خواب کا رنج پہن صبر کو حیران بھی کر

ایک اردو غزل از ارشاد نیازی

خواب کا رنج پہن صبر کو حیران بھی کر
کھردری نیند مری آنکھ کا نقصان بھی کر

خامشی لب پہ سکڑ اور اندھیرے کو کھرچ
صبح کی راہ کو سناٹے کی چٹان بھی کر

خود کو آواز بنا پوروں پہ رقصاں وحشت
در و دیوار کو تھوڑا سا پریشان بھی کر

دشت میں سرخ اذیت کی تھکن سہنے تک
سبز خواہش کی لپک جسم کو ویران بھی کر

اوک میں سمٹی ہوئی پیاس کو جل جانے دے
دھوپ دھتکار , سمندر کو پشیمان بھی کر

ارشاد نیازی

ارشاد نیازی

نیازی تخلص رکھنے والے ارشاد احمد17 اپریل 1979 کو سیالکوٹ ایک قصبے چوبارہ میں پیدا ہوئے ۔ والدہ گھریلو خاتون تھیں اور والد صاحب شعبہ ء حکمت سے وابستہ تھے چار بھائی ہیں ایک بھائی اور شاعری کرتا ہے ابتدائی تعلیم گورنمنٹ ہائی سکول چوبارہ سے، ایف اے پرائیوٹ اور بی اے علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی سے کیا ۔