کچھ روز سے وہ سنجیدہ ہے
ہم سے کچھ کچھ رنجیدہ ہے
چل دِل کی راہ سے ہو کے چلیں
دلچسپ ہے اور پیچیدہ ہے
بیدار نہیں ہے کوئی بھی
جو جاگتا ہے خوابیدہ ہے
ہم کس سے اپنی بات کریں
ہر شخص ترا گرویدہ ہے
گلزار
بہزاد لکھنوی کی ایک اردو غزل
ڈاکٹر الیاس عاجز کی ایک غزل