خاموشیوں کے بانے مجھے

منزہ انور گوئندی کی ایک اردو غزل

خاموشیوں کے بانے مجھے کہہ رہی ہے کیا
تھم تھم کے تیرے شہر سے آتی ہوئی ھوا

تیری گلی سے آج جو میرا گزر ہوا
ہر ذرہ مسکرا کے مجھے دیکھنے لگا

یوں خامشی سے فصل بہاراں گزر گئی
جیسے کہ گلستاں میں کوئی منتظر نہ تھا

پھر زلف شام دوش فضا پر بکھر گئی
پھر اک چراغ دل کے شبستاں میں جل اُٹھا

میری مجال کیا کہ شکایت بھی کر سکوں
اے چشم نم مجھ پہ تیرا ہر ستم روا

منزہ انور گوئیُندی

منزہ انور گوئیندی

تعارف منزہ انور گوئیندی کا تعلق ادبی گھرانے سے ہے ان کے والد انور گوئیندی کا شمار مشاہیر ادب میں ھوتا ھے اور وہ اردو ادب کے بانیوں میں سے ھیں ۔ سرگودھا میں کامران مشاعرے اور کامران رسالے کے ذریعے انہوں نے ادب کی آبیاری کی ان کی وفات کے بعد یہ مسند ان کی اکلوتی بیٹی منزہ انور گوئیُندی نے سنبھالی جو ایک نامور افسانہ نگار ، کالم نگار اور شاعرہ ھونے کے ساتھ ساتھ کامران ادبی رسالہ کی مدیرہ بھی ہیں ۔ منزہ انور گوئیندی عالمی شہرت یافتہ قلمکار اور صدا کار ہیں ۔ گزشتہ بیس سال سے ریڈیو پاکستان سے منسلک ھیں اور علمی و ادبی پروگرام پیش کر رہی ھیں ۔ منزہ انور گوئیُندی کو ملکی اور بین الاقوامی سطح پر کئی ایوارڈز اور اعزازات اور میڈلز دیے جا چکے گئے ھیں ۔ حال ھی میں دورہ برطانیہ کے دوران انہیں سفیر ادب کا خطاب بھی عطا کیا گیا ۔ اور ان کے اعزاز میں سکاٹ لینڈ بین الاقوامی مشاعرے کا انعقاد بھی کیا گیا منزہ گوئیندی کے خاندان کا شمار کارکنان تحریک پاکستان میں ھوتا ھے اور اس ضمن میں انہیں سابق صدر پاکستان عارف علوی کی جانب سے گولڈ میڈل بھی دیا گیا