تخلیق میں کردار محض نام یا چہرہ نہیں ہوتا؛ وہ کہانی کا دل ہے جس سے معنی پیدا ہوتے ہیں۔ کردار کو مصنف تخلیق کرتا ہے، مگر اسے زندہ رکھنے کی ذمہ داری اسی بنیاد پر ہوتی ہے جو قاری کو انسان کا احساس دلائے۔
کردار کا پہلا ستون خواہش ہے۔ کردار کیا چاہتا ہے اور کیوں؟ یہی خواہش اسے حرکت دیتی ہے۔ دوسرا ستون کمزوری ہے؛ کوئی خوف، خامی یا ماضی کا زخم جو اسے مکمل بناتا ہے۔ تیسری چیز انتخاب ہے: دباؤ میں وہ کیا فیصلہ کرتا ہے؟ یہی لمحہ کردار کی سچائی ثابت کرتا ہے۔
کردار نگاری میں بولنے کا انداز، کوئی عادت یا پس منظر کی ایک جھلک کردار کو پہچان دے دیتی ہے۔ لیکن سب کچھ بیان کرنا نقصان دہ ہے۔ دو ٹھوس اشارے دے کر باقی قاری پر چھوڑ دینا بہتر ہوتا ہے تاکہ وہ خود کردار کو مکمل کرے۔
جب خواہش، رکاوٹ اور انتخاب آپس میں جڑتے ہیں تو تخلیق میں نکھار آتا ہے۔ ایسی کردار نگاری قاری کو صرف کہانی سننے نہیں دیتی بلکہ اسے کردار کے ساتھ جینے پر مجبور کر دیتی ہے۔ یہی تخلیقیت کی اصل طاقت ہے۔ کردار تخلیق کرنے کے حوالے سے مدثر نظر جدون کی نظم ملاحظہ ہو:
ــ لکه زما پۀ خپله ژاړې کۀ نه ــ
قلم مې لاس کښې دے او سوچ کوَمه
د ژوند پۀ سختو افسانه لیکمه
د افسانې نوم مې "امجد” خوښ کړے
ځکه چې دا یې مرکزي کردار دے
زما مرضي چې پۀ امجد سۀ کوَم
دا یو خالق تۀ مکمل اختیار دے
دې افسانې له واقعات خوَښوَم
حیران یم سۀ سۀ پۀ امجد اوکمه
د دۀ سپیرۀ تقدیر کښې سۀ ولیکم
عجبه دا چې دې فرضي کردار ته
زۀ یو خالق پۀ خپله هم ژاړمه
خدایه! نو تۀ چې د دې دومره افسانو خالق یې
هر یو کردار دې نوې نوې المیې سرا مخ
اووایه خپل دې کردارونو ته اوس
لکه زما پۀ خپله ژاړې کۀ نه …
کردار نگاری صرف شخصیت تراشنا نہیں بلکہ زبان، تاریخ اور معاشرتی کشمکش کے اندر سے ایسا آدمی تخلیق کرنا ہے جو اپنے زمانے کی خوشبو اور زخم دونوں ساتھ لے چلے۔ یہ عناصر مجید امجد کی نظموں میں بھی نمایاں طور پر سامنے آتے ہیں۔ ان کی نظم "آٹوگراف” اس کی ایک اہم مثال ہے، جس میں انہوں نے کردار نگاری کا مرکز خود شاعر کے متکلم کو بنایا ہے—ایک ایسا فنکار جو غیر معروف، تنہا اور وقت کے ہجوم میں "پا بہ گِل” کھڑا ہے۔
وہ دنیا کے بڑے اسٹیج پر نہیں بلکہ کنارے پر موجود ہے، جہاں کوئی اس کی موجودگی کو خاص اہمیت نہیں دیتا۔ یہی خاموش اور نظر انداز شدہ ہستی نظم کا بنیادی کردار ہے اور اس کی سب سے نمایاں صفت اس کی تنہائی ہے:
"میں روز ادھر سے گزرتا ہوں، کون دیکھتا ہے؟”
یہ احساس کردار کو عصری بے اعتنائی کے خلاف کھڑا کرتا ہے۔ وہ شکوہ نہیں کرتا، بلکہ صرف یہ ثبت کرتا ہے کہ اس کا وجود بھی تھا اور اس کی آواز بھی تھی۔ یہی خواہش کردار کو اندرونی طاقت دیتی ہے۔
اگرچہ یہاں فطرت کی تشخیص کم ہے، لیکن کردار خود وقت اور ماحول کے سامنے ایسی چیز بن جاتا ہے جیسے کوئی بے جان نشان، جو بولتا تو نہیں مگر "آٹوگراف” کے طور پر اپنا اثر چھوڑ دیتا ہے۔ نظم کا یہ حصہ ملاحظہ ہو:
کھلاڑیوں کے خود نوشت دستخط کے واسطے
کتابچے لیے ہوئے
کھڑی ہیں منتظر حسین لڑکیاں
ڈھلکتے آنچلوں سے بے خبر حسین لڑکیاں
مہیب پھاٹکوں کے ڈولتے کِواڑ چیخ اُٹھے
ابِل پڑے الجھتے بازوؤں، چٹختی پسلیوں کے پُر ہراس قافلے
گرے، بڑھے، مُڑے، بھنور ہجوم کے
وہ بولر ایک مہ وشوں کے جمگھٹوں میں گھر گیا
وہ صفحہِ بیاض پر بصد غرور کلکِ گوہریں پھری
حسین کھلکھلاہٹوں کے درمیاں وکٹ گِری
میں اجنبی، میں بے نشان
میں پا بہ گِل
نہ رفعتِ مقام ہے نہ شہرتِ دوام ہے
یہ لوحِ دل، یہ لوحِ دل
نہ اس پہ کوئی نقش ہے نہ اس پہ کوئی نام ہے
نثری ادب میں کردار نگاری ریڑھ کی ہڈی ہے۔ مختصر جگہ میں وہی کردار قاری کو باندھتا ہے جو چند جملوں میں عادت، لہجہ یا ایک انتخاب سے سامنے آ جاتا ہے۔ لیکن کردار کی خواہش اور اس کی رکاوٹ ہی پلاٹ بناتی ہے۔ جب یہ دونوں واضح ہوں تو مختصر افق میں بھی تناؤ پیدا ہوتا ہے۔
سعادت حسن منٹو، عصمت چغتائی اور راجندر سنگھ بیدی کے افسانوں میں کردار براہِ راست وقت اور سماج کی سچائی دکھاتے ہیں۔ ایک چہرہ پورے نظام کو بے نقاب کر دیتا ہے۔
قاری کردار کے فیصلے سے جُڑتا ہے۔ اگر کردار سچا ہو تو اختتام کی مار گہری ہوتی ہے۔ افسانہ وقت کم دیتا ہے، اس لیے کردار کا ایک ٹھوس فیصلہ یا نشانی پوری کہانی کا بوجھ اٹھا لیتی ہے۔ کردار جتنا زندہ ہو، افسانہ اتنا ہی دیرپا رہتا ہے۔
مدثر عباس
14 مارچ 2026ء