خواب آنکھوں میں سجاتے رہ گئے
عمر بھر دل کو دُکھاتے رہ گئے
قافلے مڑ کر نہ آئے پھر کبھی
ہاتھ ہم یوں ہی ہلاتے رہ گئے
مل گئے کچھ خط پرانے آج پھر
دیر تک آنسو بہاتے رہ گئے
ایک بستی جو کبھی بستی نہ تھی
عمر بھر اس کو سجاتے رہ گئے
لوگ سالک پوچھتے تھے حال دل
ہم مگر نظریں جھکاتے رہ گئے
محمد عمیر سالک