بھارت جو دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہونے کا دعویٰ کرتا ہے، آج ایک ایسی حقیقت کے سامنے کھڑا ہے جو اس کے بلند بانگ دعووں کو جھٹلا رہی ہے۔ حالیہ دنوں میں محض ایک جملہ ،آئی لَو محمد ﷺ، پورے ملک میں تنازع بن گیا۔ یہ جملہ جو دراصل محبت اور عقیدتِ رسول ﷺ کا اظہار ہے، اسے جرم کے طور پر پیش کیا گیا، مسلمانوں کو نشانہ بنایا گیا اور کئی شہروں میں پرتشدد کارروائیاں دیکھنے میں آئیں۔
کانپور میں باراوفاط کے جلوس کے دوران ایک بینر پر یہ جملہ لکھا گیا۔ پولیس نے ہنگامی طور پر بینر ہٹا دیا اور درجنوں مسلمانوں کو گرفتار کر لیا۔ یہ سلسلہ دیگر شہروں تک پھیل گیا۔ ہندو کمیونٹی نے جواباً "I Love Ram” اور "I Love Mahadev” کے بینرز آویزاں کیے اور یوں محبت کا اظہار بھی مقابلہ اور سیاست کی بھینٹ چڑھ گیا۔ سوال یہ ہے کہ ایک مسلمان کے اپنے نبی ﷺ سے عقیدت کے اظہار کو اشتعال انگیزی کیوں سمجھا گیا؟
اسلامی تعلیمات میں نبی اکرم ﷺ کی محبت کو ایمان کی بنیاد قرار دیا گیا ہے۔ قرآن مجید ارشاد فرماتا ہے:
"النَّبِيُّ أَوْلَىٰ بِالْمُؤْمِنِينَ مِنْ أَنْفُسِهِمْ” (الاحزاب: 6)
نبی ﷺ اہلِ ایمان پر ان کی اپنی جانوں سے بھی زیادہ حق رکھتے ہیں۔
اسی طرح سورۃ التوبہ میں اللہ تعالیٰ نے واضح فرمایا کہ اگر تمہارے والدین، اولاد اور دنیاوی تعلقات اللہ اور اس کے رسول ﷺ سے زیادہ محبوب ہیں تو اللہ کا عذاب تم پر نازل ہو سکتا ہے۔
نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
"لا يؤمن أحدكم حتى أكون أحب إليه من والده وولده والناس أجمعين” (صحیح بخاری)
تم میں سے کوئی اس وقت تک کامل مومن نہیں ہو سکتا جب تک کہ میں اسے اس کے والد، اولاد اور سب لوگوں سے بڑھ کر محبوب نہ ہو جاؤں۔
یہ تعلیمات واضح کرتی ہیں کہ ،آئی لَو محمد ﷺ، کہنا محض ایک نعرہ نہیں بلکہ ایمان کی صدا ہے، جو ہر مسلمان کے دل کی گہرائیوں سے نکلتی ہے۔ اسے جرم قرار دینا نہ صرف مذہبی آزادی کی نفی ہے بلکہ انسانی ضمیر کو مجروح کرنے کے مترادف ہے۔
بھارت کے آئین میں مذہبی آزادی کے آرٹیکلز موجود ہیں، مگر جب ان اصولوں کا اطلاق مسلمانوں پر نہیں ہوتا تو یہ گارنٹیاں محض کاغذی رہ جاتی ہیں۔ اگر ایک برادری کے لیے محبت کا اظہار "آزادی” کہلاتا ہے اور دوسری برادری کے لیے "جرم”، تو یہ دوہرا معیار بھارت کے سیکولر چہرے پر بدنما داغ ہے۔ یہ رویہ نہ صرف داخلی طور پر خطرناک ہے بلکہ عالمی سطح پر بھی بھارت کے جمہوری تشخص کو نقصان پہنچا رہا ہے۔
اس موقع پر مسلم دنیا کی ذمہ داری بڑھ جاتی ہے۔ پاکستان اور دیگر اسلامی ممالک کو چاہیے کہ بھارت میں مسلمانوں پر ڈھائے جانے والے مظالم پر محض خاموش تماشائی نہ رہیں۔ اقوامِ متحدہ اور او آئی سی میں اس معاملے کو بھرپور انداز میں اٹھایا جائے۔ سفارتی دباؤ، قراردادیں اور انسانی حقوق کے اداروں سے رجوع کیا جائے تاکہ دنیا کے سامنے یہ حقیقت اجاگر ہو کہ عقیدت کے اظہار کو جرم قرار دینا بنیادی انسانی آزادی کے منافی ہے۔
اگر آج خاموشی اختیار کی گئی تو یہ سلسلہ مزید آگے بڑھے گا۔ کل "آئی لَو محمد ﷺ” جرم ہے تو پرسوں حجاب، مسجد یا اذان پر بھی قدغن لگ سکتی ہے۔ اس لیے ضرورت اس بات کی ہے کہ محبت کے اظہار کو جرم بنانے کے بجائے اسے رواداری اور امن کی علامت کے طور پر تسلیم کیا جائے۔
آخر میں علامہ اقبال کے یہ لازوال اشعار ہی ہمارے دل کی ترجمانی کرتے ہیں:
؎ کی محمد ﷺ سے وفا تُو نے تو ہم تیرے ہیں
یہ جہاں چیز ہے کیا، لوح و قلم تیرے ہیں
یہ پیغام ابدی ہے کہ عشقِ رسول ﷺ ایمان کی جان ہے۔ کوئی ریاست، کوئی طاقت اور کوئی قانون اس محبت کو نہ ختم کر سکتا ہے نہ محدود۔ یہ صدا محبت کی ہے، امن کی ہے، ایمان کی ہے—اور ہمیشہ زندہ رہے گی۔