ہمیں، ایک مسلمان ہونے کے ناطے، چاہیے کہ چاہے ہم گناہ گار ہوں یا ثواب کے حامل—دونوں حالتوں میں (طاعت ہو یا معصیت)—خدا کے حضور تواضع و فروتنی اختیار کریں۔ اپنے اندر بے بضاعتی، شرمندگی اور ندامت کی کیفیت پیدا کریں؛ منکسر، ذلیل (عاجز)، اور محقر رہیں۔ یقین جان لیجیے کہ اسی حالت میں انسان کامیاب ہوتا ہے۔ اس صورت میں نہ خدا سے رابطہ ٹوٹتا ہے اور نہ ہی انسان ناامید ہوتا ہے۔
انسان بسا اوقات عبادت و بندگی میں غرور، کبر اور ریا کا شکار ہو جاتا ہے۔ دیکھیے، ایک آدمی چند دن پابندی سے نماز پڑھ لے تو فوراً اپنے لیے بہشت کو واجب سمجھنے لگتا ہے، گویا روئے زمین پر سب سے اچھا انسان وہی ہے! اور اگر کوئی مشکل پیش آئے تو فوراً خدا کے سامنے شکوہ و شکایت شروع کر دیتا ہے—جیسے وہ خدا پر احسان رکھتا ہو—حالانکہ اسے اپنی حرکات کا شعور تک نہیں ہوتا کہ میں کر کیا رہا ہوں! یہی کیفیت خیرات میں، اخلاق میں اور حج و زیارات میں بھی دکھائی دیتی ہے۔
دوسری طرف، انسان کبھی گناہ و معصیت میں اس حد تک آگے بڑھ جاتا ہے کہ خدا سے بالکل ناامید ہو بیٹھتا ہے۔ یقینی بات ہے کہ اس کے گناہ بہت زیادہ ہو چکے ہوتے ہیں، مگر وہ سمجھتا ہے کہ اب واپسی ممکن نہیں۔ ایسے لوگوں کے لیے خدا نے فرمایا ہے: "لَا تَقْنَطُوا مِنْ رَحْمَةِ اللّٰهِ” — اللہ کی رحمت سے ناامید نہ ہو۔
پس عزیزانِ گرامی!
ایک سچا اور پکا مسلمان بننے کے لیے ضروری ہے کہ اسلامی تعلیمات کو درست طور پر سمجھا اور حاصل کیا جائے۔ اصل عبودیت و بندگی آسان کام نہیں۔ ایمان و عمل کے ساتھ مسلسل ریاضت اور سیر و سلوک الی اللہ ہی حقیقتِ بندگی ہے۔ یہ اسی وقت حاصل ہوتا ہے جب دلوں میں خشوع، تواضع، فروتنی، شرمندگی، انکساری، گریہ و زاری، راز و نیاز، خوف و رجا جیسی صفات پیدا ہو جائیں۔ یہی ایک بہترین بندے کی علامت ہے۔
إِنَّ اللّٰهَ یُحِبُّ التَّوَّابِینَ — بے شک اللہ توبہ کرنے والوں کو دوست رکھتا ہے۔
فکر و نظر: محمد حسین بہشتی