کچھ روز سے وہ سنجیدہ ہے
ہم سے کچھ کچھ رنجیدہ ہے
چل دِل کی راہ سے ہو کے چلیں
دلچسپ ہے اور پیچیدہ ہے
بیدار نہیں ہے کوئی بھی
جو جاگتا ہے خوابیدہ ہے
ہم کس سے اپنی بات کریں
ہر شخص ترا گرویدہ ہے
گلزار
ڈاکٹر عرفان احمد بیگ کی ایک اردو نظم
ایک اردو غزل از رشید حسرت
وصال عباسی کی ایک اردو غزل
پیر انتظار حسین کی ایک اردو غزل
شاعر : سہیل احمد صمیم