مآل عمر کا ازبر حساب ہو تو کہیں
بچا ہوا کوئی آنکھوں میں خواب ہو تو کہیں
لبوں پہ حیرتیں خیمہ لگائے بیٹھی ہیں
تمہارے سامنے باتوں کی تاب ہو تو کہیں
رگوں میں شام کے سائے اترتے جاتے ہیں
ابھرنے والا کوئی آفتاب ہو تو کہیں
جدھر بھی دیکھیے سرسوں کھلی ہے چہروں پر
نظر میں ایک بھی تازہ گلاب ہو تو کہیں
رہ فرار نہیں ہے کڑی حقیقت سے
حد نگاہ تلک اب سراب ہو تو کہیں
نکل کے ہم کو عدن سے کہیں اماں نہ ملی
ہماری طرح کا خانہ خراب ہو تو کہیں
کسی نے رات کی آنکھیں نکال دی ہیں فگار
کوئی ستارہ کوئی ماہتاب ہو تو کہیں
سلیم فگار