کچھ روز سے وہ سنجیدہ ہے
ہم سے کچھ کچھ رنجیدہ ہے
چل دِل کی راہ سے ہو کے چلیں
دلچسپ ہے اور پیچیدہ ہے
بیدار نہیں ہے کوئی بھی
جو جاگتا ہے خوابیدہ ہے
ہم کس سے اپنی بات کریں
ہر شخص ترا گرویدہ ہے
گلزار
حسنین رافی کی ایک اردو غزل
ایک اردو غزل از رشید حسرت
میر حسن کی ایک اردو غزل