کون رُکے گا

گلناز کوثر کی ایک اردو نظم

دیکھو دُور ہرے بھرے

اُن پیڑوں کے چمکیلے پتے

ہولے ہولے ،

لچک لچک کر

اُچک اُچک کر

کوری اُجلی کرنوں کو

تکتے ہیں

کیسے حیرانی سے

چاہو تو چھو لو

ان نازک پتوں کی

آغوش میں

ایسا پھول کھلا ہے

دیکھو تو یہ سارا منظر

کتنا بھلا ہے

تمہیں پتہ ہے؟

منظر کے پیچھے

اِک منظر

چھپا ہوا ہے

جیسے نیچے بہنے والی

گدلی نہر میں

گھومتی لہریں

جنگلی گھاس کی نوکیں

چھدرے پیڑوں میں

اِک حبس بھری خاموشی

مریل کرنیں

اُونچی گھاس کے اندر

سڑتے ہوئے پانی میں

کچھ بے صورت پودے

ہمیں پتہ ہے

کون اُن اُجلے پیڑوں کو

دیکھے گا

اور پھر کون جھکے گا

گھاس کی تیز نکیلی دھار کے پیچھے

اِن بے صورت پودوں

کو تکنے کی خاطر

آخر کون رُکے گا؟

گلناز کوثر

سائٹ منتظم

’’سلام اردو ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔ جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے سلام اردوکے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔