مآل عمر کا ازبر حساب ہو تو کہیں

سلیم فگار کی ایک اردو غزل

مآل عمر کا ازبر حساب ہو تو کہیں
بچا ہوا کوئی آنکھوں میں خواب ہو تو کہیں

لبوں پہ حیرتیں خیمہ لگائے بیٹھی ہیں
تمہارے سامنے باتوں کی تاب ہو تو کہیں

رگوں میں شام کے سائے اترتے جاتے ہیں
ابھرنے والا کوئی آفتاب ہو تو کہیں

جدھر بھی دیکھیے سرسوں کھلی ہے چہروں پر
نظر میں ایک بھی تازہ گلاب ہو تو کہیں

رہ فرار نہیں ہے کڑی حقیقت سے
حد نگاہ تلک اب سراب ہو تو کہیں

نکل کے ہم کو عدن سے کہیں اماں نہ ملی
ہماری طرح کا خانہ خراب ہو تو کہیں

کسی نے رات کی آنکھیں نکال دی ہیں فگار
کوئی ستارہ کوئی ماہتاب ہو تو کہیں

سلیم فگار

سلیم فگار

تارکینِ وطن شعرا میں گنتی کے چند بڑے نام ہیں جو غمِ روزگار کی وجہ سے اپنی مٹی، اپنی زبان، اپنے لوگوں اور خود اپنے آپ سے بھی دور تو ہوئے مگر الگ نہیں ہوئے۔ جنھوں نے مشکل حالات میں بھی دیارِ غیر میں اردو زبان کا چراغ روشن رکھا۔ ان میں ایک نمایاں اور اہم نام سلیم فگار کا ہے، جن کی شاعری میں اپنی زمین، سر سبز کھیت، دریا اور درخت سانس لیتے ہیں، سلیم فگار اس لحاظ سے خوش قسمت ہیں کہ پاکستان میں انھیں اقبال کوثر جیسے نابغہ روزگار کی رفاقت میسر رہی اور لندن میں ان کی نشست و برخاست ساقی فاروقی جیسی عظیم شخصیت کے ساتھ رہی اور ان کی نجی مخافل میں ہونے والی ادبی گفتگو اور مکالمہ سے انھیں اپنے قلم و ہنر کو مزید نکھارنے اور سنوارنے کا موقع ملا۔ سلیم فگار کی شاعری میں اپنے حال اور مستقبل کی بدلتی ہوئی صورتحال کا گہرا مشاہدہ اور ادراک نظر آتا ہے۔ سلیم فگار جدید شاعری کا ایک اہم اور نمائندہ نام ہیں ان کا اپنا الگ ایک علامتی نظام ہے جو روایت سے بالکل الگ اور ہٹ کر ہے جو انھیں دیگر شعرا سے ممتاز کرتا ہے۔ ان کے تین شعری مجموعے منظرِ عام پر آ چُکے ہیں۔ پہلا شعری مجموعہ ستارہ سی کوئی شام، مارچ 2015 میں سانجھ پبلیکیشن لاہور اور جولائی2017 میں تفہیم پبلیکیشن راجوری انڈیا سے چھپا۔ اور ان کا دوسرا مجموعہ تغیر ستمبر 2019 میں سانجھ پبلیکیشن لاھور سے چھپااور تیسرا شعری مجموعہ خواب کی اذیت میں الحمد پبلیکیشن لاھور سے جنوری 2026 میں چھپا تینوں شعری مجموعوں نے نہ صرف اپنے سنجیدہ قاری کی بھرپور توجہ اور داد و تحسین حاصل کی بلکہ بیرونِ ملک ہوتے ہوئے بھی اردو ادب کے مرکزی ادبی دھارے میں سلیم فگار کی جگہ بنانے میں اہم کردار بھی ادا کیا۔