھی ۔۔مگراب اِس کا چہرہ غرور سے تنا ہوا تھا ۔شایدیہ وقت کا دیا نیا تحفہ تھا ۔شک کی کوئی گنجائش باقی نہیں تھی وہ عفیفہ ابراہیم تھی ۔۔پھر بھی دل ،دماغ باہم گھتم گھتا تھے ۔مائک پر بیتے دو برس میں اِس کی ترقی وبلندی کے قصیدے سنائے جا رہے تھے ۔جنھیں وہ بھر پور استحقاق سے وصول کر رہی تھی ۔
گویا غرور نے عاجزی کو نکال باہر کیا ۔
نئے آنے والے نے پھر اُس کے دو برس کا سامان سامنے رکھا تو میرا ہاتھ بے اختیار اپنے سر پر چلا گیا ۔اُس سکول سے تو وہ چار برس پہلے رخصت ہوئی تھی ۔پہلے دو برس کا قصّہ کہاں ہے؟اِسی پل وہ مسکرائی ۔ لگا مجھے پڑھ کر مجھی پر مسکرا رہی تھی ۔میں وہاں ہو کر بھی ماضی میں اُسی کے ساتھ تھا ۔
وہ مائک پر بولی تو سوچا یہاں بھی بہت کچھ نیا ہو گا مگر اُس کی دانشمندی ہمیشہ رہ جانے والی بہار کی مانند اُس کی ذات سے ہنوز پیوستہ تھی ۔اُس نے قدم زمین کی جانب بڑھائے تو سبھی اعلٰی حضرات یوں اٹھ کھڑے ہوئے ۔گویا خاک کے ذررّں کی مانند صدا دے رہے ہوں کہ ہمیں اپنی نظر کی خیرات ڈال دو ۔۔اور وہ ایک ایک نظر کی بھیک ڈالتے میرے پاس سے گزرتے ہوئے لمحہ بھر کو رکی ۔
جتنے میںمیرے دل نے ایک دھڑکن چھوڑی اُتنے میں وہ مڑ کر کہنے لگی ۔
’’ جب بن بلائے آئے ہیں تو بن کہے سبھی کچھ تناول فرمائیے گا ۔مسٹر تبریز صفدر نواز ۔‘‘
میرا جواب اُس کے سراپے اور لہجے میں کہیں کھو گیا ۔ہلکے سبز اور سفید بڑے چیک کی مرادانہ لمبی قمیص پر سیاہ رنگ کی ڈھیلی جینز پر سفید پلو والی بڑی سی کالی سیاہ شال کو ایک انداز سے اوڑھ رکھا تھا ۔لیکن میں نے اِس جدت میں سے دوپٹے کی حیا کو کھوج لیا ۔اس کھوج پر پتا نہیں کیوں بہت خوش تھا ۔میرا جواب اُس کے تجزئے میں کہیں کھو یا رہا ۔ ۔ہوش آیا تو وہ بہت دور کسی کو شرینی میں کونین لپیٹ کر دے رہی تھی ۔
’’ یہ ایسے ہی بات کرتی ہے ۔جانے دیتی ہے نہ آنے دیتی ہے ۔‘‘
ایک سرگوشی میری پشت پر ابھری تھی۔
’’ خود آگاہ ہے ۔جانتی ہے کہ وہ جہاں جائے گی توجہ کا مرکز بنے گی ۔‘‘
یہ کوئی میرا ہم پیشہ تھا ۔میرے مڑ کر دیکھنے پر بوکھلا گیا ۔
’’ سر آپ ۔۔آپ یہاں ۔۔؟‘‘
’’ سنو کھاپی لیا۔‘‘
’’ جی ۔!‘‘
’’کچھ نہیں ۔‘‘
میں اُسے باہر کا راستہ دکھاتے دکھاتے رہ گیا ۔
کچھ دیر بعدموسیقی بلند ہونا شروع ہوئی تواُس نے حمدیہ کلام سنا کر سب کے منہ بند کر دیے ۔
’’ نجی محفل میں نہیں گاتی تو نہ سہی یہ تو اِس کی اپنی ہی محفل ہے۔‘‘
کوئی اپنے دل کی سینکائی کر رہا تھا ۔
’’ میں عفیفہ ابراہیم اور زمانے کی سویرا ابراہیم تک رسائی حاصل کرنا چاہ رہا تھا۔۔ مگر پتا چلا کہ سبھی واقف کار اعٰلی ہسیتاں وہاں پر بصد شوق موجود تھیں ۔
’’ آپ کی یاداشت آج بھی بہت اچھی ہے ۔‘‘
آخر کار میں اپنے مقصد میں کامیاب ہو ہی گیا ۔
’’ آپ یہ تصدیق کرنے بن بلائے چلے آئے ؟‘‘
کوئی بیگانہ سا تعلق محفل میں آن کھڑا ہوا ۔۔جس پر میں مسرور تھا ۔
’’ آپ ایسے بات تو نہیں کرتی تھیں ؟‘‘
’’ اب کرتی ہوں ۔‘‘
’’ کیا یہ آپ کا غرور ہے ؟‘‘
’’ جی ہاں !‘‘
ُاُس نے احساسات سے عاری لہجے میں جواب دیا ۔
سوالات کا انبار تھا جو اُس کے مختصر جواب کے بوجھ تلے دب گیا ۔
’’ وہ مجمع میں کھڑی تھی ۔۔میں اُس کی تفصیلات میں اکیلا کھڑا تھا ۔لمحے بھر کی مسرت کبھی کی رخصت ہوچکی ۔
’’ کیا تم شکایت کے متحمل ہو تبریز نواز؟جس نے کرنی تھی اُس نے کی نہیں ،تم کر چکے ۔‘‘
تمام راستے یہی سوچ میرے گلے کا ہار بنی رہی ۔سُن بھی رکھا تھا کہ واپسی کا سفر مشکل ہوتا ہے ۔میں ایک بار جھوٹا پڑ گیا تھا۔دوسری بار چھوٹا پڑ گیاہوں۔کیا یہ ایک برا دن تھا ۔۔۔یا بہت اچھا ۔۔؟ جواب کے مخمصے کا شکار تھا ۔
بچوں کو وقت دیتے ،کھانا کھاتے ،بیوی کو سنتے اور ابّو کے دفتر کے کھاتوں پر بات کرتے اپنے اندرکے نہاں خانوں میں کہیں عفیفہ کے ساتھ بات پر بات کر تا رہا ۔ایک شعوری حرکت تھی ۔۔دوسری میری گرفت میں نہیں تھی ۔اُس کے بعدرات ایک بجے اسٹڈی میںسگریٹ سگریٹ کھیلتا رہا۔جب معدہ خوب نکوٹین سے بھر گیا تو میں نے اپنی نشست پر خود کو آسان کر کے کٹہرے میں کھڑا کردینے میں عافیت محسوس کی ۔
عفیفہ ابراہیم چودھری سے میری پہلی ملاقات ایک سکول کے فنکشن میں ہوئی ۔وہ سکول کا سالانہ اکٹھ تھا ۔پتا چلاکچھ روز قبل اُس کی تقرری ہوئی تھی ۔اُس نے چند دنوں میں اُس فنکشن کو بھرپورطریقے سے تیار کر دیا ۔۔ایسا کہ پہلے کبھی اُس سکول کا سالانہ فنکشن ایسا کامیاب نہیںہواتھا ۔اُس نے تین ڈرامے نہ صرف لکھے تھے بلکہ انھیں ڈائریکٹ بھی کیا ۔۔اور جب اچانک سے سر عبدالرحمٰن نے اُسے اپنے دفترمیں بلایا تو وہ سب خواتین اساتذہ خوش ہوگئیں جو اب تک اُس کی کارکردگی اور ملنے والی پذیرائی سے نالاں تھیں ۔انھیں لگا کہ وہ کچھ غلط کر چکی ہے جس پر سرزنش ہونے والی ہے ۔۔مگریہاں قصّہ دیگر تھا ۔اُسے کچھ ترنم سے کہنے کو کہا گیا ۔۔گویا سر اُس کی صلاحتیوں کو اچھی طرح کھنگال چکے تھے ۔ویسے کچھ عرصے بعد اس بات کی حقیقت کھل کر میرے سامنے آ گئی تھی کہ سر عبدالرحمٰن آنے والی ہر نئی ٹیچر کا شجرہ ایسے ہی چھانتے تھے ۔۔تاکہ وقت پڑنے پر اُس ہستی کا درست استعمال کر سکیں ۔اُس روز عفیفہ ابراہیم نے ایک غزل گنگنائی جو درحقیقت ایک ماں کی فریاد تھی جس سے اُس کے تین بچے بچھڑ جاتے ہیں ۔
چھن گئی درد کی دولت کیسے
ہو گئی دل کی یہ حالت کیسے
اب رہا کیا میرے دامن میں
اب اُسے میری ضرورت کیسے
پوچھ اُن سے جو بچھڑ جاتے ہیں
ٹوٹ پڑتی ہے قیامت کیسے
سمجھنے والے کیا مانیں گے شاید وہ جانتی تھی ۔۔شاید وہ جانتی تھی کہ شاعری کو کس حد تک شاعری نہیں سمجھا جاتا ۔۔اِس لیے اُس نے غزل گنگنانے سے پہلے وضاحت کر دی کہ یہ ایک ماں کی اپنے بچوں کے ہجر میں فریاد ہے ۔وہ الگ بات کہ مجھ سمیت سبھی مرد اساتذہ نے اُس کی وضاحت کو درخورِاعتنا نہ سمجھا ۔
اِس کے بعد میرا اور عفیفہ کا ٹکراو ،بات چیت مسلسل بنیاد پر ہو گیا ۔۔کیونکہ میں اور وہ ایک ہی مضمون پڑھا رہے تھے۔دو طرفہ مختلف وجوہات کی بنا پر میرے اور سر عبدالرحمٰن سمیت سبھی اساتذہ نے اُسے مشکل وقت دیا اور دیتے رہے ۔میری ذات کی حد تک تو یہ تھا کہ میں چونکہ گھر سے نکلا ہوا انسان تھا ۔سو اب مجھے دنیا کے ہر شخص سے بدلہ لینے کا حق تھا ۔قصّہ مختصریہ کہ میں بیرونِ ملک جانا چاہ رہا تھا۔۔ جب کہ والد صاحب میری آزادصحافت کے خلاف ہو کر اپنا ساراکارخانہ میرے سپرد کردیناچاہتے تھے ۔یہاں تک کہ مجھ سے بہت بڑی بڑی غلطیاں سرزد ہوگئیں جنھیں ماننے سے بہرحال میں انکاری تھا ۔۔اور والد صاحب کو مزید چڑانے کے لیے ایک چھوٹے سے سکول میں نوکری کر لی ۔یہ اور بات کہ اُن کابیٹاہونے کے ناطے مجھے ایک اچھی نوکری ملنے والی بھی نہیں تھی ۔اُس وقت میں ایک خر دماغ بشر تھا ۔۔اِس لیے اپنی دانست میں خود کو مکمل درست انسان کا مکمل روپ مانتا تھا ۔۔سو کسی کو بھی سزا دینے کا مکمل حق بھی رکھتا تھا ۔ایسے میں میرے عتاب کی زد میں عفیفہ ابراہیم چودھری آنے لگی ۔اُس روز میری بیوی نے چھوٹے بیٹے کے توسط سے فون کیا ۔جس کی وجہ سے میں بری طرح طیش میں مبتلا تھا ۔ثمینہ میرے بے شمار پیسے والے زمیندار تایا کے اجڈ ماحول کی پروردہ تھی ۔جو شادی کے کئی برس بیت جانے پر بھی بھڑکیلے کپڑے پہننا ترک نہ کر سکی ۔اب دوسری بار بابا صاحب کی میں نہیں ماننے والا تھا ۔سو ثمینہ کے اِس چالاک انداز میرے اندر دھواں بھر گیا۔جس کی خلاصی ایک بار پھر عفیفہ پر ہوئی ۔
ہوا کیا کہ کلاس ہفتم کا پرچہ بنانے میںاُس سے ایک معمولی سی چوک ہوگئی۔امتحان کے روز اُس نے مجھے فون کر کے اُس چھوٹی سی غلطی کو درست کر کے سوالیہ پرچہ بچوں کو دینے کی درخواست کی ۔۔سب کر چکنے کے بعد اگر میں چاہتا تو نظر انداز کر دیتا مگر مَیںاپنی خر دماغی میں عفیفہ اور ثمینہ کے فرق کو بھول چکاتھا ۔۔یو ں ابھی تک سبھی کی اُس سے ٹھنی ہوئی تھی ۔۔میرے رپورٹ کرنے پر سر عبدالرحمٰن نے اُسے میرے علاوہ تین اور اساتذہ کے سامنے برا بھلا کہا ۔یہاں تک کہ اُس کی اُس ڈگری کو چیلنج کر دیا جو وہاں کسی کے پاس نہ تھی ۔سر کو بھی شاید ایک یونیورسٹی کے استاد کو ڈانٹنے پھٹکارنے میں اپنا آپ معتبردکھائی دیتا ۔۔پھرمیں نے بھی جلتی پر تیل چھڑکا ۔
’’ ۔۔یو ں بھی سر فی میل ٹیچرز نے کرنا ہی کیا ہوتا ہے ۔۔ان کے چھوڑے ہوئے اکثر کام تو ہم کرتے ہیں ،پرچوں کی پروف ریڈنگ نہ کریں تو دیکھیں یہی کچھ ہوتا ہے ۔ایسی غلطیوں سے والدین پر ہمارے سکول کا کیسا تاثر قائم ہو گا ۔‘‘
سکول کے تاثرکی بات پر سر ایک بار پھر تازہ دم ہو گئے ۔ اُن کاسیشن طویل ہوتا چلا گیا ۔ وہ سر جھکائے خاموش کھڑی تھی ۔اچانک اُس نے اپنا جھکا سر اوپر اٹھایا اور میری جانب ایک نگاہ کی ۔۔اُس ایک نظر میں ایسا کچھ تو تھا جس نے مجھے ساتویں آسمان سے تحت السرٰی میںلا پھینکا ۔میں نے خود کو بامشکل زمین کی ان تہوںسے باہر نکالا ۔
’’ سر مجھے اجازت دیجیے ۔‘‘
میرے کھڑے ہونے پر سر نے اپنے سفر میں پڑاو کیا۔
’’ مس ـــــــپرچہ ’’بے‘‘ مجھے دے دیں۔میں اُسے دیکھ کر پرنٹ نکلوا لوں گا ۔‘‘
اُسے ڈھونڈنے میں مجھے پچیس منٹ لگے ۔ایک کلاس کی آخری قطار میں بینچ پر سر ٹکائے بازو لپیٹے وہ ایسے تھی کہ دو بار پہلے دیکھ کر جانے پر بھی دکھائی نہیں دی ۔دکھ اور زلت کو چھپا کر برداشت کرنے کے لیے ایسے ہی گوشے درکار ہوتے ہیں ۔اُسے مخاطب کرنے کے لیے مجھے خود کو پھر سے زمیں کسی تہہ سے نکالنا پڑا تھا ۔
اُس نے خاموشی سے پرچہ مجھے تھما دیا۔۔وہ اپنا فولڈر اور بیگ اٹھا کر نکلنے ہی والی تھی کہ مجھے پھر سے مشقت کرنا پڑی ۔
’’ کیا معافی مل سکتی ہے ؟‘‘
’’ نہیں ۔‘‘
اُس کا مختصر جواب خوش کر گیا ۔سرعبدالرحمٰن کو پٹانا میرے لیے کچھ مشکل نہیں تھا ۔یوں بھی وہ میرے خاندانی پس منظرسے واقف تھے ۔۔اور وہ تو وہ تھے جو اگر خدا بن جاتے تو کسی کو بھی پاوں میں بیٹھا سکتے تھے ۔۔اور اگر ضرورت ہوتی تو کسی کے پاوں پڑ سکتے تھے ۔لمبی سے ڈاڑھی کے ساتھ نک سک سوٹ میں تیار آتے ۔۔اور اکژ انجانے میں لیڈیزسٹاف روم میں نکل جاتے ۔کسی ٹیچر کی خوشامد کر رہے ہوتے۔۔ تو اُسی وقت کسی کے فرعون بنے ہوتے ۔
بعد کے کچھ روز نتائج کی تیاری میں کافی مصروف گزرے ۔میں عفیفہ کابوجھ کم کرتا چلا گیا ۔ہمارے کام کافی سے زیادہ کام مشترکہ تھے۔جو پہلے زیادہ تر اُسی کے کاندھوں پر تھے۔۔جنھیں غیر محسوس انداز سے اپنی جانب کر تا چلا گیا ۔
میں حتمی نتائج دیکھنے میں مصروف تھا کہ جانے کیسے احساس ہوا کہ وہ ہے ۔ گردن گھما کر دیکھا تو وہ واقعی وہاں موجودتھی ۔
’’ اِس سب کی اگر کوئی بھی وجہ ہے تو میرے لیے بے معنی ہے ۔مجھے سرزنش اور زلت سے لے کراپنے حصّے کا بار خود ہی اٹھانا ہے ۔ میں وہ نہیں کرنا چاہتی جو آپ کر تے رہے ہیں ۔‘‘
ایسے موقعوں پر میری ڈھٹائی اور مسکراہٹ غضب کی ہوتی تھی مگر میں نے خود کو بے حد خاموش پایا ۔اِس کے بعدنتائج کا تمام تر کریڈٹ اُس کے سامان میں رکھ دیا ۔اسمبلی میں سر نے عفیفہ ابراہیم کی صلاحتیوں کا اعتراف کرتے ہوئے اُسے بے حد سراہا ۔۔اور سب کے سامنے درخواست کی کہ گذشتہ برس کی طرح اِ س بار بھی سالانہ نتائج کی تقریب میںبھر پور کردار ادا کرے ۔سب جانتے تھے کہ تقریب کا انچارج میں ہوں ۔میں نے اُسی وقت سر کی پشت پر جا کر سرگوشی کی ۔
’’ اِس بار تقریب کی انچارج مس عفیفہ ہوں گی ۔سر تبریز چودھری مس کے ساتھ ہوں گے ۔‘‘
اگلے ہی لمحے اعلان تبدیل ہو گیا۔۔لیکن میں نہیں جانتا تھا کہ وہ میری سرگوشی کو سمجھ گئی تھی ۔
’’ اِس سب کی وجہ ۔۔؟‘‘
آج وہ مجھے ڈھونڈ کر میرے سامنے کھڑی تھی ۔
’’ ندامت ۔‘‘
’’ مگر ۔۔‘‘
’’ کیا انسان غلطی کر چکنے کے بعد اُس پرقائم رہے ؟‘‘
میں نے اُس کی بات کاٹ کر بداخلاقی کا مظاہرہ کیا ۔
’’ اِس کے باوجود مسٹر تبریز میں یہاں کام کرنا چاہتی ہوں ۔یہ میری مجبوری ہے شغل نہیں ۔‘‘
’’ کیا آپ مجھے آدھ گھنٹہ دے سکتی ہیں ؟‘‘
’’ نہیں ۔‘‘
اُس کا قطعیت بھرا جواب مجھے ایک بار پھر مسرور کر گیا ۔شام تک اپنے اندر کے سوئے ہوئے صحافی کو جگا چکنے کے بعد رات بھر ایک ہی بات سوچتا رہا ۔میں نے صحیح کیا یا غلط ۔
میری رپورٹ کے مطابق اُس کے دس برس سے تین برس تک کے تین بچے تھے ۔بیٹی ابھی صرف چار برس کی تھی ۔اُس کے شوہر کے انتقال کو چھ سات ماہ کا عرصہ ہواتھا۔وہ پی ایچ ڈی کرنے کے بعد اُسی یونیورسٹی سے وابستہ ہونے جا رہی تھی ۔۔اور یہاں ایک سکول میں چند ہزار کی نوکری کر رہی تھی ۔مجھے کسی طور وہ تین بچوں کی ماں نہیں لگی ۔
’’ وہ سب میرا ذوق ،ظرف اور اہلیّت نہیںتھا ۔۔مگر مجھ سے ہوا ۔کوئی وضاحت ہے نہ صفائی ۔۔صرف معافی کی درخواست ہے ۔‘‘
’’ دوسری بار کسی مرد کی آنکھ بھیگتے دیکھی ہے ۔‘‘
مجھے پتا چلا اُس کی ایک نظر سے کچھ نظر انداز نہیں ہوتا ۔
تقریب بے حد کامیاب رہی۔سب کے بے حد اصرار پر عفیفہ نے صرف ایک نعت ہی سنائی ۔۔وہ اور میں دونوں سمجھے کہ اُس کی مشکلات کم ہونے جارہی ہیں ۔پہلی بار ہم دونوں اکھٹے غلط ثابت ہونے جا رہے تھے ۔
ٓمیرے بار بار پوچھنے پر بھی جب اُس نے کچھ نہ بتایاتو میں نے اُس کی زندگی کو کھوجنا شروع کیا ۔دریافت تلخ حقائق سامنے لا رہی تھی ۔میں پھر سے شرمسار ہونے لگا ۔اُس کے شوہر کی پسند کی شادی تھی اِس لیے عفیفہ کا اب اپنے سسرال سے کوئی تعلق نہیں تھا ۔اُس کے چار بھائی دو بہنیں تھیں ۔۔اُس کے کچھ نہ بتانے پر بھی میں نے جان لیا ۔وہ پی ایچ ڈی تھی ۔اور ایک مقامی سکول میں چند ہزار کی ملازمت کر رہی تھی ۔
اُسے دیکھ کر کبھی نہیں کہا جا سکتا تھا کہ وہ تین بچوں کی ماں ہے ۔ ایک حلاوت اور پاکیزگی تھی جو معصومیت کی ردا اوڑے اُس کے چہرے کا طواف کرتی رہتی ۔اُس کی آنکھ ہمہ وقت ایک حزن کا تاثر لیے رکھتی جس کے لیے شاید وہ بے اختیار تھی۔۔ورنہ وہ اُسے بھی اپنی شخصیت کی مانند نہاں رکھتی ۔اِس کے علاوہ جانے اللہ نے اُسے کیسا رعب اور وقار دیا تھا کہ ہزاروں میںتوجہ کا مرکز بن جاتی ۔۔پھر پتا چلا یہ اُس کے لیے تکلیف کا باعث بن جاتا ہے ۔وقت کا ساز دھیمے دھیمے بجنے لگا۔میری جانب سے ایک غیر محسوس دوستی کا آغازتسلسل میںتھا ۔جیسے جیسے اُ س کے ساتھ کام کرتا گیا اُس کی قابلیت اور صلاحیتوں کا تجربہ ہونے لگا ۔اُن تجربات کا مشاہدہ میرے لیے باعثِ کشش ثابت ہونے لگا ۔وہ اپنی صلاحتیوں کے بارے میں خوش گمان نہیں تھی ۔اِس کی وجہ بھی ہنوز پوشیدہ تھی ۔۔مگر میں اب اُس کے لیے قیاس نہیں کرتا تھا ۔وہ اتنی ہی مختلف تھی ۔۔ہر پل قیاس کی حد کو توڑ دینے والی ایک نئی دریافت ۔
سر رحمٰن اُس کی صلاحتیوں سے گویا اُس کے انٹرویو کے روزسے ہی آگاہ تھے ۔تقریری مقابلہ ہو یا شعرو شاعری ،گلوکاری یا بیت بازی ،ڈرامہ ہو یا کوئی تقریب منعقد کرنا۔۔ وہ کرسکتی تھی اور سب اُسی کے کاندھے پر تھا اُسی اکلوتی تنخواہ میں ۔۔جو دوسری ٹیچرز کو یہ سب کیے بنا ملا کرتی۔آخر کار میری غیر محسوس سفارش پر اُسے بچوں کی کاپیاںدیکھنے کے لیے ایک جونئیر ٹیچر فراہم ہونے جا رہی تھی ۔
’’آپ یہ سب کیوں کر رہے ہیں ؟‘‘
ایک صبح وہ اسمبلی کروا کے ہائی کلاس کی بچیوں کو اُن کی جماعت میں روانہ کرنے کے بعد میرے سامنے تھی ۔
’’ بولیے ۔‘‘
وہ مجھ سے جواب مانگ رہی تھی جب کہ میں اُس کے سرسری دھیمے لہجے کی بردباری ،تحمل اور اندازِ گفتگو کے ٹھہراو میں ٹھہرارہا۔
’’ کیا گفتگو کا یہ بھی انداز ہو سکتا ہے ۔میں نئی دریافتوں کا اسیر ہو ا۔‘‘
’’ جو بھی ہے وہ آپ کا حق ہے ۔‘‘
نگاہ اٹھانے پر صبح ماند پڑگئی ۔میں نے اُ س کی آنکھ کے مستقل حزن سے نکل کر چہرے پر راکھ کے نشان ڈھونڈ لیے ۔
’’ آ پ رو تی رہی ہو ؟‘‘
میں نے کوشش کی کہ میرا لہجہ بے تاثر رہے ۔مگروہ یوں لرزی جیسے اُس کے اندر سے میت اٹھی ہو ۔ پتا چلا وہ خود سے کہنا اور ایساکچھ سننا پسند نہیںکرتی ۔میری غیر جانبدارانہ اداکاری نے اُسے مسرت بخشی ۔معلوم ہو ا وہ اپنا راستہ بنانا بخوبی جانتی ہے ۔۔یہ صاف نظری اُس کی منتخب راہ کا حصّہ تھی ۔لیکن اُس کا قصور یہی تھا کہ وہ معیار کی بلندی پر تھی ۔مختلف ٹیچرز اُس سے حسد کرتے تھکنے لگی تھیں ۔اُن کی آتے جاتے کہی گئی ذومعنی باتوں کا اُ س کے پاس کوئی جواب نہ ہوتا ۔ایک وقت میں دو یا تین کام کرنا اُ س کا معمول تھا ۔کلاس لیتے ہوئے کسی دوسری جماعت کے کمزور بچوں کوپڑھانا یا غیرنصابی تیاری کروانے کا نتیجہ یہ نکلا کہ سررحمٰن اضافی کاموں کے لیے اُسے اضافی وقت یا فیس دینے کے روادار نہیں تھے ۔
۔۔پھر پتا نہ چلا اور مجھے اُس کی کھوج کی لگن لگ گئی۔اِس کھوج میں پہلے ہمدردی اورپھر اُس کی قابلیت کا شہرہ ہوا۔ اُس کے بعد میں اُس کی اِس قابلیت کا اسیر ہوتا چلا گیا ۔بلاشبہ میں نے کسی عورت کو ایسا معیاری اور ہمہ جہت نہیں دیکھا تھا ۔جب کہ عسرت کی زندگی نے اُس کے چہرے سے لے کر مزاج کو بھی جھلسا دیا تھا ۔اُس نے کبھی کسی کے روبرو اپنی ذات اور ذاتی زندگی کا سُر نہیں چھیڑا تھا ۔کبھی اپنے بچوں کی بات بھی نہیں کرتی تھی ۔
وقت دھیمی چال چل رہا تھا یا کم ازکم مجھے ایسا ہی لگتا ۔ڈیڑھ برس کے ابتدائی چند ماہ نکال کے اب کبھی ثمینہ یا والد کے ساتھ ٹھنی نہیں تھی ۔روز رات کو بچوں سے بات کرتا اور اُس کے بعد عفیفہ کو سوچنا کھوجنا میرا دل پسند کام تھا ۔جسے میں رو زانہ کی بنیاد پر کیا کرتا ۔وجہ جاننے کے خیال کو میں نئے خیال میں تبدیل کر دیتا ۔حقیقت تو یہ تھی کہ بحیثیت ِ انسان اُس کی شخصّیت کے انوکھے اسرار کو جان کر میں اوپر والے کی قدرت کو ماننے لگا تھا ۔میںوہ انسان تھا جو کسی کو شمار میں نہیں لاتا تھا ۔ایسے میں ہمارے معاشرے کے لحاظ سے عورت کو میں بھی وہی درجہ دیتا تھاجو سبھی عام سے مرد دیا کرتے ۔ علم ،قابلیت ،شعور اور محنت جیسے لفظوں کا مطلب پہلی بار سمجھا اور سمجھا بھی کیا خوب ۔۔کہ عورت کوبس ثمینہ جیسی سمجھنے والا کیا ہی خوب سمجھا ۔پہلی بار میری تصحیح ہوئی کہ عورت صرف کپڑے جوتی ۔جیولری اور گپ شپ کا نام نہیں ۔۔بلکہ ہم جیسے کئی ایک مرد جو مردانگی ٹائپ کے زعم میں کھا پی کر گھر چلانے کو انسان کا مقصد سمجھ کرمر جان والوں کو عفیفہ نے سمجھایا کہ انسان پیسہ بنانے اور کھا پی کر مر جانے کے لیے نہیں پیدا کیا گیا۔
عفیفہ کے زیرِ تعلیم بچے بہت جلد اپنے چہروں پر ایک نور سا لیے گھومنے لگے تھے ۔پہلے اُن کا لب و لہجہ تبدیل ہو اپھر نشست و برخاست بھی بدل گئی ۔اُنھیں پتا چلا کہ کرسی پر بیٹھنے سے لے کر اٹھنے کے کیا آداب ہیں ۔سر عبدالرحمٰن تنخواہ بڑھانے کے علاوہ سبھی طرح سے عفیفہ کے معترف تھے ۔اُس کے لیے کچھ آسانیاں ضرور مہیّا کر دی گئی تھیں ۔میں عفیفہ کی ذات کی بدولت نئے جہانوں کی دریافت کرنے میں مصروف تھا کہ والد صاحب مایوس ہو کر میری واپسی کے انتظار سے تھکنے لگے ۔قرینِ قیاس تھا میں اُن کی توقعات پر پورا ترتا اگر عفیفہ نہ ہوتی ۔
۔۔پھرقدرت نے ہمارے لیے نئے فیصلے صادر کرنے شروع کر دیے ۔ظاہری اور باطنی طور پر دو تبدیلیاں رونما ہوئیں ۔سر رحمٰن کے سکول کی کوئی پرانی ٹیچر جن کا بات بے بات ذکر بھی سنتے رہے تھے ۔جو نو برس سکول کو دینے بعد کوئی دو سال پہلے کسی تلخی کی وجہ سے سکول چھوڑ کر چلی گئی تھیں ۔میری تحقیق نے بتایا کہ سر اُن پر بہت انحصار کرتے تھے ۔ وہ سکول کے قریب رہائش رکھتی تھیں ۔بڑی عمر کی پختہ خاتون تھیں ۔بچے نہیں تھے ۔اِس لیے مستقل بنیادوں پر سر کا دایاں بازو تھیں ۔تلخی اور علیحدگی پر سر رحمٰن اور مس تنویر دونوں کا حال گدڑی او ر فقیر کا سا ہو گیا ۔سوگدڑی یعنی مس تنویر ایک دن چپکے سے واپس اپنی مقبولیت یعنی فقیر عرف سر رحمٰن کے پاس چلی آئیں ۔اُن کے آتے ہی سکول کا منظر نامہ بدل گیا ۔ایک بار پھر سکول کی باگ ڈو ر بہت حد تک اُن کے ہاتھ میں چلی گئی ۔کسی کو کچھ فرق پڑا یا نہیں مگر دو فریق اِس کی زد میں آ کر کچلے جانے لگے ۔پہلے نمبر پر عفیفہ مس تنویر کے حسد کا نشانہ بننے لگی ۔اُس کی قابلیت اور ڈگری دونوں ناقابلِ برداشت ہو گئیں ۔دوسرے نمبر پر وہ بچے جو اعلٰی کی طرف گامزن تھے ایک بار پھر سے رٹہ سسٹم میں داخل کر دیے گئے ۔سر نے مس تنویر کی رائے کے مطابق سکول کو دو حصّوں میں تقسیم کر دیا گرلز سیکشن تمام کا تمام مس تنویر کے پنجوں میں دے کر سررحمٰن پُرسکون ہو گئے ۔عفیفہ کو ہائی کلاس سے اٹھا کر پانچویں جماعت دے دی گئی ۔اُس کی اضافی سرگرمیوں کو لعنت ملامت کی گئی اور وہ بھی اسی کے طالب علموںکے سامنے۔۔۔
میں نے اُسے ایک بار پھر اُسی بینچ پر دریافت کیا ۔اُس کی آنکھ کا ٹھہراحزن چہرے کا احاطہ کیے ہوئے تھا ۔جانے کیا ہوا کہ میری آنکھ کی کور اُس درد کی تاب نہ لاکر بھیگ گئی ۔
’’ یہ جگہ آپ کے معیار اور تعلیم کے منافی ہے ۔۔اور آپ کو اِس بات کا کب تک پتا چل جائے گا ؟‘‘
’’ مس تنویر نے پرچے پر بات کرنے کے لیے بھیجا تھا ۔میں بنا کر دکھا دوں گا ۔ رات تک اپنے سلیبس کا بتا دیجیے گا ۔‘‘
ٹھہرے رہنے کی پرُ زور خواہش کو رد کرتے ہوئے اُس دن رجسٹر میں وقت لکھے بنا ہی چلا آیا ۔رات کو ہر بار کی طرح اُس کے تصّور میں کسی چیز کا تو اضافہ ہوا تھا ۔اُس کی قابلیت اور انسانی خصوصیّات کے سراہے جانے کی سوچ کا دھارا درد میں تبدیل ہو گیا ۔رات کے آخری پہر کا انکشاف بھیانک تھا ۔۔اور پھر میں
رات کے اُس پہر کا درد سہتاہی رہا تھا ۔
’’ کیوں ؟‘‘
صبح آنکھوں میںطلوع ہوئی تو میں اِس ’’کیوں ‘‘کے حصارمیں کشاں کشاں خود کو سکول کے گیٹ پر پایا ۔ستائس اٹھائس سالہ عفیفہ ابراہیم چودھری کو دیکھتے ہی ’’کیوں ‘‘نے اپنی وضاحت جس انداز سے کی۔۔ وہ مجھ جیسے ٖپینتیس سالہ چالاک صحافی کی برداشت سمجھ سے آگے کی چیز تھی ۔سنا تھا کہ جستجو کا سفر داستان ہوتا ہے ۔’’
’’ پرچہ دکھا دیں ۔‘‘
’’ کیا ہوا ؟‘‘
میرے سکوت پر وہ رک کر مجھے دیکھنے لگی ۔میں دیکھتا رہ گیا کہ وہ گذشتہ رات سے ہی مجھے دیکھتی رہی ہے ۔ایک اور انکشاف میرے اندر چلنے والی ہموار دھڑکن کو درہم برہم کر نے لگا ۔دل کا شور مجھے بدحواس کرنے کے درپے تھا ۔مردانگی کہیں دور کھڑی میرا منہ چڑا رہی تھی ۔
’’ تبریز صاحب مجھے تاخیرہو رہی ہوں ۔‘‘
’’اُس کے بچے انتظار کررہے ہوں گے ۔‘‘
میں عالمِ ظہور میں آتے ہی پھر اُس کی ذات سے ہی وابستہ ہو چکا تھا ۔
پتا چلا محبت ایک خطرناک چیز ہے ۔خالق نے مجھے میرے بُت سے نکال کر ازسرِ نو اُس کے وجود میں قید کر دیا ۔
جانے کیسے اُس دن پہلی بار اُس نے مجھے تفصیلاََگفتگو کا موقع فراہم کیا ۔پتا چلا وہ بھی تھک جاتی ہے ۔اُسے بھی کسی کے سہارے کی ضرورت ہے ۔۔ہاں مگر اعتبار کسی پر نہیں کرتی ۔یہ بھی پتا چلا کہ وہ مرنے کی حد تک بیزار تھی ۔زندگی سے ۔خودسے ۔۔رشتوں سے ۔۔مگر اُس کے اندر کی ماں کو مرنے اجازت نہیں تھی۔
’’ کیا میں اِس کو کہہ دوں ؟‘‘
میں نے اُسے بغور دیکھتے ہوئے سوچا ۔
’’ سر صفدر ۔۔۔‘‘
اُس کے ادھورے جملے نے میرے اندر دھواں بھر دیا ۔
وہ کہاں کہاں کس کس محاز پر لڑ رہی تھی ۔
’’ مس تنویر کے بعد یہ وہ شخص تھا جس پرسر رحمٰن بہت اعتبار کرتے تھے ۔سر رحمٰن کے مقابلے پر ڈاڑھی تھی ۔اسلامیات کے ٹیچر تھے ۔۔اور جوش بیاں اور خطابت کے علاوہ اپنے کرادار کے لیے بے شمار متقدین رکھتے تھے ۔
’’ سب ٹھیک ہو جائے گا ۔ میں صفدر کو دیکھ لوں گا ۔‘‘
’’آپ کا دیکھنا کسی سے دیکھا نہیں جائے گا ۔۔اور پھر مجھے جس طرح دیکھا جائے گا ۔یہ الگ ۔۔‘‘
’’ آپ کیا کرنے والی ہو مس ۔۔؟‘‘
’’ پتا نہیں کیا کروں گی ۔۔؟کیا کرسکتی ہوں ؟معجزوں پرمجھے یقین نہیںرہا ۔‘‘
وہ چلی گئی اور اپنے پیچھے اپنا ’’ رہا‘‘ چھوڑ گئی ۔میں جو اُس کی شخصیت میں پنہاں روحانیّت کا اسیر تھا ۔جس نے مجھے قدرت کے قریب کیا ۔اُسی روحانیت کو بکھرتے دیکھ رہا تھا ۔رات بھر مخصوص منزلوں کا اعادہ کرنے کے بعد میں سمجھ چکا تھا کہ سب کچھ محض ایک کھیل نہیں ۔کمرے میں ہولناک سنّاٹا تھا ۔کمرے کے ساتھ ساتھ میرے اندر فون کی گھنٹی سے ارتعاش پیدا ہوا ۔
’’ بیٹا لوٹ آو ۔‘‘
میں بولا اور پھر بولتا چلا گیا۔جانے میرے لہجے میں کیا تھا کہ والد صاحب کا وہ لہجہ سننے کو ملا جو میری عمر میں نیا تھا ۔یہاں تک کے تعطیل کا دن تمام ہوا ۔کمرے میںاندھیراچھا رہا تھا ۔میں نے مٹھی میں دبی کرنیںمیز پر رکھ دیں۔ہاں کل سہہ پہر تین بجے غلطی سے اُس کا دوپٹہ میری مٹھی میں آگیا تھا ۔تب سے اب تک میں اُس ہاتھ کو محسوس کر رہا تھا ۔کرنوں نے میرے اندر اور باہر کمرے کو بھی اجال دیا ۔
اگلے روز میری بات کو تحمل سے سن کر اُس نے ایک جملہ کہا اور کلاس کے لیے چلی گئی ۔وہ جملہ میرے گرد ونواح میں یوں گرد ش میںتھا ۔۔جیسے کوئی بگولہ میرے ارد گرد ناچ رہا ہو ۔۔جس سے میرا دم گھٹتا جا رہا تھا ۔
’’ آپ میری دھن میں رہنا بند کر دیں ۔‘‘
اُس کی آگاہی نے مجھے میرے خول میں بند کر دیا ۔
شام تک میں خود کو سمجھا چکا تھا کہ بہرحال اِس میں کچھ خاص نہیں ۔۔مجھے علم تو ہے کہ وہ کوئی معمولی عورت نہیں ۔اور یہی وجہ ہے کہ اُس نے میری محبت کو تسلیم کرتے ہوئے بھی رد کر دیا ۔کیونکہ اُس کے خیال میں یہ میراذاتی فعل اور سوچ ہے ۔
’’ مجھے محبت سے بڑھ کر آپ سے عقیدت ہے ۔‘‘
’’ اوہ تو یہ مسکراتی بھی ہے ۔‘‘
میں نے پہلی بار اُسے مسکراتے دیکھ کر سوچا اور پھر یہ بھی سوچا کہ اِس کی آنکھیں تو مسکراتی نہیں ۔میں ایک بار پھر سے اُسی کا اسیر ہو گیا ۔محبت واقعی کسی کو تبدیل کرسکتی ہے ؟وہ دو برس مجھ پر انکشافات کا دور تھا ۔گھر واپس آ کر والد صاحب سے معافی مانگی ۔ثمینہ سے بھی اپنا رویہ بہتر کیا ۔
’’ عفیفہ تم نے مجھے جانور سے انسان بنا دیا ۔‘‘
میں اب ایک نئی طرح سے اُس کی ذات میں تھا ۔
’’ میں آپ کے لیے نئی بہتر ملازمت بندوبست کر چکا ہوں ۔یہاں مس تنویر یا صفدر سے کب تک نبرد آزما رہیں گی ۔‘‘
میری بات کے جواب میں اُس نے مجھے بتایا کہ اب وہ اپنے اندر صرف ایک ماں کو دیکھتی ہے ۔
اُس کے جواب نے مجھے ہلا دیا ۔وہ کتنی دور تک ذہنی رسائی رکھتی تھی ۔چند روز کی رخصت کے بعد میں سرعبدالرحمٰن سامنے تھا ۔عفیفہ کو قائل کرنا چاہتا تھا ۔فائنل امتحان میں مس تنویر نے اُسے خوب رگیدا ۔اُن کی شہہ پر جونئیر ٹیچرز نے بھی بہتی گنگا میں اچھے سے ہاتھ دھوئے ۔
’’ آپ کیسے اور کیوں نہیں سمجھ پا رہیں کہ یہ چھوٹی جگہ ہے ،ایک عمر بھی بتا دیں گی تو پیسے ہاتھ آئیں گے نہ ہی عزت ۔۔۔میں نے سرگوشی کی ۔ایک دو ٹیچرز کی موجودگی مسلسل بنیاد پر تھی اور مجھ سے مزید صبرکا یارا نہیں تھا ۔اسی اثنا سر عبدالرحمٰن گزرتے گزرتے ہماری طرف آ گئے ۔ابھی کچھ دیر پہلے بھی گزرتے ہوئے آئے تھے ۔اب کہ پھر اِدھر آ گئے ۔عفیفہ جانے کس سوچ میں تھی یا کیا سوچ کر کھڑی نہ ہوئی ۔۔باقی ٹیچرز بھی بیٹھی رہیں جو کہ جونیئرز تھیں ۔
’’ مس عفیفہ آپ میرے دفترمیں آئیں ۔‘‘
جانے وہ کس مقصد سے آئے تھے مگر میں نے جاتے ہوئے اُن کے رہ جانے والے تیور ملاحظہ کر لیے ۔میں غیر محسوس انداز سے عفیفہ کے پیچھے دفتر میں داخل ہوا ۔وہاں پہلے سے ایک دو میل اساتذہ موجود تھے ۔سر نے انھیں جانے سے روکا اور عفیفہ کو بیٹھنے کے لیے نہ کہا ۔۔اور جو کہا وہ کیا ہی کہہ ڈالا ۔
’’ مس آپ کو قابلیت اور اخلاقیات کا معیار سمجھتا ہوں ۔آپ ہی جب میرے آنے پر کھڑی نہیں ہوئیں تو آپ کی دیکھا دیکھی جونئیرز نے بھی وہی کچھ کیا ۔یہ آپ کون سی روایت ڈالنا چاہ رہی ہیں ۔‘‘
’’ سرآپ دو منٹ پہلے ہی تو گئے تھے ۔بلکہ وہیں سامنے کھڑے تھے ۔‘‘
میں نے مداخلت کی تو سر نے جو غصّہ پیا وہ اُن کے چہرے کی سرخی سے جھلکنے لگا ۔اس کے بعد چار مرد حضرات کے سامنے عفیفہ نے کھڑے کھڑے وہ سب سنا جس کی وہ ہرگز مستحق نہیں تھی ۔
’’۔۔۔ میں رحمٰن ہوں رحمٰن ہی رہوں گا ۔یہ یاد رکھیں ۔اب آپ جا سکتی ہیں ۔‘‘
سر کے اس جملے کے بعد رخصّت ہوتے ہوئے چند پل کے لیے میری نظر اُن کی شاہانہ کرسی کے پیچھے لگی سورہ الرحمٰن کی تختی پر ٹھہر ی تھی ۔دیکھا تو دکھائی دیا کہ چند اور لوگوں کی نگاہ بھی اُسی تختی پر تھی ۔
آنے والے دو تین روز میں یہ بات مس تنویر کے منہ سے بار بار تذکرے کے طور پر نشر ہوتی رہی ۔میں دو دن کی چھٹی کے بعد سکول ایک عزم لے کر آیا تھا کہ یہ اُس سکول میں میرا اور عفیفہ کا آخری دن ہو گا ۔بیٹی علیل نہ ہوتی تو دو دن کیا ایک دن کی چھٹی نہ کرتا ۔
بہرحال انکشاف حیرت انگیز طورپر خوش کُن تھا ۔کچھ صدمہ بھی ہوا ۔عفیفہ سکول چھوڑکرجا چکی تھی ۔۔اور سر نے اُس کی رہ جانے والی تنخواہ نہیں دی ۔
میرے فون کے جواب میں اُس نے اپنے گھر کے قریب ایک انگلش میڈئم سکول کا نام لیتے ہوئے بتایا کہ وہ وہاں کام کر رہی ہے۔اصرار کے باوجود وہ میرے ادارے کے ساتھ وابستہ نہیں ہونے والی تھی ۔گھر اُس کے جا نہیں سکتا تھا ۔سوکچھ روز بعد اُس کے سکول میں تھا ۔۔اور اُس کی حالت پہلے سے برُی دیکھ کر میرا دل برُاہی نہیں ہوا طیش بھی آیا ۔وہ بخار میں بھی چھٹی کے دن کام کر رہی تھی ۔پی ایچ ڈی استاد کو دروازے سجانے پر لگا رکھا تھا ۔
’’ آپ میرے ساتھ ایسا رویہ روا رکھنے کا حق نہیں رکھتے ۔‘‘
عفیفہ کے جواب سے مجھے اپنی حیثیت اور غلطی کا اندازہ ہوا ۔‘‘
میں نے اُس کے لیے دو برس میں یہی کیا تھا کہ ابتدا ئی چند ماہ کے بعد اُس کے مخالف ٹولے سے ہاتھ چھڑا لیا تھا ۔جب کہ اُس کے ساتھ نے مجھے دو پاوںوالے جانور سے انسان بننے میں مدد دی ۔۔اور آج میں غصّے کا حق استعمال کر رہا تھا ۔۔نہیں جانتا تھا کہ اتنے چھوٹے بچوں کے ساتھ وہ صبح سویرے سب سے پہلے کیسے سکول پہنچتی ہو گی ؟کیوں کر ایک قلیل تنخواہ میں زندگی بسر کر رہی ہو گی ؟ کس طرح اکیلی تین بچوں کے ساتھ رہتی ہو گی ؟گھر کے کام جن کامیری بیوی ملازمہ کے باوجود رونا روتی رہتی تھی ۔۔کیسے،کیوں کر نبھاتی ہو گی ۔۔؟تین گھنٹوں کے بعد جب میں اپنے دوست سے میٹنگ کے بعد وہاں کی ایک مارکیٹ سے نکل رہا تھا تو عفیفہ کو سبزی کے بڑے بڑے شاپنگ بیگ اٹھائے دوپٹہ درست کرتے کبھی بیگ ایک سے دوسرے ہاتھ میں منتقل کرتے تیز تیز چلتے دیکھا تو سمجھ نہ سکا خود کو کتنی بار لعنت ملامت کروں ۔مجھے کیوں اُس کی زندگی سکول کی حد تک محدود دکھائی دیتی رہی ۔ایک کلومیٹر کے قریب پیدل چلنے کے بعد وہ ایک گھر کے دروازے کو چابی سے کھول کر اندر داخل ہوئی ۔۔جی چاہا اُس کے ساتھ ہی گھر کے اندر کی زندگی کو دیکھ لوں ۔۔مگر عفیفہ کے جگائے ضمیر نے فوراََ دستک دی ۔
اُس کو اُس کی زندگی میں دیکھنا اور بات ۔۔کھوجنا اور بات تھی ۔‘‘
میری محبت ایک پہاڑ کی مانند میرے سامنے کھڑی تھی ۔میں اِس کا منوں بوجھ اپنے سینے پر محسوس کرتا رہا ۔حل ڈھونڈتے اُس رات کے بعد ایک مایوس صبح طلوع ہوئی ۔
’’۔۔ تو تم کیا اُس سے شادی کرنا چاہتے ہو ۔یا صرف مدد ۔۔‘‘
’’ ابّو کے سامنے اپنے دوبرس اور تمام اعترافات رکھ دیے تھے ۔‘‘
’’ صرف مدد ۔۔‘‘
میں نے دروغ گوئی کو مصلحت جانا ۔
’’ ٹھیک ہے تم نے جانا تھا ۔۔تم دبئی جاو ۔عفیفہ کی مدد عزت کے ساتھ ہوتی رہے گی ۔میرا وعدہ ۔‘‘
’’ مگر میں اب نہیں جانا چاہتا ۔‘‘
’’اِ ُس کے اور تمھارے دونوں کے لیے ہی بہتر ہے کہ چلے جاو ۔جب تک وہ مستحکم ہو جائے گی ۔۔پھر آ کر دیکھ لینا ۔‘‘
میں ایک بار پھر ایک مایوس کنُ صبح میں طلوع ہوا تھا ۔ دبئی میں بیتے دو برس میرا منہ چڑا رہے تھے ۔جب جب میں خود کو نیک اور پارسا مان کر ،مکمل جان کر ہر برا کام ضروری سمجھ کر کرتا رہا تھا ۔۔لمحوں کے سرکتے عفیفہ ابراہیم چودھری کی یاد پر تفریح غالب آتی چلی گئی تھی ۔۔ شاید اوپر والی ذات کو میری رسوائی منظور نہیں تھی ۔سو مجھے ایک بار پھر وہیں سے شروع کرنے کے لیے کھڑا کر دیا گیا تھا ۔
’’ ۔۔آپ نے تو کہا تھا کہ وہ آپ کے پاس دفترمیں ہے ۔۔‘‘
’’ وہ آئی تھی مگر ایک ماہ بعد ہی چلی گئی ۔۔تم نے کبھی کچھ کہا نہیں تھا سو مجھے لگا کہ ۔۔۔‘‘
والد صاحب کے سچ تک میں رسائی نہ کر پایا تو چپ چاپ اپنے قدموں کی چاپ میں گم ماضی کو کھنگالتا ایک پارک کے بینچ پر بیٹھ گیا۔ یہاںایک پانچ ساڑھے پانچ برس کا قصّہ تھا ۔دو برس میرے سامنے تھے ۔دو برس کا قصّہ سب عیاں تھا ۔بِیچ کے ڈیڑھ برس کی کہانی میں ایسا کیا ہوا کہ عفیفہ سویراابراہیم چودھری بن گئی ۔وقت لمحوں کی صورت گزرتا رہا ۔دھوپ شام کے دھندلکے میں تبدیل ہونے لگی ۔اِس دوران میرے سامنے کے مناظر تبدیل ہوتے رہے ۔مگر میں ،میرا بینچ اور عفیفہ سے جڑا میرا سچ تبدیل نہ ہوا ۔میں نے خود کو گھسٹ کر اٹھایا اور سوچا کہ کہ مجھے دراصل کیا سوچنا تھا ؟سوکھے پتوں کی چرمراہٹ سے قدم ڈول گئے تو پتا چلا کہ کیا سوچنا تھا ۔بات تو وہیں سے شروع تھی جہاں قدم مکتب کی سمت سے ڈول گئے تھے ۔اب الٹی نہیں ضربِ دو کی گنتی تھی ۔
شام ڈھلے پینٹ کی جیبوں میں ہاتھ گھسائے فٹ پاتھ پر چلتے میں اپنے اندر سے اپنے آپ کو تلاش کر رہا تھا ۔وہ تبریز کیسے میرے ہاتھ سے پھسل گیا جسے عفیفہ نے تراشا تھا ۔آج پھر مجھے اُس کی تلاش تھی مگر وہ پکڑائی نہیں دے رہا تھا۔نگاہ جھکانے پر پاوں کے نیچے چرمراتے پتے میری ہنسی اڑاتے محسوس ہوئے ۔نگاہ اٹھانے پر پاس آتا جاتا ہر فرد میرا تمسخر اڑاتا دکھائی دیا ۔محبت نے مجھے تبدیل کر دیا تھا ۔دو برس میں مَیں مکمل کچھ اور تھا ۔مگر گذشتہ ایک روز کی مایوسی نے مجھ پر زیادہ تیزی سے اثر کیا ۔میری ہستی اُس صحرا نورد کی سی تھی جسے پانی کے قریب لا کر بھٹکا دیا گیا ہو ۔ہاں وہ لمحہ ضرور آتا ہے جب اچھے کو اچھا ہونے کا ثبوت دینا پڑتا ہے ۔۔اور جانے کس کس کے ہاتھ سے وہ لمحہ پھسل جاتا ہو گا ۔
شام کا ملگجا ندھیرا مجھ جیسے چھوٹے شخص کے سائے کو بھی بلند کر رہا تھا ۔میں اپنی زندگی کی اِس شام چھوٹے مگر طویل تبریز میں دو برس کے مختصر مگر اصل میں بڑے تبریز کوتلاش کرتا رہا ۔اِس کے لیے کچھ تو ساز و سامان میرے پاس تھا ۔رات کھانے کے دوران ابّو کی مسلسل صحافیانہ نظروں کو نظر انداز کرنے کے بعد میں اپنے پاوڈروم میں تھا ۔عفیفہ کے ساتھ بتائے دو برس کا سامان جن بیگوں میں تھا وہ میرے سامنے کھلے پڑے تھے ۔دونوں بیگ ماضی سے اٹے پڑے تھے ۔باہر جا نے کے بعد اس ماضی سے دامن چھڑانے کے لیے چار پانچ عشق تو کیے ہی تھے ۔جو یہاں آنے کے ساتھ ہی فراموش ہو گئے ۔
یاداشت کی آخری کرن جو ذہن میں چمکی وہ عفیفہ کا سکول میں دروازے سجانے بنانے کی تھی ۔رات بھر میں دانستہ ماضی کے دو برس زندہ کرتا رہا۔ دماغ کے ’’ کیوں ‘‘ کی ایک نہ سنی بس دل کی کی۔۔ایسے میں میں اُس کے ماضی اور حال کا موازنہ بھی کرتا چلا گیا ۔ ۔جس نے مجھ پر افسردگی کی گرد ڈال دی ۔اِس کے بعد یہ ہر شب کا معمول ہو گیا ۔۔پھر کسی بھی وقت تنہائی میںیہ کیفیت طاری ہونے لگی ۔بیگ کھولتا تو ان میں رکھی کتابیں شور و غوغا کرنے لگتیں ۔صبح اٹھتا تو پہلا احساس سر میں دھمک کا ہوتا ۔جو رات بھر کی محبت و محنت کا شاخسانہ ہوتی ۔اُس دن بھی میں چپ چاپ بیٹھا تھا ۔ذہن کچھ سوچنے اور کرنے کی صلاحیت سے خالی تھا ۔اذان کی آواز سنائی دی تو اندازہ ہوا کہ یہ سب ایک شعوری کوشش تھی۔ اس میں روحانیت یا محبت کا عمل نہیں تھا ۔میں خواہ مخواہ مجذوب بن رہا تھا ۔میرے اندر ٹل کھڑکنے لگے ۔بلند ہوتی اذان کے ساتھ دل کا شکرا پھڑ پھڑا کر رہ گیا ۔پتا چلا وہ محض زندگی کا ایک مرحلہ نہیں تھا ۔کہیں اوپر و الا مجھ پر مہربان ہے ۔چندگھنٹوں کی خالی نشست کے بعد دو برس کے تبریز نے صدا دی ۔
’’ یہ درحقیقت کچھ پانے اور کھو دینے کے بعد ایک مخصوص صورتِ حال میں منتخب رویہ ہے۔‘‘
’’ شکریہ ۔۔‘‘
میں اُس کا شکریہ ادا کرتے ہوئے دو برس کا پھیلا سامان حفاظت سے سمیٹ رہا تھا کہ عفیفہ کا مس تنویر کے لیے غصّے کے اظہار پر جواب سنائی دیا ۔
غلط نمبر کی عینک اور نظریئے میں کوئی فرق نہیں ہوتا ۔ہر منظر دھندلا اور ہر چہرہ بگڑا ہوا ہی دکھائی دیتا ہے ۔‘‘
۔۔تو یہ طے تھا کہ عفیفہ ہی میرے لیے مینارہ ٔ روشن ٹھہری ۔
’’ ۔۔تو اب تم تجسس اور تشویش میں ہو ۔دو برس کا تبریز بڑا ہو رہا تھا ۔۔ہاں !مجھے خوشی ہوئی کہ اوپر والا مجھ پر مہربان تھا ۔
’’ میں جلد ان میں سے ایک پر آنے والا ہوں ۔‘‘
میں مسکرا یا تو لگا وہ دو برس کا تبریز جی اٹھنے پر کھل کر سانس لے رہا ہے ۔یہ محض فہم و ادراک کا ایک مرحلہ تھا ۔۔منزل نہیں ۔
عفیفہ سے ملاقات ہوئے سات روزبیت چکے تھے ۔خانہ جنگی کے بعد آٹھویںروزسے بیبا بچہ بن کر دفتر جاتا اور ایک ہوشیار صحافی کے فرائض خوش اسلوبی سے نبھاتا ۔جس پر والد صاحب بہرحال نہال تھے ۔یہ بھی کہ میں نے عفیفہ کے بارے استفسار کو طول نہیں دیا ۔۔البتہ لوگوں کو شاید حیرانی تھی کہ میں ہر وقت سیل فون کو پکڑے گھورتاکیوں رہتا ہوں ۔اِس دوران وہ مجھے اکثر ٹی وی چینلز پر نظر آئی ۔ ہر چینل پر اِس کا انٹرویوچل رہا ہوتا ۔۔میں ظاہر و باطن دونوں طرح سے اُس کے ساتھ تھا ۔اُس وقت بھی میرے دفترمیں سامنے لگی ساٹھ انچ کی ایل ای ڈی پر وہی دکھائی دے رہی تھی ۔
’’ سر ہمارے چینل پر اِن کا انٹرویو روک دیا گیا ۔۔جب کہ سب سے پہلے میں نے ہی ان کا انٹرویو کیا تھا ۔‘‘
دلنواز کچھ افسردہ تھا ۔
’’ ہم کچھ روز بعد میں چلائیں گے ۔۔مزید نئی معلومات میں دوں گا ۔نام تمھارا ہی رہے گا ۔فکر نہ کرو ۔‘‘
’’ سر وہ ذاتیات پر بات نہیں کرتیں ۔‘‘
’’ دیکھتے ہیں ۔‘‘
میں والد صاحب سے ملاقات چاہ رہا تھا ۔وہ ایسی غلطی کیسے کر سکتے تھے ۔لیکن اِس وقت میری بھر پور توجہ سامنے دیوار پر تھی ۔وہ رائل بلیو مردانہ ڈریس شرٹ کے ساتھ ڈھیلے ڈھالے کریم رنگ کے ٹراوز ر کے ساتھ پولکا ڈاٹس کی بڑی سی شال کو اپنے گرد اُسی طرح لپیٹے ہوئے تھی جیسے میں نے اُسے فنکشن میں دیکھا تھا ۔۔میںنے اُس کی شال کی اِس لپیٹ میں لپٹی روحانیت کو کھول لیا ۔دنیا کے لیے یہ اسٹائل تھا ۔سنا کہ نوجوان لڑکیاں بھی عفیفہ کے شال اسٹائل کی پیروی کرنے لگی تھیں ۔
میزبان کے اِس سوال پر وہ لمحہ بھر کو مسکرائی ۔
’’ یہ میرا اور اُن کا ذاتی فعل ہے ۔‘‘
’’ پھر بھی کچھ تو کہیے ۔‘‘
اینکر کو اُس کے سیدھے سادھا دوٹوک جواب کچھ بھایا نہیں۔ ۔اور وہ تڑکا ڈھونڈنے کی سعی کرنے لگی۔
’’ پسند یدگی اور ناپسندیدگی کوئی وجہ تلاش نہیں کی جا سکی ۔محبت یا نفرت بھی اسی زُمرے میں آتے ہیں ۔‘‘
’’ لیکن سنا ہے کہ والدین بچیوں کے لیے یہ اسٹائل پسند کرتے ہوئے آپ کے شکرگزار ہیں ۔ہم کچھ کلپس دکھاتے ہیں ۔‘‘
کچھ لوگوں کے تعریفی کلمات دکھائے گئے ،جو عفیفہ کے ممنون تھے ۔کہ اُس نے حیا کو اسٹائل دے دیا ۔
’’ میڈم سویرااِس سب پر آپ کی کیا رائے ہے ؟‘‘
’’ وہی جو پہلے کہا ۔۔یہ اُ ن سب کی ذاتی پسند ہے ۔۔جو ناپسندیدگی میں بھی تبدیل ہو سکتی ہے ۔‘‘
’’ آپ کو کب اندازہ ہوا کہ آپ گا سکتی ہیں ؟‘‘
مجھے ہنسی آئی ۔اینکر نے اپنے بدمزہ تاثرات بامشکل چھپا کر چہرے پر مسکراہٹ سجائے رکھی تھی ۔
’’ اوائل عمری سے ہی ۔۔‘‘
جواب شاید میزبان کے سر سے کئی گنا اوپر سے گزر گیا تھا ۔سو اُس نے مسکراہٹ پر اکتفا کیا ۔
دوسال پہلے ہی آپ نے گلوکاری کا آغاز کیا۔اس پہلے آپ کیا کرتی تھیں ۔اِس سے پہلے عفیفہ اِس سوال کا جواب دیتی دفتر میں میرے قہقہے پر سامنے بیٹھی اسسٹنٹ حیران رہ گئی ۔مجھے علم تھا اب اُس اینکر کے ساتھ کیا ہونے والا ہے ۔
’’ یہ میرا ذاتی فعل ہے ۔جو میں نے لوگوں کے سامنے پیش کیا وہ اُس پر ہی بات کر سکتے ہیں ۔‘‘
اِس کے بعد مصالحہ ڈھونڈنے کی کوشش میں اینکر کاعفیفہ کے ہاتھوں وہ حال ہوا کہ طبیعت بشاش ہو گئی ۔
’’ سر یہ ایسی ہی مغرورہیں ۔۔مگر کیا ہے کہ سب کی مجبوری بھی ہے ۔۔کہ انھیں ہائی لائٹ کریں ۔‘‘
میری اسسٹنٹ نے برا سا منہ بناتے ہوئے کہا ۔میں نے اُسے اُس کے کمرے میں جانے کا اشارہ کیا ۔
’’ تو اب تم لوگوں کو مجبور کرنے لگی ہو ۔۔خیر مجبوری تو وہ چار برس پہلے بھی تھی ۔۔مگر شاید آگاہ نہیں تھی ۔۔اوراُس کی اِ سی لاعلمی کا فائدہ اٹھایا جاتا رہا ۔
وہ ہمت جو خانہ جنگی کے بعد فیصلہ کرلینے کے بعد بھی نہ ہو پا رہی تھی ۔آج اُس کے انٹرویو کے بعد مل گئی ۔
’’ ہیلو ۔۔‘‘
’’ آپ کیسی ہیں ؟‘‘
’’ اچھے صحافی ہیں ۔یہ میرا ذاتی نمبر تھا ۔‘‘
وہ بنا کسی حیرانی کے بولی ۔اگلے روز دوپہرتک مخمصے میںرہنے کے بعد میں اُس کے دروازے پر کھڑا ایک بار پھر خود کو سمجھا چکا کہ تھا کہ میں شکایت کا متحمل نہیں ہو سکتا ۔
’’۔۔ تو کہیے تبریز صاحب کیسے آنا ہوا ؟‘‘
میز پرلوازمات چُن دینے کے بعد وہ براہِ راست میری آنکھوں میں دیکھتے ہوئے بولی ۔
لگا اب نگاہ جھکاتی نہیں اٹھاتی ہے ۔ہچکچاتی نہیں ہچکچانے پر مجبور کر دیتی ہے ۔۔مگر کیا کریں کہ میرے لاکھ نہ چاہنے پر بھی خرانٹ صحافی میرے ساتھ اندر آ چکا تھا ۔
’’ آپ سے ملنا چاہتا تھا ۔حال احوال پوچھنا ۔۔اور بتانا چاہتا تھا ۔‘‘
میں نے قدرے توقف سے جملہ مکمل کیا ۔۔اورمیں نے پہلی بار اُسے قہقہہ لگاتے دیکھا ۔یہ ایک طویل قہقہہ تھا ۔جس نے مجھ سے سرزد ہوئی کوتاہیاں میرے سامنے رکھ دیں ۔ابھی میںشرمندہ ہونے جا رہا تھا کہ وہ بولی ۔
’’ میں ٹھیک ہوں ۔۔اور اپنا حال آپ خود بتانا چاہتے تھے ؟‘‘
’’ کیا ہم پھر سے دوست نہیں بن سکتے ؟‘‘
’’ تبریزمیں اب بھی دوستیاں نہیں کرتی ۔‘‘
جھکی نگا ہ کی نمی مجھ سے اوجھل نہ رہ سکی ۔
’’ اوف۔۔‘‘
میں ایک بار پھر جی بھر کے شرمسار ہوکے صحافی کا گلہ دبوچ لینا چاہتا تھا ۔
اُس نے اپنے تینوں بچوں کو مجھ سے ملایا ۔تینوں کی آنکھوں میں ماں جیسی ذہانت اور متانت تھی ۔میں عفیفہ کا بچوں سے ملاکر عزت دینے پر مشکور تھا ۔بچوں سمیت مجھے دروازے تک آ کر رخصت کیاگیا ۔واپسی میں اُس ڈھیلی ڈھالی مردانہ شرٹ میں ملبوس عفیفہ کے ساتھ ساتھ پرانا بھی کچھ لیے جا رہا تھا ۔
۔مگر اُس نے کوئی شکوہ نہ کر کے مجھے اُن پستیوں میں دھکیل دیا جن سے باہر نکلنا ناممکن ہوتا ۔۔اگر وہ دو برس کا تبریز میرے ساتھ مصالحت نہ کر چکا ہوتا ۔
’’ اب اِس کی خاموش مذمت کا کیاکروگے تبریز ۔۔؟‘‘
اب کے میں نے انتظار نہ کیا اور عفیفہ کے سنوارے ہوئے تبریز کے کہنے پر معافی اور شرمندگی کے ساتھ غلط کر جانے کا اعترافی میسیج روانہ کر دیا ۔
’’ جب آپ نے مجھے کہیں نہ کہیں دلاسا دیا میں نے اُنھی دنوں کو یاد رکھا ۔اِس لیے آپ میرے گھر تھے ۔‘‘
’’ پھر بھی میں وہ سب کر گیا جو نہیں چاہتا تھا ۔۔نہیں کہتا تھا ۔‘‘
میں نے فوراََ کہا ۔
’’ وقت کو آواز نہیں دی جا سکتی ۔‘‘
عفیفہ کا جواب مجھے ازسرِ نو بے ربط کر گیا ۔لگا اِ س بار میری اصلاح نہیں کرے گی ۔۔مگرشام ہوتے ہوتے ا للہ ہو اکبر کی صدا پر عفیفہ کے زندہ کئے تبریز نے مجھے جائے نماز پر پہنچا دیا ۔
’’ ہاں ۔وہ اُسی کی جانب سے میری ہدایت کے لیے آئی تھی ۔اُ س کی مشکلات دراصل اُس کی نہیں تھیں ۔وہ سب تو میرے لیے تھا ۔اوہ ۔۔اوہ ۔۔واہ میرے ربّ تیری مصلحتیں۔ہوتا کیا ہے اور انسان سمجھتا کیاہے ؟جب کہ اُس نے بار بار کہا کہ کھوجو ۔۔دریافت کرو ۔۔اور انسان ہر بار علم پر جاہلیت کو فوقیت دے جاتا ہے ۔اب جب کہ مجھ پر سب روشن تھا تو مجھے عفیفہ کے منہ سے کہلوائی گئی بات یاد آ رہی تھی ۔اُ س نے جانے کیوں یہ کہا تھا کہ ’’ تبریز ہر دل کی طاق پر ایک خواہش کا اور ایک نور کا چراغ دھرا ہے ۔‘‘
اوف میں نے کب سمجھا جب کہ مجھے بہت پہلے سمجھا دیا گیا تھا ۔وہ شام اُس رحیم سے غفور سے مغفرت مانگتا رہا ۔۔اور جب کہیں اندر کچھ قرار آیا تو پتا چلا کہ اُس نے مجھے نہیں میں نے اُسے چھوڑ دیا تھا ۔۔ورنہ وہیں خود کو مظلوم سمجھ کرعفیفہ کو بھلانے کی خاطر پانچ کے بعد چھیواں عشق کر رہا ہوتا ۔
عفیفہ کا لائیو شو تھا ۔مجھے دعوت نامہ دیتے ہوئے اُس نے کہا اور کیا ہی خوب سچ کہا ’’آپ نے آ تو ویسے بھی جانا تھا ،سوچا اگلی نشست کے لیے پھر سے محنت نہ کرنی پڑے ۔‘‘
’’ آپ کی برجستگی باقی ہے مگر رنگ آہنگ تبدیل ہو گیا ۔‘‘
بیک اسٹیج پر ہم گرین ٹی پی رہے تھے ۔
’’ لگتا ہے آپ کو گرین ٹی پسند نہیں آئی ۔‘‘
پتا چلا وہ اب بھی ہاں کہتی ہے نا نہ ۔۔۔مجھے وہ اُسی طرز کے لباس میں نِک سُک تیاری میں بھی یکدم مجہول دکھائی دی ۔میں خوش ہونے کے ساتھ غمگین تھا ۔کیوں کہ وہ غمگین تھی ۔میں نے آگاہی کو گالی دینا چاہی مگر کل کی مغفرت یاد آ گئی۔ایک بھرپور اور مقبول شو کے بعد اُس کی آنکھ میں وہی حزن تھا جو میں نے چار برس پہلے دریافت کیا تھا ۔
’’ وہی درد اب بھی ۔۔کیوں ہے؟‘‘
’’ درد کی لہر تو تمام ہو جاتی ہے تبریز صاحب مگر ایک سسکی باقی رہ جاتی ہے ۔‘‘
ُاُ س نے میری آگاہی پر ردِ عمل ظاہر نہیں کیا ۔گویاوہ اب بھی کئی منزلیںآگے تھی ۔میرے سوال کا جواب مجھے اُس کے ساتھ ہی لے گیا ۔میرا اپنا پن گاڑی کے دروازے پر ہاتھ رکھے کھڑا رہ گیا ۔رات گئے اُس کے جواب کے جاننے میں تھا ۔مگر صبح ہوتے ہوتے لگا کہ اِس تصور میں جان جانے سے زیادہ جان سے جانے کا اندیشہ ہے ۔۔کیونکہ مجھ پرمیری نااہلی ثابت شدہ تھی ۔
’’ میرا خیال تھا آپ انکار کر دو گی ۔‘‘
وہ ہمارے چینل پر میری درخواست پر انٹرویو کے لیے موجود تھی ۔اُس نے نئے ہمیشہ کی طرح رائل ریڈ اور سفید بڑے چیک کی ڈھیلی ڈھالی لمبی مردانہ قمیص اور سیاہ ٹراوزر میں اپنے انداز کی لمبی سی شال اوڑھ رکھی تھی ۔ہیل میں تو میں نے اُسے پرانے ہمیشہ میں بھی نہیں دیکھا تھا ۔والد صاحب کے کمرے میں آنے پر اُس کاچہرہ کسی بھی احساس سے عاری رہا۔
’’ ٹھیک ہوں ۔‘‘
اُس نے سلام کیا نہیں والد صاحب کر نہ سکے ۔سوحال پوچھ کر رہ گئے ۔اُس کا جواب ہنوز اجنبیت کی ردا اوڑے رہا ۔
’’ سر میڈم سے درخواست کرنا تھی ۔‘‘
ہمارا میزبان ڈرتے جھجکتے سوالنامہ عفیفہ کے سامنے رکھتے ہوئے مجھ سے مخاطب ہوا ۔
’’ کہیے ۔‘‘
’’ سر میڈم سوال دیکھ لیں ۔اگر کوئی تبدیلی ۔۔۔‘‘
’’ میں نے یہ سب کبھی نہیں کیا ۔آپ جو بھی سوال کرنا چاہیں ۔‘‘
’’ مگر سر ۔۔‘‘
’’ یہ آپ مجھے دے دیں ۔‘‘
’’ سبھی اینکرز آپ کے جوابات سے ڈرتے ہیں ۔اِن کی بہت درگت بنتی ہے ۔یہاں بھی کل سے میرے سامنے معذرت نامے آتے رہے ۔اِسے بھی حکم دیا گیاہے ۔‘‘
’’ آں ہاں ۔۔مجھے علم نہیں تھا ۔میں لغو کو رد کرتے ہو ئے غلو سے اجتناب کرتی ہوں ۔ہر جواب حقیقت پر مبنی ہوتا ہے ۔‘‘
’’ ہوں ۔۔میں جانتا ہوں ۔فرق کس طرف ہے ۔آپ کی جانب کوئی سفارش نہیں ۔‘‘
اُس کی خاموشی نے بتایا کہ یہ غیر اہم بات تھی ۔میں بہرحال محظوظ ہونے والا تھا ۔والد صاحب کا البتہ کرسی پر چوکس بیٹھے ہونے کا یقین تھا ۔
’’ میڈم ناظرین آپ کی ذاتی پسند ناپسند کے بارے میں جاننا چاہتے ہیں ۔‘‘
تعارف کے بعد سہیل اپنی طرف سے مدافعتی چلا تھا ۔۔مگر میرے لب مسکرا رہے تھے ۔۔وہ عفیفہ تھی ۔زمانے کی میڈم نہیں ۔
’’ مثلاََ۔۔‘‘
وہ کہہ رہی تھی ۔جواب میری توقع کے عین مطابق تھا۔سہیل گڑبڑا گیا ۔بوجھ پھر اُسی کے کاندھوں پر تھا ۔
’’ مثلاََ۔۔مثلاََ کہ آپ کو کون سے رنگ پسند ہیں ؟یا کھانے میں کیا پسند اور ناپسند ہے ۔۔؟یا سیر وتفریح کے لیے کہاں جانا اچھا لگتا ہے ؟اور کس طرح کا لباس پہننا پسندہے ۔۔وغیرہ ۔۔‘‘
’’ یہ لوگ ظاہرین کے بارے میں اتنے فکرمند کیوں رہتے ہیں ۔یہ سب میری گلوکاری سے تعلق نہیں رکھتا ۔۔جب کہ لوگوں کے اور میرے بیچ گلوکاری ہی ایک رابطہ ہے ۔‘‘
سہیل ہمارا پرانا اینکر تھا ۔۔اور خود پر گمان بھی رکھتاتھا ۔ایسے تشدد کا عادی بھی نہیں تھا ۔اُس کے ساتھ انٹرویو کے لیے اکثر درخواست آیاکرتی تھی ۔۔سو وہ ہکا بکا رہ گیا ۔۔اُس کے چہرے کے تاثرات بتا رہے تھے وہ کیا کرنے والا ہے ۔والد صاحب نے مجھے اُسے روکنے کو کہا ۔۔مگر میرا یساکچھ کرنے کا کوئی ارادہ نہیں تھا ۔
’’ سنا ہے کہ آپ مغرور مشہور ہیں ۔۔اور یہ کہ آپ کسی سے زیادہ بات کرنا پسند نہیں کرتیں ۔۔اور اپنے علاوہ فیلڈ میں کسی کو خاطر میں نہیں لاتیں ۔‘‘
سہیل کا رویہ مکمل طور پر تبدیل ہو چکا تھا ۔سوالنامہ دکھا کر اُس نے خود کو محفوظ کر لیا تھا ۔اُس کے سوال پرمیرا قہقہہ بلندہوا ۔
’’ زمانہ ناکام کو دیکھ کر ہنستا ہے ۔۔اور کامیاب کو دیکھ کر حسد کرتا ہے ۔‘‘
سہیل کا چہرہ سرخ تھا جب کہ عفیفہ اپنی اُسی طرز پر اجنبی بنی بیٹھی تھی ۔
’’ عوام سوال نہ کریں ۔۔تو آپ یہاں کیسے ہوتیں ۔‘‘
’’ ہر کسی کو دکھائی دینے والی چیز اپنی کیوں لگتی ہے ۔۔؟اور یہاں میں آپ کے اصرار پر ہوں ۔‘‘
’’ آپ نے ایک لابی بنا رکھی ہے ۔۔یہ بھی مشہور ہے ۔‘‘
والد صاحب نے پھر کچھ کہا تو تھا مگر میں عفیفہ کے جواب میں تھا ۔
’’ یہ لابی کے نام پر وہ لوگ ہیں جو میرے منہ پر میرے اور تیرے منہ پر تیرے ہوتے ہیں ۔میں اپنی لابی میں اکیلی ہی کافی ہوں۔۔ اپنے ربّ کے ساتھ ۔۔‘‘
’’ ۔۔تو ایک دن آپ کو پتا چلے کہ آپ کا ستارہ زوال پذیر ہے تب آپ کا کیا ردِ عمل ہو گا ؟‘‘
’’ وقت کی دیمک کا کیا علاج ۔۔مگر لوگوں کے سامنے کیا عروج کیا زوال ۔۔اور ربّ کے سامنے تو ہر پل جھکیں ہی رہیں ۔‘‘
سہیل نے پانی کا گلاس ہونٹوں کو لگایا ۔
’’ میڈم بہرحال ہم انسان ہیں ۔‘‘
سہیل کو ہوش میں لایا جا چکا تھا ۔بزر والد صاحب کی طرف سے گیا تھا۔
’’ بظاہر ۔۔‘‘
عفیفہ کے مختصر جواب نے ہر بار کی طرح تختہ الٹ دیا ۔سہیل کو اندازہ ہو چکا تھا کہ مدِ مقابل اِ س کھیل میں اِس کہیں زیادہ مشاق ہے ۔ایک بات تو طے تھی کہ عفیفہ نے والد صاحب کا بہت بھلا کر دیا ۔
’’ میڈم اگر کچھ برا لگا ہو تو معذرت ۔۔میں تو سوال دکھا رہا تھا ۔‘‘
’’ ۔۔پھر معذرت کیوں چاہتے ہیں ؟‘‘
سہیل اب چاروں شانے چت تھا ۔والد صاحب کو سلام کرتے ہوئے باہر نکل گیا ۔
’’ یہ سہیل اب آپ کو انگلیوں پر نہیں نچا سکتا ۔‘‘
عفیفہ کے رخصت ہونے کے بعد میں نے والد صاحب کو گرماگرم میٹھی کافی پیش کرتے ہوئے کہا ۔
’’ تم بہت خوش ہو ؟‘‘
والد صاحب نے روٹھے بچے کے لہجے میں کہا تو مجھے ہنسی آ گئی ۔رات گئے میں اُ س کے تصّور میں تھا ۔دل کچھ کچھ ہلکا ہو رہا تھا ۔۔۔لیکن ہولے ہولے اُس کے تصّورمیں صرف اُس کی آنکھ کا حزن باقی رہ گیا ۔اب لگا کہ اِس تصّور کو طول دینے میں دل کو لینے کے دینے پڑ جانے کااندیشہ ہے ۔
’’ وہ حزن وہ یاس اُس کی آنکھ میں کیوں ٹھہرا ہے ۔وہ مسکراتی نہیں تھی ۔۔مگر اب قہقہہ بھی لگاتی ہے تو اُس کی آنکھ نم ہوتی ہے ۔کیوں وہ مدت سے مسلسل رو رہی ہے وہ کون سی کراہ ہے جو اِس کے اندر کرلاتی رہتی ہے ؟‘‘
۔۔مگر میں کیوں کر پوچھ سکتا ہوں ۔۔؟بھاگ جانے والے کے پاس بھاگ کرآ جانے کا حق نہیں رہتا ۔وہ اتنی ہی وضع دار تھی کہ گھر کا مہمان بنایا ۔مگر ا ُس کے شکوہ نہ کرنے کا شکوہ میں اُس سے کر نہیں سکتا ۔سوچتا ہوں ڈیڑھ دو برس کے پزل کے ٹکڑے کہاں سے اکھٹے کروں ۔جن کو جوڑ کر اُس کی آنکھ کا درد راستہ دے جائے ۔۔جب دو برس کا تبریز دور کھڑا مسکراتا رہا تو ۔۔ پھر ڈھیٹ صحافی نے اپنی شکل دکھائی ۔میںجی جان سے اُس کے ساتھ ہو لیا ۔اسِی کو عافیت مان لیا ۔
’’ آپ کی ڈاکومینٹری میں کتنی قسطیں باقی ہیں ؟‘‘
اُس سے ملنے کی درخواست پر اُس نے گھر ہی بلایا تھا۔ڈرائنگ روم میں داخل ہونے کے بعد بنا کوئی رسمی جملہ بولے وہ ہر بار کی طرح مجھے پورا پڑھ چکی تھی ۔
’’ اجازت لے کر آیا ہوں ۔‘‘
ڈھیٹ بننے کا عہد پورا کرنا ہی تھا ۔
’’ کل میرا کنسرٹ ہے۔آپ کے پاس دعوت نامہ تھا ۔‘‘
’’ مسلسل کام کر رہی ہیں ۔‘‘
’’ آپ کو من و سلوٰی مل سکتا ہے ۔میں مسلمان ہوں مجھے چھین جھپٹ کر ہی ملے گا ۔‘‘
میری بیہودہ بات کے جواب میں اُس نے حقیقی منطق بیان کی ۔
’’ عفیفہ جی کچھ پیش ِ روزن اورکچھ پسِ دیوار ہے ابھی ۔۔‘‘
میرے لب آمادۂ استفسار ہو ہی گئے ۔
’’ ۔۔۔ہوں ۔‘‘
’’ نہیں نہیں برائے مہربانی میری نیت میں کوئی کھوٹ نہیں ہے۔‘‘
اُس کا گہری سانس کے بعد ہوں میرے اندر گہرائی تک اترگیا۔
’’ اوکے ۔۔‘‘
اُس کے اوکے کا لہجہ مجھے اوکے نہ رکھ سکا ۔کئی روز شرمندہ رہنے کے بعد پتا چلا کہ میری بات اُسے دکھی کرتی ہے ۔اِس انکشاف نے مجھے سرشار کر دیا ۔میں گئے دنوں کا چراغ لیے ایک چوری کرنے نکل کھڑا ہوا ۔ایک چالاک صحافی آنکھوں پر کالا چشمہ لگائے اُس کو جاننے کے لیے اُس کی بستی میں جا نکلا ۔ اِس محلے میں اُس کے ماضی کے پزل کے ٹکڑے بکھرے ہوئے تھے ۔میںنے اُنھیں سمیٹنے کی خاطر ایک دروازہ کھٹکھٹایا ۔
’’ یہاں اُس گھر میں عفیفہ جی رہا کرتی تھیں ۔‘‘
’’ ۔۔لو ۔۔زبیدہ ادھر آو ایک اور آ گیا ۔۔اُسی کے لیے ۔۔‘‘
’’ ۔۔جی کون زبیدہ میرا مطلب ہے میں پانچ سال بعد باہر سے آیا ہوں ۔مجھے ۔۔‘‘
’’ وہ جی چلی گئی یاں سے ۔۔بلکہ سمجھو نکال دیا تھا محلے سے۔۔ اب تو سرِ عام سب کرتی ہے ۔‘‘
میری بات کے درمیان میں زبیدہ نمودار ہو چکی تھی ۔
’’ آ پ کون ہو جی اِس کے ویسے ۔۔؟‘‘
زبیدہ نے آنکھیں گھما کر کہا ۔
’’ وہ جی میرے انکل اُن کے عزیز ہیں ۔انھوں نے کچھ سامان بھیجا تھا۔۔ وہی دینے آیا ہوں۔ویسے میںاُن کو زیادہ نہیںجانتا ۔۔ایک آدھ بار ہی ملا ہوں ۔‘‘
’’ بھئی وہ اچھی عورت نہیں تھی ،شوہر کی وفات سے پہلے تو بہت نیک بنتی تھی ۔شوہر کے جانے کے بعد بھائیوں سے لڑ جھگڑ کر اکیلی رہنے لگی ۔اچھے کردار کی نہیں تھی ۔بہت سے لوگ اُس کے یہاں آنے جانے لگے تھے ۔رکشہ ڈرائیور سے لے کرگاڑیوں والے تک ۔۔تبھی تو بھائیوں اور بہنوں سے بن نہ سکی ۔انھوںنے پھر منہ نہ لگایا ۔کوئی نہیں آتا تھا ۔۔پھر خود ہی نکل گئی یہاں سے ۔۔سنا اب گانے شانے گاتی ہے ۔ایسیوںنے اور کیا کرنا ہوتا ہے ۔صبح جاتی تھی بچے چھوڑ کر رات رات گئے لوٹتی تھی ۔ایسی ماں کبھی نہ دیکھی ۔ماں کے نام پر ۔۔۔‘‘
اُسی وقت ایک موٹا سا آدمی گلی کی نکڑ والے مکان سے نکل کر چلا آیا ۔اُسے دیکھ کر دونوں عورتوں میں سے ایک نے کہا کہ یہ جو آ رہا ہے نا اِ س کے ساتھ بھی ا ُس کا چکر تھا ۔رات گئے اِس کے گھر کے چکر لگاتا تھا ۔پھر جونہی وہ شخص قریب آیا دونوں خواتیں گھر کے اندر کھسک گئیں ۔
’’ ۔۔تو آپ مس عفیفہ کو جانتے ہیں ۔میں کچھ سامان باہر سے ۔۔۔‘‘
’’ وہ جی بس اب یہاں نہیں رہتی ۔اُسے محلے سے نکال دیا تھا ۔میری اُدھر مین پر کریانے کی دکان ہے ۔میرے یہاں سے ہی سودا جاتا تھا اِ ن کے گھر ۔۔میں نے اکثر ادھار کیا فری بھی سودا دیا ۔۔کہ جی ضرورت مند ہے مگر وہ تو جی مجھ پر ہی لٹو ہو گئی۔۔۔وہ دیکھئے شاہ صاحب سے پوچھیں ۔امام مسجد ہیں ۔‘‘
’’ بس بیٹا کیا کہیں اِسی لیے عورت کو مرد کی حفاظت میںدیاگیا ہے ۔۔کہ ایسی عورتیںبھی ہوتی ہیں جو بہک جاتی ہیں ۔بھٹک جاتی ہیں ۔ہم نے تو اُسے سیدھے سیدھے نکاح کا بھی کہا تھا ۔یہ سلیم اللہ نے ہمدردی کے ناطے ہاں بھی کر دی تھی ۔جب کہ اِس کی اپنی جوان بچیاں ہیں۔‘‘
پھر پورے محلے کا چکر لگا کے میں ایک گندی کہانی کے ساتھ شام کو اُسی پارک میں بیٹھا اُداس بلبل کی طرح تنہا بیٹھاگنگنا رہا تھا ۔
’’ اگرچہ میں نے چاہا کہ میں اپنے ذہن کے وہ دریچے بند کر لوں جہاں یہ سوال کھڑا تھا کہ جب میں یہاںنہیں تھا تو وہ کیا کرتی رہی تھی ۔۔مگر نہ جان کر اُس کے ماضی کے ایسے بہیمانہ ٹکڑے ذہن میں آتے جو کچھ دیر بعد ایسی بھیانک تصّویر بنا دیتے جو مجھے خس و خاشاک کر دیتی ۔جس میںآنکھ اُٹھا کر دیکھتا تو اپنا ہی بھیانک اور مکروہ چہرہ نظر آتا جو محبت کو بے یاور مدد گار چھوڑ کر ایک طرف جا کھڑا ہو ا۔کیا میری بیٹی ایسے تکلیف میں ہوتی تو میں اُسے یوں اکیلا چھوڑ دیتا ۔۔ضمیر کے اِس سوالنامے نے میرے اندر دھواں بھر دیا ۔
’’ محبت ہر رنگ میں معتبر کیوں نہیں ہوتی ۔۔اِس کی تقسیمِ کار کا خالق خالق نہیں انسان ہے ۔‘‘
کبھی کبھی وہ دو برس کا تبریز اتنا ہی قوی اور جری ہوتا کہ مجھے پل بھر میں خاک کر دیتا ۔
’’۔۔ تو تبریز کہہ چکنے کے بعد کون فرار ہو گیا ۔۔؟کس نے بن کہے کومل پنکھ کے ساتھ وضع نبھائی ۔وہ ایک برا دن تھا ۔جانے میرے جاننے کا کنارا کہاں تھا ؟کچھ دن پہلے کا قہقہہ مجھ پر قہقہے لگا رہا تھا ۔
’’ اِ س راز کے کھل جانے سے آپ کو کیا مل جانے والا ہے ؟‘‘
اِ س بار اُس نے بلایا تھا ۔۔اور پہلی بار اُس کا بنا تمحید کے کچھ کہہ جانے پر میںقہقہہ نہ لگا سکا تو آنکھ برس پڑی۔
’’ میری محبت بے لوث تھی ۔۔مگر میں بے اجر رہ گیا ۔‘‘
’’ ہوں ۔۔ایسا نہ ہوتا تو آپ اِس وقت یہاں نہ ہوتے ۔۔مگر تبریز صاحب بے لوثیت بھی اپنی قیمت مانگتی ہے ۔۔۔اور اجر ہوتا تو ملتا ۔۔اجر ضائع ہونے کے لیے نہیں ہوتا ۔‘‘
ُٓ اُ س کا لہجہ بے حد ٹھنڈا تھا ۔میری کمر کی ہڈی میں سرد لہر دوڑ گئی ۔اُس کے ماضی کا فاصلہ سمٹ کر ایک نکتے کی مانند سامنے آیا اور مہیب صورت پھیلتا چلا گیا ۔جس میںعفیفہ کا چہرہ تبدیل ہو کر چٹانوںکی سی سختی لیے ہوئے دکھائی دیا ۔بس اُ س کی آنکھ کا حزن رہ گیا ،جس نے مجھے کراہنے پر مجبور کر دیا ۔میںہاتھ باندھے زمیں پر اُس کے سامنے سر جھکا ئے خاموش بیٹھا تھا ۔دل کا درد ندامت کی صورت میں آنکھ سے ٹپک کر فرش پر گرتا رہا ۔وہ خاموشی سے اٹھ کر اندرونی کمرے کی جانب بڑھ گئی ۔۔مگر میں وہاںسے ہل بھی نہ سکا ۔کچھ دیر بعد وہ واپس آئی۔
’’ تبریز اٹھ جائیے ۔‘‘
میری پشت پر ایک سلگتاہاتھ انگارہ بنا ہوا مجھے سہارا دے رہاتھا ۔
’’ یہ پانی ۔۔‘‘
اُس روز اُس نے مجھے کھانے پر روک لیا ۔تمام وقت بچے میرے ساتھ تھے ۔وہ کبھی آتی کبھی باورچی خانے میں چلی جاتی ۔
’’ یہ لیں ۔۔اِس میں میرے وہ دو برس ہیں جن کی آپ کو تلاش ہے ۔چھاپ دو ۔‘‘
’’ میں نے آپ کو کہانی نہیں سمجھا ۔‘‘
’’ جانتی ہوں ۔‘‘
اُس سے ملنا ہر بار فہم و ادراک کا بے یقینی کے عالم سے نکلنا ہوتا ۔چار برس پہلے بھی میں ہر بار ایک عالم سے دوسرے کا رخ کرتا تھا ۔آج بھی وہ مجھے فہم کی کوئی منزل دکھا گئی ۔میں بے اختیار سر پر ہاتھ پھیر کر رہ گیا ۔کھلی آنکھ کیسے بند ہوتی ہے ۔۔تب معلوم ہوتا ہے جب کوئی اُسے کھول دیتا ہے ۔میں نے گھاٹے کا سودا کیا اور جاہلیت میں پناہ لے لی ۔۔شاید عفیفہ کے علم کے سامنے میرا برتن میرا ظرف چھوٹا رہ گیا ۔ہاں اوپر والا مجھ پر مہربان تھا ۔۔مگر وہ کیا ہے نا۔۔ گھاٹے کا سودا انسان کو ہر بار بھا جاتا ہے ۔
ڈنر کی جلدی مجھے اِس سے پہلے کبھی نہیں تھی ۔
’’ َ۔۔تم اُس سے مل رہے ہو ۔۔تو میرے بارے میں اُس نے کیا کیا کہہ ڈالا ۔؟‘‘
کھانے کے بعد والد صاحب چائے کا مگ لیے ٹہل ہے تھے ۔مجھے اسسٹڈی میں جاتے دیکھ کر پکار اٹھے ۔
’’ کاش وہ آپ کا ذکر کرتی تو مجھے کئی اور ذکر بھی مل جاتے ۔‘‘
میں عفیفہ کی دی ہوئی ڈائری مضبوطی سے تھامے آگے بڑھ گیا ۔۔لیکن پیچھے رہ جانے والی کہانی کا ایک ٹکڑا والد صاحب نے تھما دیا ۔دل کو ٹھیس لگی ۔۔لیکن غلط قدم تو میں نے اٹھایا تھا ۔۔اب اس میں انھوں نے بیج ڈال دیا تو میری خطا مٹ نہیںسکتی سو والد صاحب کو کچھ نہ کہہ سکا ۔یو ںبھی مجھے جلدی تھی ۔عفیفہ کے دو برس جاننے کے لیے ڈائری کے مختلف اقتباسات پڑھنے لگا ۔
’’ تبریز بھی موسمی پرندہ نکلا ۔۔مجھ پر خزاں ٹھہر چکی تھی اِس لیے نئے موسموں کی تلاش میں اُڑ گیا ۔زندگی میں جلدایک طویل چُپ آ گئی ۔ابھی تو مجتبیٰ کے جانے کا سنّاٹا میرے اندر ڈیرے ڈالے ہوئے تھا ۔۔ درد کی جانب کون پیش رفت کرے گا ؟ٹھیک بھی ہے ۔صد شکر کوئی دل کا ٹکڑا نہیں گرا ۔‘‘
ڈائری کی ابتدائی سطریں ہی مجھے پاتال میںلے گئیں ۔ اندازہ ہوا۔۔ آج رات کی صبح تک میں اُس درد میں سفر کرنے والا ہوں جس سے فرار حاصل کیا تھا ۔اِس میں دل ہی نہیں روح کے زخمی ہونے کا قوّی امکان تھا ۔کبھی کبھی لاعلمی بھی نعمت ہوتی ہے ۔ایک بار تو چاہا کہ بس ورق نہ پلٹوں ۔۔مگر میں خود سے ہی بے اختیار تھا ۔۔اور جان کر کیسے مان لیتا کہ نہیں کچھ نہیں ہوا ۔۔ یہ سفر مجھ پر واجب کر دیا گیا تھا ۔میں گھوم کر پھر اُسی درد میںتھا ۔۔مگر نگا ہ جھکائے ہوئے ۔۔یوں ورق پلٹتا گیا دل اجڑتا گیا ۔
’’ اب آنکھوں میں بے خوابی ناچتی ہے ۔مجتبیٰ تھے تو کیسی گہری نیند سوتی تھی ۔بیوی تو اُن کے ساتھ ہی مر گئی اب جو ماں رہ گئی ہے اُسے کوئی جینے نہیں دے رہا ۔‘‘
’’ سکول جانا محال ہے ۔۔میرا ٹیلنٹ میرا قصور بن گیا ۔۔کاش میںبھی ایک عام گروہ کی زندگی جی کر مر جاوں ۔‘‘
’’ مجتبیٰ جیسے ایک رفیق کے چلے جانے کے بعد ۔۔اب ایک دنیا کے مردوں کو میری رفاقت چاہیے ۔سر صفدر جن کی آدھ فٹ کی ڈاڑھی ہے ۔اُس دن اسلامیات کا پیریڈلے کر میرے پیچھے سٹور روم میں آگئے ۔انھیں مجھ سے دست درازی کرتے ہوئے کوئی ڈر یا خوف نہیں تھا ۔۔شاید میں اتنی ہی ارزاں ہو چکی ہوں۔‘‘
’’ نئے سکول کی نوکری نے تکلیف کو تکالیف میں بدل دیا ہے ۔میرا ہنرایک بار پھر میرا دشمن بن چکا ہے ۔صورتوں کی تبدیلی کے ساتھ سر رحمٰن ۔صفدر اور مس تنویر جیسے کئی کردار ہیں ۔۔۔پھر اِ س کے بعد سبزی خریدتے بھاو تاو کر کے پیدل شاپنگ بیگ اٹھا کر گھر تک آتے مجھے لگتا ہے کہ ہر کوئی مجھے ہی دیکھ رہا ہوتا ہے ۔شاید مظلوم اور بے یارو مدد گا رشکل سے ہی پہچانے جاتے ہیں ۔۔اور یہاں بے شمار بھیڑیے ایسی صورتوں کی تلاش میں باہر نکلے ہوتے ہیں ۔‘‘
’’ یہ رات ہے ۔پرچے چیک کرتے کرتے اب نیندنہ آ جائے ۔۔پہلے بھی ایسے کئی بار غلطی ہوئی جس کا بھاری خمیازہ اٹھانا پڑتا ہے ۔گڑیا میرے بغیر سوتی نہیں بلکہ میرے ساتھ بھی نہیں سوتی ۔۔اُسے تو مجتبیٰ سلاتے تھے ۔اب اُسے سلا کر اٹھنا ایسے ہی لگتا ہے جیسے مجھے کانٹوں پر سے گھسیٹ کر اٹھایا جا رہا ہو ۔دل زخمی تو بدن تھکن سے چور ہوتا ہے ۔کھڑکی سے آج بھی چاند نظر آ رہا ہے ۔کبھی میں اِس کو کتنا تکا کرتی تھی ۔اب یہ نور نہیں برساتا ۔سامنے سلیمہ کی بالکونی سے قہقہے سنائی دیے تو دل میں صفِ ماتم بچھ گئی۔۔ پتا چلا لوگ اب بھی ہنستے ہیں ۔‘‘
’’ ثانیہ جانے کون ہے ؟کیوں حسد کیے بنا مجھے پڑھ لیتی ہے ۔اُس نے کہا کہ مایوسی اور تکان نے میرے چہرے پر گھونسلے بنا لیے ہیں ۔شکاری ایسے گھونسلوں میں اپنے مکروہ چہرے چھپانے آتے ہیں ۔‘‘
چھوٹے رکشہ والے اب مجھ سے دس روپے بھی لے لیتے ہیں ۔اکثر سفر کرنے سے جان پہچان ہو گئی ہے ۔میں نے آج بھی ایسے ہی رکشے میں پچھلی طرف بامشکل جگہ بنا کر موٹے آدمی کے ساتھ بیٹھنے کو ترجیح دی۔۔ بجائے اِ س کے کہ گڑیا میرے انتظار میں روتی رہے ۔موٹا جان بوجھ کر مجھ پر اپنا وزن ڈالے ہوئے تھا ۔جون کی کڑکتی دھوپ میرے پاوں جلا جلا کر کالے کر چکنے بعد بھی ابھی اور جلانے سے باز نہ آئی ۔مٹھی میں پکڑے دس روپے دونوں طرف کی سواریوں کی دھکم پیل سے پھسلنے کو تھے ۔پکڑنے کی جگہ کوئی نہیں تھی ۔میں ایک سٹاپ پہلے ہی اتر گئی ۔سڑک پارکرنے کی جلدی تھی ۔رکشہ والے نے پانچ روپے اور مانگے تو میں آدھی سڑک سے مڑ کر واپس آئی ۔مجتبیٰ کہتے تھے کہ مجھے کب سڑک پار کرنی آئے گی ؟ہر بار ہاتھ پکڑ کرلے کر جاتے ۔رکشہ والے کو مٹھی میں پکڑے وہ پانچ روپے کا سکّہ دے دیا جو جاتے ہی میں گڑیا کو تھما دیتی تھی ۔۔میرے بامشکل واپس آنے کے انتظار میں رکشہ والا جلا بھنا ہوا تھا ۔ہاتھ سے سکّہ نکال کر دینے پر بولا ۔
’’ رنڈی نے ہاتھ میںرکھا ہوا تھا ۔۔مگر دیا نہیں ۔‘‘
گھر آتے ہوئے گلی کی نکڑ سے لے کر گھر کے دروازے تک عبایا کے اندر سبھی دکاندار اور محلے کی عورتوں اور مردوں نے رنڈی کو تلاش کر لیا ۔۔اور خوب جانچ کر ایک دوسرے کو اشارے کیے ۔جلدی سے گھر کا دروازہ پار کرتے ایک نئی جنگ کی تیاری کے لیے چہرے کے تاثرات تبدیل کیے ۔گڑیا کو پیار کرتے ۔عبایا پھینک کر روٹی پکا رہی تھی کہ عمر میرے پاس چلا آیا ۔
’’ پانی تو پی لیں پہلے ۔۔‘‘
’’ میں بیٹا جلد ی آنے کے لیے نیا سکول ڈھونڈ لوں گی ۔‘‘
’’ امّا ں میں کوئی کام سیکھ لیتا ہوں ۔۔آپ میرے لیے سکول نہ تلاش کریں ۔‘‘
’’ شاید گرم توا ہاتھ پر لگ گیا تھا ۔جلن کی شدت سے میری آنکھ بھرنے کو تھی مگر بیٹا سامنے تھا ۔۔اور کچھ روز پہلے میں نے ایک نیا فیصلہ کیا تھا کہ اب بچوں کی ماں ان کے سامنے کبھی نہیں روئے گی ۔‘‘
’’ آپ نے یہ بات کیوں کہی ۔کھانے بعد میں نے عمر سے پوچھا ۔‘‘
’’ وہ ماموں نانو سے کہہ رہے تھے کہ آپ کو چاہیے کہ مجھے کوئی کام وام سکھا دیں کسی دکان پر بٹھا دیں ۔‘‘
’’ ایسا کبھی نہیں ہو گا ۔یہ آپ کے سوچنے کی باتیں نہیں ۔آپ کے فیصلے لینے کے لیے آپ کی ماں موجود ہے۔دنیا کچھ بھی کہتی رہے ۔‘‘
’’ ۔۔مگر امّاں یہ تو ماموں کہہ رہے تھے ۔‘‘
’’ اب وہ بڑا ہے اُسے تمھارا ساتھ دینا چاہئے ۔ورنہ تم اُن کو اِن کے خانوادوں کے پاس بھیجو۔اُ س کے خاندان کو پالنے کا تم نے ٹھیکا اٹھا رکھاہے ۔جن کی نسل ہے ان کے حوالے کرو ۔‘‘
’’ شام کو جب میں نے امّی سے بڑے بھائی کی بات کے بارے میں پوچھا ۔۔تو انھوں میری بات کا جواب دیتے ہوئے ایک نئی وضاحت مجھے تھما کرچلتا کیا ۔ایک ماں کا اُس کے بچوں کے ساتھ طے کیا گیا یہ نیا رشتہ تھا ۔
’’ وقت ایک مہیب اژدھے کی صورت صبح شام کرتا ہے ۔تبریز کے والد کی ملازمت کر لینے بعد ایک بار پھر پرانے تجربے نئے ملبوسات میں میں میرے سامنے ہیں ۔‘‘
’’ آج شام کو صدیقی دکاندار نے سودا کم دیا ۔۔کہ باقی جو رہ گیا ہے وہ گھر دے جاے گا ۔عمر کو کیا کہتی وہ بچہ ہی تو تھا ۔‘‘ رات گئے فون کی گھنٹی بجنے پر نیا نمبر دیکھ کر نہ چاہتے ہوئے بھی فون رسیو کرلیا کہ نیا دفتر ہے جانے کس کس کے پاس نمبر تھا ۔دوسری طرف صدیقی کریانے والا کہہ رہا تھا کہ میں سودا لے لوں ۔نہ چاہتے ہوئے بھی رات کے ایک بجے دروازہ کھولا ۔‘‘
’’ آ پ کے پاس میرا نمبر کہاں سے آیا ۔‘‘
’’ وہ جی میں نے عمر سے لیا تھا ۔۔کہ مجھے دیر ہو جائے گی ۔۔تو گھنٹی بجانے بچے بلاوجہ جاگ جائیں گے ۔‘‘
’’ شکریہ مگر یہ صبح بھی آ سکتا تھا ۔بچہ خود ہی لے جاتا ۔‘‘
’’میںنے دروازہ بند کرتے ہوئے کہا ۔تو وہ دروازہ کھول کر بڑے بڑے تھیلے اٹھائے اندر آ گیا ۔‘‘
’’ یہ میں مہینے بھر کا سبھی راشن لے آیا ہوں ۔۔۔نہیں نہیں پیسوں کی کوئی بات نہیں ۔۔‘‘
’’ میں نے کچھ کہنے کے لیے منہ کھولا ہی تھا کہ وہ بول پڑا ۔میرے اندر ایک گھنٹی بج رہی تھی ۔‘‘
’’ ٹھیک ہے میں صبح دکان پر آ کے حساب کر لوں گی ۔‘‘
’’ میں نے ایک بار پھر دروازہ بند کرنا چاہا ۔۔تو وہ ایک اور بڑا تھیلادروازے کے باہرسے گھسٹنے لگا ۔مگر دروازے سے قدم باہر نہ کیا ۔‘‘
’’ یہ چاول اور آٹابھی ہے سارے مہینے کا جی ۔۔میں ایسا کرتا ہوں خود ہی کچن میں رکھ دیتا ہوں ۔‘‘
’’ میں شور نہیں چاہتی تھی ۔عمر کی عمر بہت نازک موڑ پر تھی ۔۔اور شاید ہر شکاری کو شکار کی ہر ہر کمزاوری کا علم ہوتا ہے ۔میں اُس کے پیچھے لپکی ۔۔باورچی خانے میں قدم رکھتے ہی اُس نے مجھے دبوچنے کی کوشش کرتے ہوئے اپنے سودے کہ قیمت وصول کرنا چاہی ۔میںنے لاکھ چاہا کہ وہ خاموشی سے ٹل جائے مگر عزازیل آج کل مجھے چھوڑنے کو تیار نہیں تھا ۔آخر کار میںنے اُسے ھکا دیتے ہوئے عمر کو چیخ چیخ کر پکارا ۔۔اور عمر کے آ جانے پر وہ مجھے گھورتا ہو ابھاگ کھڑا ہوا ۔۔۔مگر عمر سے بھاگ کرمیںکہاںجاسکتی تھی ۔‘‘
صبح اُس نے امّی اوربھائیوں کو سب کو کہہ ڈالا ۔میرے دفترسے واپس آنے پر میری تدفین گھر سے باہر نہیں اندر ہوئی۔
’’ ۔۔تو تم مردوں کے منہ ہی کیوں لگتی ہو ۔اب نوکری بھی دفتر میں کر لی ہے ۔‘‘
’’ بھائی میں نے پرسوں بھی اُس کے بارے میں آپ کو بتایا تھا ۔۔آپ آ جاتے ۔۔اگر ۔۔‘‘
’’ اب تم تو چاہتی ہو کہ ادھر فون کرو اُدھر ہم حاضر ہو جائیں ۔ہمارے اپنے بھی بچے ہیں ۔‘‘
’’ نہیں ۔۔نہیں میں نے آج آنا تھا خود ہی ۔۔‘‘
’’ نہیں تم یہ بیہودہ مسٔلے لے کر ہماری طرف نہ آیا کرو۔ہماری بیویاں ہیں ۔۔بیٹیاں ہیں ۔وہ بھی تمھاری طرح پھر ۔۔‘‘
منجھلے بھائی نے کہا تو بڑے بھائی جو بہت تحمل مزاج انسان تھے ۔ہر بات پر ان کا دل دھڑکنے لگتا تھا ۔بہت نرم خو تھے فوراََ سے بولے ۔
’’ یار میں تو جب اِس کی باتیں سنتا ہوں مجھے تو نماز کی رکعتیںبھول جاتی ہیں ۔اسے چاہیے کہ یہ صوبہ چھوڑ کر کہیں دور چلی جائے اگر یہاں لوگ تنگ کرتے ہیں ۔‘‘
’’ چھوڑو یا ر میں اِس کو جانتا نہیں کیا ۔۔ذرا جو برداشت اور تحمل ہو ۔۔اِسی نے کچھ کہا ہو گا اُسے ۔۔ورنہ کسی کی اتنی جرأت ۔۔کچھ تو شہہ ملتی ہے تبھی کوئی ایسی حرکت کرتا ہے۔ ورنہ ایسی ہمت ۔۔چلیں نکلیں مجھے بہت سارے کام ہیں ۔‘‘
تیسرے نمبر والے بھائی نے معاملہ سمیٹاتو سب نے باہر کی جانب قدم بڑھائے ۔
’’ اب دیکھو تمھیں اتنی توفیق نہیں ہوئی کہ بھائیوں کو کچھ چائے پانی پوچھ لیتیں ۔۔بھائی والی وارث ہوتے ہیں ۔۔بہنیں تو بھائیوں کے واری صدقے جاتی ہیں ۔صحیح کہتی ہیں تمھاری بھابھیاں۔۔ تم کبھی کسی گھر آئے کو اچھا نہیں پوچھتیں ۔تبھی تمھاری طرف کوئی نہیں آتا ۔تمھیں بنا کر رکھنی ہی نہیں آتی ۔ مہمان نوازی کبھی کرنی نہیں آئی تمھیں ۔۔میں انھیں لے لے کر آتی ہوں اور پھر سب کے سامنے شرمندہ ہو جاتی ہوں ۔لگتا ہی نہیں تم میری بیٹی ہو ۔‘‘
’’ امّی کدھر رہ گئیں اب چلیں بھی ۔۔فارغ نہیں ہوں میں ۔۔‘‘
تیسرے نمبر والے بھائی نے باہر سے ہانک لگائی تو امّی فوراََ بولیں ۔
’’ اب یہیں کھڑی رہو گی ۔۔بھائیوں کو رخصت کرنے دروازے تک تو آو ۔منہ ایسا تنا ہوتا ہے ہر وقت تمھارا ۔۔آنے والا کیا سوچے کہ ایک مسکراہٹ بھی نہیں تمھارے پاس ۔۔‘‘
’’ رات تھی اپنا سر تھا اور اپنا ہی کاندھا تھا ۔۔مخاطب میں مجتبیٰ سے ہوتی تھی ۔‘‘
’’ مجتبیٰ یہ ایک برا دن تھا مگر میری زندگی میں ایسے دنوں کی بھرمار ہے کہ یاد رکھنا مشکل ہے کہ آج برا دن ہے یا کل برا دن تھا ۔‘‘
’’ کاپی اور پرچوں کی چیکنگ سے تو جان چھٹ گئی تھی مگر اب آدھے دن کی بجائے رات گئے گھر واپسی ہوتی ۔۔اور اتنا تھک چکی ہوتی ہوںکہ بچوں کے لاکھ چاہنے کے باوجود اُن سے کوئی بات نہیں کر پاتی ۔ کپڑے تبدیل کرتے ہی لیٹ جانا میری اولین ترجیح ہوتا ہے۔آنکھ بند کرتے ہی بچوں کے کملائے ہوئے اداس چہرے میرے اندر کرلانے لگتے ۔‘‘
’’ مجتبیٰ اب ہر ہما شما مجھے دیکھنے کا حق رکھتا ہے ۔‘‘
’’ رشیدہ آپی نے جو تین ہزار روپے دیے تھے ۔جس کی واپسی کی مدت پہلے طے کر دی تھی ۔۔اُس کا مطالبہ بھابھی کرنے چلی آئیں ۔کیونکہ وہ پیسے مجھے اُن کو دینے تھے ۔۔۔مجتبیٰ اب مدد کم دکھاوازیادہ رہ گیا ہے ۔محلے بھر میں میرے گھر والوں کی نیک نامی کی دھوم ہے ۔‘‘
’’ مجتبیٰ عید آئی ہے تو ہم پر دکھ بن کر چھائی ہے ۔ہمیں اپنے چہرے تازہ رکھنے کا حکم ملا ہے ۔بھائی نے ماں سے کہا ہے کہ میں اور میرے بچے منہ بسور کر بیٹھے رہتے ہیں ۔ہمیں محفل میں بیٹھنے کی تمیز نہیں ۔اُن کے سسرال والے اچھا محسوس نہیں کرتے ۔مجتبیٰ میرے بچوں کے کپڑوں کو غور سے دیکھ کر الگ سے لے جا کر امّی نے کہا کہ بچوں کے کپڑوں پر اتنے پیسے خرچ کرنے کی کیا ضرورت تھی ۔۔اور یہ کہ مجھے اپنے وقت کے مطابق چلنے کا سلیقہ نہیں ہے۔مجتبیٰ یہ آپ کے لائے ہوئے کپڑے تھے ۔جن کو پہن کربچے کہتے رہے کہ یہ بابا لائے تھے ۔۔اور گڑیا تو آپ کا پوچھتی رہی کہ آپ کب آو گے ۔وہ نکڑ والے شاہ صاحب کو اپنی بیٹی کے سے ساتھ آتے جاتے دیکھ کر رونے لگتی ہے ۔،ایسے میں میرا دل کرتا ہے کہ کوئی تو ہو جو ’’ قُم بی اِزن اللہ ‘‘ کہہ دے ۔‘‘
’’ مجتبیٰ رات بہت دیر ہو جاتی ہے ۔۔نہ چاہتے ہوئے بھی ایک سواری لگا لی ہے کہ جلد گھر آ سکوں ۔پھر بھی رات ہو ہی جاتی ہے اور مانو کہ اکثر بہت رات ہو جاتی ہے ۔اب محلے والوں نے سمجھ ہی نہیں لیا یقین کر لیا ہے کہ میں بد چلن ہوں ۔اِس لیے جانے کیسے میرا فون نمبر ہر کسی کے پاس پہنچ چکا ہے ۔جس کا جی چاہتا ہے مجھے فون کر کے آنے کے لیے کہتا ہے ۔‘‘
’’ مجتبیٰ کل رات جس سواری میں آ رہی تھی اُ سی نے مجھے پامال کر نے کی کوشش کی۔۔۔اور دلیری کا عالم ۔۔کہ ابھی صبح وہ میرے گھر کے اندر چلا آیاا ور کہنے لگا کہ مجھ سے تعلق رکھنا چاہتا ہے ۔ایک ڈرائیور مجھ سے میرے گھر آ کر کہتا ہے کہ مجھ سے تعلق رکھنا چاہتا ہے ۔۔میں نے ڈھکے چھپے لفظوں میں ایک بار پھر بھائی سے کہا کہ کوئی بھروسے کا آدمی بتا دیں ۔۔مجھے ایسے ویسے مردوں کے منہ لگنا پڑتا ہے ۔۔تو انھوںنے کہا۔
’’ یہ تو کرنا پڑتا ہے ۔یہ تمھاری اپنی غلطیاں، خود مختاریاں ہیں ۔تمھاری بھابھی درست کہتی ہے ۔‘‘
’’ مجتبیٰ لوگوں نے اتنے قصور میرے کھاتے میں ڈال دیے ہیں کہ اب میں نے ربّ سے بھی یہ سوال کرنا ترک کر دیا ہے کہ میرا کیا قصور ہے ؟‘‘
’’ مجتبیٰ مکرو فریب اور عدم مساوات محرومی اور مایوسی سے ہوتی ہوئی کذب اور ریا تک لے جاتی ہے ۔‘‘
’’ مجتبیٰ آفس میں بھی مجھ سے ہر وہ کام کرنے کو کہا گیا ہے جو صرف ایک عورت کر سکتی ہے ورکر نہیں ۔‘‘
’’ میںنے مجتبیٰ ہر جگہ کام کر کے دیکھ لیا ۔۔مگر میں کہیں ورکر نہیں بن سکی ۔۔سب کو مجھ سے ایک عورت چاہیے۔۔اور مجھ سے میرا عورت ہونا جبراََ وصول کیا جاتا رہا ۔۔۔تو مجتبیٰ اب آج سے میری ہر اُس کام کے لیے ہاں ہے جس کے لیے میں’’ نا‘‘ کہنا چاہتی ہوں ۔‘‘
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
’’ مجتبیٰ بہت دنوں بعد کچھ کہنے کو دل کر رہا ہے ۔۔۔کیا کہوں کتنی مصروفیت ہے ۔وہ دن مجتبیٰ جب ایک فیصلہ کیا تو سوچ لیا تھا کہ جب میرے اندر کی عورت کو سب کچل رہے ہیں تو میں ہی کیوںنہ اُسے تمام کر دوں ۔اب میں ظاہراََ ایک مرد ہوں ۔باطن میں صرف ایک ماں ۔۔سب سے پہلے پہناوا تبدیل کیا اور پھر سوچ ۔۔۔مجتبیٰ بھائی مجھے اب صاحب جی کہہ کر بلاتے ہیں ۔ایک برس بعد لکھ رہی ہوں کہ مجھے اپنی تقدیر اور کم نگاہی کا گلہ تھا ۔‘‘
’’ مجتبیٰ تمھارے بچے تو خوش ہیں۔۔اور میں اب دنیا اور رشتوں کی رعیّت میں نہیں ہوں ۔‘‘
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دو روز بیت گئے مجھ پر کیا نہیں بیت گیا ۔۔عفیفہ کے دوبرس ٹکڑوںکی صورت میں میرے پاس تھے ۔۔مگر کہانی مکمل ہو چکی تھی ۔میں اُس کی تکالیف میںجی رہا ہے تھا ۔جب جب درد کی شدت میںاُس نے اپنے شوہر کو پکارا ۔۔اور پھرجب میں درد سے چور ہو گیا اور مجھ سے اپنا جرم سہارا نہ گیاتو میں والد صاحب کے روبرو تھا ۔
’’ عفیفہ کو کس کام کے لیے مجبور کیا جاتارہا ۔۔وہ سب میں جانتا ہوں ۔‘‘
جب کچھ دیر سامنے بیٹھے وجود میں حرکت نہ ہوئی تو میں خاموشی سے اٹھ کر باہر آ گیا ۔دن کا پچھلا پہر تھا ۔۔پارک کے گھنے درختوں کے نیچے بینچ پر میں اکیلا بیٹھا سوکھے پتوں کے ڈھیر میں جانے کیا کھوج رہا تھا ۔
’’ ہاں یہ درست ہی ہے کہ لاعلمی بھی کبھی کبھی نعمت ہوتی ہے ۔کیوں انسان کو سب کے بارے میں وہ سب جاننا ہوتا ہے جو پردے میں ہوتا ہے ۔۔سمجھ میں آ گیا ۔طے ہی ہے کہ انسان ہمیشہ گھاٹے کا سودا کرتا ہے ۔کیوں نہیں ۔۔میں نے صرف معافی اور توبہ کو بہتر جانا ۔اب ایک پہاڑ میرے سامنے تھا جسے بہرحال سر کرنا میرے لیے لکھ دیا گیا تھا ۔جب کہ اب میں نے چاہ لیا تھا ۔۔سو اپنا بوجھ اپنے جھکے کاندھوں پر اٹھائے میں عفیفہ کے سامنے ایک بار پھرہاتھ جوڑے سر جھکائے بیٹھا تھا ۔
’’ تیسری بار کسی مرد کے آنسو دیکھے ۔‘‘
زمین پر گرتے ننھے پانی کے قطرے اُس کی نظر سے پوشیدہ نہیں تھے ۔
’’ ایک کام کریں گے ؟‘‘
ایک با ر پھر پانی کا گلاس مجھے تھما کر میرے کاندھے پر اپنا ہاتھ رکھے وہ کہہ رہی تھی ۔۔اور میں جان رہا تھا کہ مرشد تو مرشد ہے ۔
’’ پلیز کہو ۔۔۔‘‘
’’ اس کو ترتیب دے کر چھاپ دینا ۔‘‘
’’ یہ آپ کیا کہہ رہی ہیں ؟‘‘
’’ وہی جو آپ نے سنا۔میں سرِ عام ہوں ۔۔اب مجھے فرق نہیں پڑتا کہ میرے اِس عمل سے اور کون کون عام ہوتا جاتا ہے ۔‘‘
اُس کے لہجے میں قطعیت تھی ۔
میں نے پندرہ روز میں چار برس کا قصّہ ۔۔کہانی میں ڈھال کر پبلش کروا دیا ۔
’’ میڈم ‘‘ چھپ کر خوبصورت ٹائٹل کے ساتھ میرے ہاتھ میں تھی ۔آج اس کی رونمائی کی تقریب تھی ۔میں اور عفیفہ بچوں سمیت آڈیٹوریم کی طرف روانہ تھے ۔ سگنل پر گاڑی رکی تو جانے کس بات پر عفیفہ نے کسی کو بری طرح جھاڑ دیا ۔میں فون پر مصروف فنکشن کی تفصیلات پر بات کر رہا تھا ۔
’’ یوں ہی سا تھا وہ ۔۔کچھ زیادہ ہی ہو گیا ۔‘‘
میری نظر میں ہر پروفیشنل بھکاری کو کچھ نہ کچھ دینے اور نرمی سے بات کرنے والی عفیفہ گھوم گئی ۔‘‘
’’ میں اب بااخلاق نہیں رہی ۔‘‘
ایک بار پھر اُس نے مجھے اندر تک کھنگال لیا ۔
’’ عفیفہ آپ نے بچوں کے لیے ڈرائیور کاکہا تھا ۔یہ اس کو اس لیے ساتھ لایا ہوں آپ چیک کر لیں ۔پہلے بھی گاڑی چلاتا رہاہے ۔۔ آج کل بہت مجبور ہے ۔میرے دوست کی ضمانت سے آیا ہے۔‘‘
’’ سلام میڈم ۔‘‘
اختر نے سر گھما کر عفیفہ کو سلام کیا ۔۔مگر اُس نے جواب نہ دیا ۔۔بلکہ کچھ ہی دیر میں اُسے نئے راستے کی ہدایات جاری کیں ۔
’’ یہ کدھر جانا ہے ۔۔؟وہاں فنکشن شروع ہونے والا ہے ۔آپ چیف گیسٹ ہو ۔‘‘
’’ چل ہی رہے ہیں ۔‘‘
وہ مجھے اچانک سے بہت پُر سکون دکھائی دے رہی تھی ۔
’’ بس یہیں روک دو ۔‘‘
نہر کے سنسان ترین حصّے میں گاڑی رکوا کر اُس نے اختر کو گاڑی سے اترنے کو کہا ۔
’’یہ لو ۔۔اور آئندہ اِس شہر میں دکھائی نہ دینا ۔‘‘
عفیفہ نے اُسے بھری سنسنان سڑک کے بیچ اتار کر بیس ہزار روپے پکڑا کر گاڑی مجھے ڈرائیو کرنے کو کہا ۔
’’ آپ اِسے جانتی ہو ؟‘‘
’’ ہاں ۔۔میرا بدترین دشمن تھا ۔‘‘
میرا ہاتھ بے اختیار سر پر چلا گیا ۔
’’ ۔۔تو پیسے دینا چہ معانی دارد۔۔‘‘
’’ میرے بچوں کا سب سے بڑا محسن تھا ۔‘‘
میرا ہاتھ ایک بار پھر سر پر جاتے جاتے ٹھہر گیا ۔میرے اندر اُ س کا جملہ چیخنے لگا ۔۔
’’ بچوں کا محسن ۔۔۔عفیفہ کا دشمن ۔۔‘‘

عندلیب بھٹی

عندلیب بھٹی

ریسرچر علم بشریات۔۔مصنفہ۔۔رویہ ساز۔۔۔کاونسلر۔۔۔روحانی طبیبہ