عورت کو اکثر "سائیکو” کہنا ہمارے معاشرے کی ایک پرانی اور غیر منصفانہ عادت ہے۔ جب بھی کوئی عورت اپنے حق کی بات کرے، اپنی پسند ناپسند واضح کرے، ظلم کے خلاف آواز اٹھائے یا جذبات کا اظہار کرے تو فوراً اسے جذباتی، ضدی، پاگل یا "سائیکو” قرار دے دیا جاتا ہے۔ یہ لفظ صرف ایک مذاق نہیں بلکہ ایک سماجی رویہ ہے جو عورت کی شخصیت کو کمزور ثابت کرنے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا عورت واقعی ذہنی طور پر ایسی ہوتی ہے یا یہ مرد پرست سماج کی بنائی ہوئی ایک سوچ ہے؟
ہمارے پدرسری معاشرے میں مرد کو ہمیشہ طاقت، عقل اور فیصلے کی علامت سمجھا گیا؛ جبکہ عورت کو نرمی، خاموشی اور فرمانبرداری کا پیکر بنایا گیا۔ بچپن سے لڑکی کو سکھایا جاتا ہے کہ زیادہ نہ بولو، بحث نہ کرو، برداشت کرو اور ہر حال میں رشتہ بچاؤ۔ دوسری طرف لڑکے کو اختیار، آزادی اور فیصلہ سازی دی جاتی ہے۔ جب یہی لڑکی بڑی ہو کر اپنی رائے دیتی ہے، سوال کرتی ہے یا ناانصافی قبول کرنے سے انکار کرتی ہے تو معاشرہ اسے نارمل نہیں سمجھتا۔ اسے کہا جاتا ہے کہ یہ عورت بہت تیز ہے، بہت بولتی ہے، دماغی طور پر ٹھیک نہیں نری "سائیکو” ہے۔
اصل میں عورت کو سائیکو کہنا ایک دفاعی ہتھیار ہے۔ جب مرد یا سماج عورت کے سوالوں کا جواب نہیں دے پاتا تو وہ اس کی ذہنی کیفیت پر حملہ کرتا ہے۔ اگر بیوی شوہر سے اس کی بے توجہی پر سوال کرے تو کہا جاتا ہے کہ تم ہر وقت شک کرتی ہو۔ اگر بیٹی اپنی تعلیم یا پسند کی شادی کی بات کرے تو کہا جاتا ہے کہ تمہارا دماغ خراب ہو گیا ہے۔ اگر بہو گھر میں ناانصافی پر آواز اُٹھائے تو اسے بدتمیز اور ذہنی مریض قرار دے دیا جاتا ہے۔ یعنی مسئلہ عورت کی سوچ کا نہیں بلکہ اپنے حق میں بولنے کا ہے۔
ہمارے سماج میں عورت کی جذباتی کیفیت کو غلط انداز میں پیش کیا جاتا ہے۔ عورت روتی ہے تو کمزور، غصہ کرتی ہے تو پاگل، خاموش رہتی ہے تو مغرور اور ہنس کر بات کرے تو بے بت میز کہلائی جاتی ہے۔ گویا ہر حالت میں اس پر اعتراض موجود ہے۔ مرد کے غصے کو غیرت کہا جاتا ہے اور عورت کے غصے کو پاگل پن۔ یہی دوہرا معیار عورت کے خلاف سب سے بڑی ناانصافی ہے۔
نفسیات کے ماہرین کہتے ہیں کہ مسلسل دباؤ، گھریلو تشدد، جذباتی نظراندازی، معاشی انحصار اور سماجی پابندیاں کسی بھی انسان کی ذہنی صحت کو متاثر کر سکتی ہیں۔ عورت اگر برسوں تک خاموشی سے ظلم برداشت کرے، اپنی خواہشات دباتی رہے، اپنی شناخت کھو دے تو اس کے رویے میں بے چینی، چِڑچڑاپن اور اضطراب پیدا ہونا فطری عمل ہے۔ ستم یہ کہ معاشرہ عورت کی نفسیات کو اس تناظر میں نہیں دیکھتا۔سماج عورت کے ردِعمل کو دیکھتا ہے اور بغیر سوچے سمجھے آسانی سے فیصلہ سنا دیتا ہے کہ یہ عورت سائیکو ہے۔
پدرسری سماج کو یہ اچھی طرح علم ہے کہ عورت پیدا ہوتے ہی سائیکو نہیں ہوتی، اسے حالات ایسا بنا دیتے ہیں۔ ایک عورت جو مسلسل سُن رہی ہو کہ تم کم تر ہو، تمہاری رائے کی اہمیت نہیں، تمہاری زندگی کا مقصد صرف دوسروں کی خدمت ہے۔اس لعن طعن سے وہ اندر سے ٹوٹنے لگتی ہے۔ جب وہ ٹوٹنے کے بعد ردِعمل دیتی ہے تو لوگ اس ردِعمل کو بیماری کہتے ہیں لیکن اس ٹوٹ پھوٹ کی وجہ نہیں دیکھتے۔
بعض اوقات عورت کا مرد سے اختلاف بھی اسے مشکوک بنا دیتا ہے۔ اگر وہ مذہب، سیاست، تعلیم، شادی یا خاندان کے معاملات میں مرد سے مختلف رائے رکھتی ہے تو اسے باغی سمجھا جاتا ہے۔ ہمارے ہاں مرد کی رائے کو عقل اور عورت کی رائے کو جذبات سمجھا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایک باشعور عورت مَردوں کو خطرناک محسوس ہوتی ہے۔ وہ سوال کرتی ہے، دلیل دیتی ہے، اپنی ذات کو اہم سمجھتی ہے اور یہی چیز پدرسری ذہن کو قبول نہیں ۔
اُردو ادب میں عورت کے اس دُکھ کو بار بار بیان کیا گیا ہے۔ عصمت چغتائی نے عورت کے اندر کی گُھٹن اور سماجی جبر کو بے باکی سے لکھا۔ فہمیدہ ریاض نے عورت کی آزادی اور شناخت کی بات کی۔ پروین شاکر نے عورت کے جذبات کو عزت دی۔ ان خواتین قلم کاروں کو اپنے وقت میں سخت تنقید کا سامنا کرنا پڑا کیونکہ انہوں نے خاموش رہنے سے انکار کیا تھا۔ یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ معاشرہ ہمیشہ بولنے والی عورت سے خوفزدہ رہا ہے۔
یہ بھی سچ ہے کہ کچھ عورتیں واقعی ذہنی دباؤ کا شکار ہوتی ہیں، جیسے مرد ہوتے ہیں۔ ذہنی بیماری صرف عورت کا مسئلہ نہیں بلکہ انسانی مسئلہ ہے۔ ڈپریشن، اینگزائٹی، ٹراما اور ذہنی تھکن جیسی بیماریاں جنس نہیں دیکھتیں۔مزے کی بات یہ کہ عورت کے معاملے میں اسے بیماری سے زیادہ کردار کا مسئلہ بنا دیا جاتا ہے۔ اس کے دُکھ کو سُننے کی بجائے اس کا مذاق اُڑایا جاتا ہے۔
اکیسویں صدی کے بے ہنگم سوشل میڈیا نے اس لفظ کو عام کر دیا ہے۔ آج کل معمولی غصہ کرنے والی لڑکی کو بھی مذاق میں "سائیکو” کہا جاتا ہے۔ یہ مذاق نہیں بلکہ ایک خطرناک سوچ ہے۔ اس سے عورت کی اصل تکلیف چُھپ جاتی ہے اور اس کی بات کو سنجیدگی سے لینے کی بجائے اسے ہنسی میں اُڑا دیا جاتا ہے۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم عورت کو سمجھنے کی کوشش کریں نہ کہ اس پر لیبل لگائیں۔ اگر وہ غصہ کرتی ہے تو شاید اس کے پیچھے برسوں کی خاموشی ہے۔ اگر وہ بار بار سوال کرتی ہے تو شاید اسے بار بار دھوکا ملا ہے۔ اگر وہ اپنی رائے پر قائم ہے تو یہ پاگل پن نہیں بلکہ شعور ہے۔ہمیں عورت کو انسان سمجھنے کی ضرورت ہے۔
پدرسری سماج نے عورت کو یا تو فرشتہ بنایا یا پھر سائیکو لیکن انسان نہیں سمجھا۔ حالانکہ عورت بھی مرد کی طرح مکمل احساسات، خواب، عقل اور کمزوریوں کے ساتھ ایک انسان ہے۔ اسے اختلاف کا، غصے کا، خاموشی کا اور آزادی کا حق حاصل ہے اور ہونا چاہیے ۔
عورت کو سائیکو کہنا دراصل اس کی آواز کو کمزور کرنے کی کوشش ہے۔ بس بہت ہو چکا۔اس سوچ کی نفی کرنا ہوگی۔ اب عورت خاموش نہیں رہے گی۔ اکیسویں صدی کی عورت اپنے دُکھ کو نام دے رہی ہے، اپنی شناخت کو بچا رہی ہے اور اپنی ذہنی صحت کے بارے میں بات کر رہی ہے۔ اصل مسئلہ عورت نہیں بلکہ وہ سماج ہے جو ہر آزاد سوچ رکھنے والی عورت سے خوف کھاتا ہے۔خوف کے اس بندھن کو توڑنا ہوگا۔یہ وقت کا تقاضا نہیں بلکہ فطرت کی پدرسری نظام سے شدید مانگ ہے۔
محسن خالد محسنؔ