کچھ روز سے وہ سنجیدہ ہے
ہم سے کچھ کچھ رنجیدہ ہے
چل دِل کی راہ سے ہو کے چلیں
دلچسپ ہے اور پیچیدہ ہے
بیدار نہیں ہے کوئی بھی
جو جاگتا ہے خوابیدہ ہے
ہم کس سے اپنی بات کریں
ہر شخص ترا گرویدہ ہے
گلزار
روبینہ صدیق رانیؔ کی ایک اردو غزل