لداخ کی گونجتی آواز: محرومی سے مزاحمت تک
ہمالیہ کی بلند چوٹیوں کے دامن میں بسی ہوئی وادیاں ہمیشہ سکون اور خاموشی کی علامت رہی ہیں۔ مگر آج انہی پہاڑوں کے درمیان ایک طوفان برپا ہے، ایک شور ہے، ایک اضطراب ہے جس نے پورے خطے کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے۔ لداخ، جو کبھی روحانیت اور حسنِ فطرت کے نام سے جانا جاتا تھا، اب احتجاج، مظاہروں، لاٹھی چارج، آنسو گیس اور کرفیو کی تاریک تصویر بن چکا ہے۔ سڑکوں پر نعرے لگ رہے ہیں، آنکھوں میں غصہ ہے، دلوں میں مایوسی اور زبان پر وہ سوال ہے جس کا جواب دہلی کی حکومت کے پاس نہیں۔ یہ سوال ہے حقِ نمائندگی کا، شناخت کا، زمین اور روزگار کے تحفظ کا، اور اپنی پہچان کے بقا کا۔
لداخ کے عوام آج یہ پوچھنے پر مجبور ہیں کہ آخر وہ اپنے ہی وطن میں کیوں غیر محفوظ ہیں؟ ان کی زمینیں کیوں غیر مقامی سرمایہ داروں کے رحم و کرم پر چھوڑ دی گئی ہیں؟ ان کے نوجوان کیوں روزگار کے دروازے بند دیکھ رہے ہیں؟ ان کی ثقافت، زبان اور طرزِ زندگی کیوں مٹایا جا رہا ہے؟ یہ سوال معمولی نہیں بلکہ ایک پوری قوم کی اجتماعی چیخ ہے جو اب طاقت کے شور کے باوجود دبنے کو تیار نہیں۔
2019 کا سال اس خطے کے لیے قیامت بن کر آیا۔ بھارت کی مرکزی حکومت نے اچانک ایک صدارتی حکم کے ذریعے آئین کی دفعات 370 اور 35A ختم کر کے ریاست جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت چھین لی۔ اس فیصلے کو ترقی کا نیا دور قرار دیا گیا، لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ فیصلہ لداخ کے عوام کے زخموں پر نمک پاشی ثابت ہوا۔ انہیں لگا کہ ان سے ان کا حقِ نمائندگی چھین لیا گیا ہے، انہیں ان کی اپنی اسمبلی اور اپنے قانون سازی کے حق سے محروم کر دیا گیا ہے۔ دہلی نے ایک حکم کے ذریعے یہ واضح کر دیا کہ لداخ کے لوگ اپنی سرزمین کے فیصلوں میں شریک نہیں بلکہ محض تماشائی ہیں۔ اس دن سے لے کر آج تک بے یقینی اور محرومی کا اندھیرا اس خطے پر چھایا ہوا ہے۔
حکومت نے بڑے بڑے دعوے کیے کہ الگ حیثیت ملنے کے بعد لداخ میں ترقی ہوگی، سرمایہ کاری آئے گی، سیاحت کو فروغ ملے گا، روزگار پیدا ہوگا اور عوام کے مسائل حل ہوں گے۔ مگر زمین پر حقیقت بالکل مختلف ہے۔ مقامی لوگ دیکھ رہے ہیں کہ ترقی کے یہ خواب محض دعووں کی حد تک ہیں۔ ان کے ہاتھ میں کچھ نہیں آیا، بلکہ ان کے خدشات بڑھتے جا رہے ہیں۔ وہ ڈرتے ہیں کہ باہر سے آنے والے سرمایہ کار زمینیں خرید لیں گے اور مقامی لوگ
اپنی ہی دھرتی پر بے دخل ہو جائیں گے۔ وہ دیکھ رہے ہیں کہ اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوان بھی نوکریوں سے محروم ہیں کیونکہ حکومت نے ملازمتوں پر مقامی افراد کے حق کو یقینی بنانے کے بجائے انہیں کھلا چھوڑ دیا ہے۔ ان کے سامنے سب سے بڑا خطرہ یہ ہے کہ لداخ کی منفرد شناخت اور ثقافت آہستہ آہستہ مٹ جائے گی۔ یہ ڈر ان کے دلوں میں کسی چنگاری کی طرح دہک رہا ہے، جو وقت کے ساتھ ایک شعلے میں بدل گیا ہے اور آج سڑکوں پر اس کا دھواں نظر آ رہا ہے۔
یہ احتجاج ابتدا میں پُرامن انداز میں شروع ہوا تھا۔ لوگ ہاتھوں میں پلے کارڈ اور بینرز اٹھا کر نکلے، نعرے لگائے، ریلیاں نکالیں اور حکومت سے اپیل کی کہ ان کے مطالبات سنے جائیں۔ مگر جب دہلی نے ان آوازوں کو سننے کے بجائے طاقت سے دبانے کی پالیسی اپنائی تو حالات بگڑ گئے۔ پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپیں ہونے لگیں، پتھراؤ اور لاٹھی چارج معمول بن گیا، آنسو گیس کے شیل اور گولیوں کی آوازیں فضا میں گونجنے لگیں۔ نتیجہ یہ نکلا کہ خون بہا، لاشیں اٹھیں، اور لیہہ جیسے شہر پر کرفیو نافذ کر دیا گیا۔ کرفیو وقتی طور پر تو احتجاج کو روک سکتا ہے، مگر عوامی جذبات پر بند باندھنے کی کوئی طاقت نہیں رکھتا۔ یہ جذبات اب ہر دل میں گونج رہے ہیں اور ہر زبان پر ایک ہی مطالبہ ہے: لداخ کو ریاست کا درجہ دیا جائے۔
بھارتی حکومت کا رویہ اس سارے معاملے میں سب سے زیادہ تنقید کے قابل ہے۔ دہلی کے ایوانوں میں بیٹھے حکمران سمجھتے ہیں کہ ریاستی درجہ دینا ایک سیاسی کمزوری ہوگی، یہ ایک ایسا دروازہ کھول دے گا جس سے دوسرے خطے بھی مطالبات کرنے لگیں گے۔ مگر وہ یہ نہیں سوچتے کہ عوام کو مسلسل دبانے اور ان کے حقوق کو نظر انداز کرنے سے ریاستیں مضبوط نہیں ہوتیں بلکہ کمزور ہوتی ہیں۔ جمہوریت کا حسن عوامی شمولیت اور عوامی اعتماد میں ہے۔ جب عوام اپنے آپ کو محروم، بے اختیار اور غیر نمائندہ محسوس کریں تو پھر جمہوریت ایک کھوکھلا نعرہ بن کر رہ جاتی ہے۔ لداخ کے عوام آج یہی سوال پوچھ رہے ہیں کہ بھارت جو دنیا کو سب سے بڑی جمہوریت کہلوانا پسند کرتا ہے، وہ اپنے ہی عوام کو ان کا حق کیوں نہیں دیتا؟
یہ مسئلہ صرف ایک اندرونی سیاسی اختلاف نہیں بلکہ اس کے خطے اور عالمی سطح پر بھی اثرات ہیں۔ لداخ پاکستان اور چین کے قریب واقع ہے اور دہائیوں سے اس خطے کی جغرافیائی اہمیت بین الاقوامی سیاست کا مرکز رہی ہے۔ اگر یہاں کے عوام مسلسل بے سکونی اور احتجاج میں مبتلا رہے تو یہ کشیدگی پورے خطے کو اپنی لپیٹ میں لے سکتی ہے۔ یہ بات بھارت کے لیے بھی نقصان دہ ہے کیونکہ وہ پہلے ہی کئی محاذوں پر اندرونی خلفشار کا شکار ہے۔ عالمی سطح پر انسانی حقوق کے ادارے بھی یہ سوال اٹھا رہے ہیں کہ کیا بھارت اپنے عوام کو ان کے آئینی اور جمہوری حقوق دینے میں ناکام ہو گیا ہے؟ اگر دنیا کو یہ تاثر ملتا ہے کہ بھارت اپنے ہی شہریوں کے ساتھ انصاف نہیں کر رہا تو یہ اس کی جمہوریت کے دعوے پر ایک کاری ضرب ہوگی۔
عوامی مشکلات کا اگر قریب سے جائزہ لیا جائے تو یہ احتجاج اور زیادہ واضح ہو جاتا ہے۔ ایک عام نوجوان کے لیے سب سے بڑی پریشانی بے روزگاری ہے۔ وہ تعلیم حاصل کرتا ہے، خواب دیکھتا ہے، محنت کرتا ہے مگر نوکری کے مواقع اس سے چھین لیے جاتے ہیں۔ ایک کسان کے لیے سب سے بڑا دکھ یہ ہے کہ اس کی زمین پر کسی اور کا قبضہ ہو سکتا ہے۔ ایک عام شہری کے لیے سب سے بڑا خوف یہ ہے کہ اس کی زبان، اس کی ثقافت اور اس کی پہچان چند برسوں میں مٹ جائے گی۔ یہ مسائل اس احتجاج کو صرف ایک سیاسی تحریک نہیں بناتے بلکہ ایک اجتماعی بقا کی جنگ بنا دیتے ہیں۔
مستقبل کے امکانات اس وقت دو رخ رکھتے ہیں۔ ایک راستہ وہ ہے جس پر حکومت طاقت کا استعمال جاری رکھے، کرفیو لگائے، گرفتاریاں کرے اور عوامی آواز کو دبانے کی کوشش کرے۔ یہ راستہ تباہی کا ہے، یہ راستہ مزید خونریزی اور کشیدگی کی طرف لے جائے گا۔ دوسرا راستہ یہ ہے کہ حکومت دانشمندی کا مظاہرہ کرے، عوامی نمائندوں کے ساتھ بیٹھے، ان کے خدشات سنے اور ان کے مطالبات کو تسلیم کرے۔ یہی وہ راستہ ہے جو امن، ترقی اور خوشحالی کی ضمانت دے سکتا ہے۔ فیصلہ اب دہلی کے حکمرانوں کے ہاتھ میں ہے کہ وہ کون سا راستہ اختیار کرتے ہیں۔
حل کے طور پر سب سے پہلے لداخ کو ریاستی درجہ دینے کے مطالبے پر سنجیدگی سے غور کرنا ہوگا۔ مقامی لوگوں کو زمین اور ملازمتوں کے تحفظ کی آئینی ضمانت دینی ہوگی تاکہ وہ مطمئن ہوں کہ ان کا مستقبل محفوظ ہے۔ نوجوانوں کے لیے تعلیمی ادارے اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے ہوں گے تاکہ وہ ہجرت پر مجبور نہ ہوں۔ لداخ کی ثقافت اور زبان کو بچانے کے لیے ادارے قائم کرنا ہوں گے تاکہ یہ ورثہ محفوظ رہ سکے۔ اور سب سے بڑھ کر یہ کہ حکومت کو طاقت کے بجائے مذاکرات کا راستہ اختیار کرنا ہوگا۔ طاقت وقتی سکوت تو لا سکتی ہے مگر پائیدار امن نہیں۔
یہ حقیقت تسلیم کرنا ہوگی کہ لداخ کے عوام کی آواز دبانے سے ختم نہیں ہوگی بلکہ اور بلند ہوگی۔ یہ ایک اجتماعی آواز ہے جو اپنے وجود اور اپنے حقوق کے لیے اٹھ کھڑی ہوئی ہے۔ اس آواز کو سننا اور اس پر عمل کرنا ہی بھارت کی جمہوریت کے لیے نجات کا راستہ ہے۔ بصورت دیگر یہ مسئلہ ایک ایسے زخم میں بدل جائے گا جو وقت کے ساتھ اور گہرا ہوگا اور پھر اسے بھرنا ممکن نہ ہوگا۔ اگر بھارت واقعی دنیا کو یہ دکھانا چاہتا ہے کہ وہ جمہوریت کا سب سے بڑا علمبردار ہے تو اسے سب سے پہلے اپنے عوام کو ان کا حق دینا ہوگا۔
یوسف صدیقی