کسی کے آنے کے کامل یقیں پہ چلتا ہے

اظہر عباس خان کی ایک اردو غزل

کسی کے آنے کے کامل یقیں پہ چلتا ہے
یہ دل ابھی بھی محبت کے دیں پہ چلتا ہے

مجال ہے جو کبھی آۓ اہل دل کی طرف
خرد کا زور ہمیشہ ذہیں پہ چلتا ہے

ہمارے پالے ہوئے ہیں یہ سامری کے نہیں
عصائے موسی کہاں آستیں پہ چلتا ہے

کہ جیسے شاہ کوئی جائے تخت کی جانب
یوں میرا بوسہ لب آتشیں پہ چلتا ہے

مقام خلد سے اترا ہے یہ بنی آدم
اسی لیے تو اکڑ کر زمیں پہ چلتا ہے

مرے بغیر بھلا اس کی کوئی وقعت ہے؟
تمھارا حسن مری آفریں پہ چلتا ہے

کمایا میں نے نہیں نام دشت میں یونہی
جہاں کا سکہ ہو صاحب وہیں پہ چلتا ہے

کبھی تو سوچیے کیونکر بطور خنجر کے
ہمارا شعر دل ناقدیں پہ چلتا ہے

خدا کے خوف کا آرا عجیب ہے اظہر
ہمارے دل پہ، تمھاری جبیں پہ چلتا ہے

اظہر عباس خان

اظہر عباس خان

اظہَر عبّاس خان کا شمار اُن معاصر شعرا میں ہوتا ہے جن کے ہاں روایت کی گہرائی اور جدّت کی لطافت دونوں یکجا نظر آتی ہیں۔ ان کا کلام نہ صرف کلاسیکی اردو غزل کے اسلوب سے جڑا ہوا ہے بلکہ اس میں مذہبی، صوفیانہ، عاشورائی اور رومانوی حسّیت کا ایک ایسا امتزاج بھی پایا جاتا ہے جو قاری کے ذہن و دل پر بیک وقت وجد اور تفکّر کی کیفیت طاری کرتا ہے۔ ان کا شعری سفر دراصل ایک داخلی جہان کی تلاش ہے جس میں اظہار کی سچّائی، جذبے کی شدّت اور زبان کی صفائی بنیادی عناصر کی حیثیت رکھتے ہیں۔