لمحۂ حال کا پیغام

ایک اردو نظم از شاکرہ نندنی

وقت کا سب سے بڑا راز ہے "اب”،
کل کی اُمید نہ رکھ، کر عمل کا سبب

جو سوال اٹھے دل کے آئینے میں،
وہی ہے چراغ تری سینے میں۔

سوچ، وہ مشعل ہے راہوں کی،
یہی ہے کُلیاتِ شاہوں کی

تُو ہی ہے مرکزِ کارواں،
اپنی پہچان میں ہے جہان

نہ کر آج کا لمحہ رائگاں،
یہی ہے تری زیست کا کارواں

سوچ، سمجھ، پھر قدم بڑھا،
اپنی ذات سے عشق کی ابتدا

جو خود کو چاہے، وہی معتبر،
دوسروں سے بھی کر لے پھر دل بسر

شاکرہ نندنی

شاکرہ نندنی

میں شاکرہ نندنی ہوں، ایک ماڈل اور ڈانسر، جو اس وقت پورٹو، پرتگال میں مقیم ہوں۔ میری پیدائش لاہور، پاکستان میں ہوئی، اور میرے خاندانی پس منظر کی متنوع روایات میرے ثقافتی ورثے میں جھلکتی ہیں۔ بندۂ ناچیز ایک ہمہ جہت فنکارہ ہے، جس نے ماڈلنگ، رقص، تحریر، اور شاعری کی وادیوں میں قدم رکھا ہے۔ یہ سب فنون میرے لیے ایسے ہیں جیسے بہتے ہوئے دریا کے مختلف کنارے، جو میری زندگی کے مختلف پہلوؤں کی عکاسی کرتے ہیں۔