خلیجی سلامتی کو درپیش چیلنج اور ایران کی جارحانہ حکمت عملی
مشرق وسطیٰ ایک بار پھر کشیدگی کے ایسے مرحلے میں داخل ہو رہا ہے جہاں طاقت کے توازن، عسکری حکمت عملی اور علاقائی سلامتی کے سوالات شدت کے ساتھ سامنے آ رہے ہیں۔ حالیہ دنوں میں ایران کی جانب سے خلیجی خطے بالخصوص سعودی عرب اور دیگر خلیجی ممالک کے خلاف بڑھتی ہوئی عسکری سرگرمیوں اور بالواسطہ حملوں نے خطے کے دفاعی ماہرین اور عالمی مبصرین کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔ یہ صورتحال صرف دو ریاستوں کے درمیان تنازع نہیں بلکہ پورے خطے کے سلامتی کے ڈھانچے کو متاثر کرنے والی ایک بڑی اسٹریٹجک کشمکش کی شکل اختیار کرتی جا رہی ہے۔
خلیجی ریاستیں طویل عرصے سے اپنی جغرافیائی حساسیت اور توانائی کے عالمی مرکز ہونے کی وجہ سے عالمی سیاست کا محور رہی ہیں۔ سعودی عرب اور اس کے اتحادی ممالک نہ صرف خطے میں اقتصادی استحکام کے ضامن سمجھے جاتے ہیں بلکہ عالمی توانائی کی فراہمی میں بھی بنیادی کردار ادا کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جب بھی اس خطے میں عسکری کشیدگی بڑھتی ہے تو اس کے اثرات صرف علاقائی سطح تک محدود نہیں رہتے بلکہ عالمی معیشت اور بین الاقوامی سلامتی کے نظام پر بھی اس کے اثرات مرتب ہوتے ہیں۔
ایران کی علاقائی حکمت عملی کو سمجھنے کے لیے اس کی عسکری اور سیاسی پالیسی کا گہرائی سے جائزہ لینا ضروری ہے۔ تہران کی قیادت گزشتہ کئی دہائیوں سے براہ راست جنگ کے بجائے پراکسی حکمت عملی کو ترجیح دیتی رہی ہے۔ اس حکمت عملی کے تحت مختلف گروہوں اور اتحادی قوتوں کے ذریعے دباؤ ڈالنے کی کوشش کی جاتی ہے تاکہ براہ راست جنگ کے خطرات سے بچتے ہوئے سیاسی اور عسکری مقاصد حاصل کیے جا سکیں۔ یہی وجہ ہے کہ خلیجی ریاستیں ایران کی ان سرگرمیوں کو اپنی قومی سلامتی کے لیے براہ راست خطرہ تصور کرتی ہیں۔
سعودی عرب اور دیگر خلیجی ممالک نے اس صورتحال کے پیش نظر اپنی دفاعی صلاحیتوں کو نمایاں طور پر مضبوط کیا ہے۔ جدید فضائی دفاعی نظام، جدید ترین ٹیکنالوجی
اس تناظر میں عالمی طاقتوں کا کردار بھی انتہائی اہمیت اختیار کر جاتا ہے۔ امریکہ اور یورپی ممالک مشرق وسطیٰ میں کسی بڑے عسکری تصادم سے بچنے کے خواہاں ہیں کیونکہ اس کے اثرات عالمی سطح پر توانائی کی منڈیوں، تجارتی راستوں اور بین الاقوامی سلامتی کے نظام پر مرتب ہو سکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ عالمی سفارتی حلقوں میں مسلسل یہ کوشش کی جا رہی ہے کہ کشیدگی کو کم کیا جائے اور تمام فریقین کو مذاکرات کی میز پر لایا جائے۔
تاہم زمینی حقائق یہ ظاہر کرتے ہیں کہ مشرق وسطیٰ میں جاری اس اسٹریٹجک کشمکش کا حل صرف عسکری طاقت کے استعمال سے ممکن نہیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ خطے میں ہونے والی بڑی جنگوں نے تباہی اور عدم استحکام کے سوا کچھ نہیں دیا۔ اس لیے ضرورت اس امر کی ہے کہ سیاسی بصیرت، سفارت کاری اور علاقائی تعاون کو فروغ دیا جائے تاکہ کشیدگی کو کم کیا جا سکے اور خطے کے عوام کو امن اور استحکام میسر آ سکے۔
پاکستان کے لیے بھی یہ صورتحال غیر معمولی اہمیت رکھتی ہے۔ پاکستان کے سعودی عرب اور دیگر خلیجی ممالک کے ساتھ تاریخی، مذہبی اور اقتصادی تعلقات ہیں۔ لاکھوں پاکستانی خلیجی ممالک میں کام کر رہے ہیں اور دونوں خطوں کے درمیان قریبی تعاون موجود ہے۔ ایسے میں پاکستان کی خارجہ پالیسی کا بنیادی اصول یہی ہونا چاہیے کہ خطے میں امن اور استحکام کے لیے متوازن اور ذمہ دارانہ کردار ادا کیا جائے۔
یہ حقیقت بھی فراموش نہیں کی جا سکتی کہ خلیجی خطے میں کسی بڑی جنگ کا آغاز صرف ایک محدود عسکری تنازع نہیں ہوگا بلکہ اس کے اثرات پوری مسلم دنیا اور عالمی سیاست پر مرتب ہوں گے۔ اس لیے ضروری ہے کہ تمام فریقین تحمل، حکمت اور دور اندیشی کا مظاہرہ کریں۔
آج مشرق وسطیٰ ایک نازک موڑ پر کھڑا ہے۔ ایک طرف عسکری طاقت کا مظاہرہ ہے اور دوسری طرف سفارت کاری اور مکالمے کا راستہ۔ تاریخ ہمیں یہی سکھاتی ہے کہ طاقت کے استعمال سے وقتی برتری تو حاصل کی جا سکتی ہے مگر پائیدار امن صرف مذاکرات اور باہمی احترام کے ذریعے ہی قائم ہوتا ہے۔ اگر خطے کی قیادت اس حقیقت کو سمجھ لے تو شاید آنے والے دنوں میں خلیج کے آسمان پر جنگی طیاروں کے بجائے امن اور استحکام کے بادل نظر آئیں۔
یوسف صدیقی