خار چھونے سے بھی ہاتھوں میں اُتر جائے گا

زین علی آصف کی ایک اردو غزل

خار چھونے سے بھی ہاتھوں میں اُتر جائے گا
” مسئلہ پھول کا ہے پھول کدھر جائے گا”

تُو ستم ڈھا کے بھی افسوس کرے گا مجھ سے
جو مرے دل پہ لگا زخم ہے بھر جائے گا؟

یہ بتا ساتھ مرے رخت سفر باندھے گا؟
یا کہ منزل کے تصور سے ہی ڈر جائے گا

اے مرے دل یہ نگر تو ہے جفاکاروں کا
جرم کوئی بھی کرے گا تیرے سر جائے گا

دل دُکھانے کی شرارت نہ کبھی کرنا تم
سات پُشتوں میں شرارت کا اثر جائے گا

دل لگی، یاد، طلب، ہجر، الم، سب ہوں گے
عشق کو چُھونے تلک جاں سے گزر جائے گا

گر وہ اقرار سے اک بار مکر جائیں گے
زینؔ امید لیے بارِ دگر جائے گا

زین علی آصف

زین علی آصف

نام: زین علی آصف قلمی نام: زین جائے پیدائش: لوئر تناول ضلع ایبٹ آباد پاکستان موجودہ پتہ: ایبٹ آباد کے پی کے پاکستان