کسی بزرگ پہاڑی پہ تو اترتا ہے
قدیم دشت غشی میں خرام کرتا ہے
شجر کی چھال اترتے فقیر رونے لگا
بدن کی کھال ادھیڑو تو پھر نکھرتا ہے
مسام چیر کے اگتی ہے جسم پر اترن
ہمارا زہر خد و خال سے اترتا ہے
اٹھا حجاب جلا دے چراغ معبد کے
جہان گرد ترا اب قیام کرتا ہے
عجیب خاک چمکتی ہے اپنے چہرے پر
یہ آئنہ تو ہمیں دیکھ کر سنورتا ہے
ہمارے جسم پہ کندہ ہزار ہا نقشے
ہماری آنکھ سے ہر راستہ گزرتا ہے
کہیں سے حرف اترتا ہے بور کی صورت
جو مجھ سے بانجھ درختوں کی شاخیں بھرتا ہے
راشد امام