سرِ دارِ الفت ٹھہر جائیے
حدودِ خرد سے گزر جائیے
نہ کیجے گدائی درِ یار کی
ہنر ہے تو دل میں اتر جائیے
وفاؤں کی قیمت نہیں جس جگہ
اُدھر مسکرا کر مکر جائیے
جو یوسف نہیں وہ تو پھر کس لیے
اداؤں پہ اس کی یوں مر جائیے
حسینوں پہ مرنے سے اچھا ہے سالک
بچا کر انا اپنے گھر جائیے
محمد عمیر سالک