کچھ روز سے وہ سنجیدہ ہے
ہم سے کچھ کچھ رنجیدہ ہے
چل دِل کی راہ سے ہو کے چلیں
دلچسپ ہے اور پیچیدہ ہے
بیدار نہیں ہے کوئی بھی
جو جاگتا ہے خوابیدہ ہے
ہم کس سے اپنی بات کریں
ہر شخص ترا گرویدہ ہے
گلزار
رشید حسرت کی ایک اردو نظم
سہیل احمد صمیم کی ایک اردو غزل
ایک اردو غزل از رشید حسرت
وصال عباسی کی ایک اردو غزل