کبھی تو بھی تنہا ہو
کہ دیکھا کرے تو بھی
تنہائی کیا ہے
کیا کیا پا بہ سفر ہیں
اپنی مجذوب راہوں پہ گامزن ہیں کیا کیا
کبھی تو بھی تو دیکھے
حسرتوں کی باراتیں،
امیدوں کے جنازے
خواہشوں کی بے نوا امنگیں
نوحہ کناں وقت میں،
بلکتے شام کے پنچھی
خیالوں کے ویراں دشت
ساکن کرنیں
چپ کے راگ آلاپتی آوازیں
شعور ،لا شعور کے عاری خانے
کبھی تو بھی تنہا ہو
کبھی تو بھی دیکھ
مری سوغات کیا ہیں
مرا بھرم کیا ہیں
فیاض حسین ڈومکی