کرب کے رنگ محبت کی ہوا پہچانیں
کچھ نیا لکھنا ہو تو زخم نیا پہچانیں
مرنے والوں کی طرف سے یہ ہوا ہے اعلان
خامشی ترک کریں شور ِ فنا پہچانیں
کسی کے بغض کا ماتم نہ کریں دل نہ بھریں
کون ہے اچھا یہاں کون برا پہچانیں
ہم نہیں دیکھتے لوگوں کی نظر سے دنیا
ہم نہیں چاہتے پہچانا ہوا پہچانیں
کائناتوں کی کھنک اور دھنک میں اتریں
تابہ افلاک دھوئیں کا یہ خلا پہچانیں
ایک ہی چہرہ لیے سامنے آیا ہوں میں
آپ کی مرضی ہے پہچانیے یا نہ پہچانیں
جو بھی دیکھا ہے فراموش ہی کر دیں اس کو
جو بھی پہچان لیا اس کے سوا پہچانیں
مسجدوں اور مزاروں کے ڈرائے ہوئے ہیں
خوف سے نکلیں تو یہ لوگ خدا پہچانیں
اتنی گمنامی بھی اچھی نہیں ہوتی حیدر
کچھ تو کر لوگ ترے چہرہ ترا پہچانیں
فقیہ حیدر