کون درد بانٹے گا کون غم اٹھائے گا

ثمر راحت ثمر کی ایک اردو غزل

کون درد بانٹے گا کون غم اٹھائے گا
اوڑھ لو خموشی تو دل کو چین آئےگا

کس طرح چھپاو گے آنسووں کو آنکھوں میں
ضبط کے تسلسل سے درد بڑھتا جائے گا

ساکنان دل اب تو ہو چلے ہیں اک سپنا
رتجگوں کے موسم میں نیند کون لائے گا

جل اٹھے گی ہر بستی بے شجر زمینوں کی
جب تلک نہ ہر کوئ پیڑ اک لگائے گا

ہر دعا نہیں ہوتی ہے قبول انساں کی
کس طرح جو مانگا ہے وہ ہی مل بھی جائے گا۔

ثمر راحت ثمر