کراچی کا جلتا ہوا سوال

ایک اردو تحریر از یوسف صدیقی

کراچی ایک بار پھر آگ کے شعلوں میں گھرا ہوا ہے۔ گل پلازہ کا سانحہ محض ایک تجارتی عمارت میں لگنے والی آگ نہیں بلکہ یہ اس پورے نظام پر ایک بڑا سوالیہ نشان ہے جو برسوں سے حادثات کے بعد صرف بیانات تک محدود رہتا ہے۔ یہ واقعہ ہمیں یہ سوچنے پر مجبور کرتا ہے کہ آخر کب تک کراچی کے شہری، تاجر اور محنت کش اپنی جان، سرمایہ اور مستقبل اسی طرح داؤ پر لگاتے رہیں گے۔

گل پلازہ شہر کے قلب میں واقع ایک مصروف تجارتی مرکز تھا۔ یہاں سینکڑوں دکانیں تھیں، ہزاروں افراد کا روزگار وابستہ تھا اور روزانہ لاکھوں روپے کی تجارت ہوتی تھی۔ رات کے وقت بھڑکنے والی آگ نے دیکھتے ہی دیکھتے پوری عمارت کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ شعلے اتنے شدید تھے کہ کئی گھنٹوں تک ان پر قابو نہ پایا جا سکا۔ اس دوران قیمتی جانیں ضائع ہوئیں، متعدد افراد لاپتہ ہوئے اور سینکڑوں خاندان زندگی بھر کی جمع پونجی سے محروم ہو گئے۔

سانحے کے بعد سب سے نمایاں پہلو انتظامی نااہلی کا سامنے آیا۔ تاجر برادری کا کہنا ہے کہ فائربریگیڈ تاخیر سے پہنچی، فائر ٹینڈرز کی تعداد ناکافی تھی اور پانی کی کمی نے ریسکیو آپریشن کو مزید پیچیدہ بنا دیا۔ اگر بروقت اور مؤثر کارروائی کی جاتی تو شاید نقصان اس حد تک نہ پہنچتا۔ یہ سوال اپنی جگہ موجود ہے کہ ایک بڑے میٹروپولیٹن شہر میں آج بھی فائر سیفٹی کا نظام اتنا کمزور کیوں ہے۔

آل کراچی تاجر اتحاد کی جانب سے یوم سوگ کا اعلان دراصل اس اجتماعی دکھ اور غصے کا اظہار ہے جو تاجر برادری کے دلوں میں موجود ہے۔ اتحاد کے چیئرمین عتیق میر کے مطابق گل پلازہ کی بحالی کے لیے تین سے پانچ ارب روپے درکار ہوں گے۔ یہ محض ایک مالی تخمینہ نہیں بلکہ اس کے پیچھے وہ ہزاروں گھرانے ہیں جن کا روزگار ایک ہی رات میں ختم ہو گیا۔ دکان دار ہوں یا سیلز مین، کاریگر ہوں یا مزدور، سب اس سانحے کے بعد بے یقینی اور اضطراب کی کیفیت میں مبتلا ہیں۔

یہاں یہ سوال بھی انتہائی اہم ہے کہ کیا کراچی کی تجارتی عمارتوں میں حفاظتی انتظامات صرف کاغذی کارروائی تک محدود ہیں؟ شہر کے بیشتر پلازے اور مارکیٹس نہ تو مکمل فائر الارم سسٹم سے آراستہ ہیں اور نہ ہی ایمرجنسی اخراج کے راستے قابل استعمال حالت میں ہیں۔ تنگ راہداریاں، غیر قانونی تعمیرات اور گودام نما دکانیں کسی بڑے حادثے کو دعوت دیتی دکھائی دیتی ہیں، مگر متعلقہ ادارے اکثر ان خامیوں پر خاموش رہتے ہیں۔

گل پلازہ کا سانحہ ہمیں احتساب کے کمزور نظام کی بھی یاد دہانی کراتا ہے۔ ہر بڑے حادثے کے بعد انکوائری کمیٹیاں بنتی ہیں، بیانات دیے جاتے ہیں اور رپورٹس تیار ہوتی ہیں، مگر عملی نتائج سامنے نہیں آتے۔ نہ ذمہ داروں کا واضح تعین ہوتا ہے اور نہ ہی مستقبل کے لیے مؤثر اصلاحات کی جاتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ایک سانحہ ختم نہیں ہوتا کہ دوسرا ہمارے سامنے آ کھڑا ہوتا ہے۔

حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ متاثرہ تاجروں اور خاندانوں کو محض دلاسوں تک محدود نہ رکھے۔ فوری مالی امداد، شفاف بحالی پیکیج، بلاسود قرضے اور ٹیکس میں رعایت جیسے اقدامات اب ناگزیر ہو چکے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ شہر بھر کی تجارتی عمارتوں کا جامع فائر سیفٹی آڈٹ اور قوانین پر سختی سے عملدرآمد وقت کی سب سے بڑی ضرورت ہے۔

یہ حقیقت بھی نظر انداز نہیں کی جا سکتی کہ کراچی پاکستان کی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔ اگر اس شہر کے تجارتی مراکز غیر محفوظ رہیں گے تو اس کے اثرات صرف مقامی سطح تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پوری قومی معیشت کو متاثر کریں گے۔ گل پلازہ کا نقصان چند تاجروں کا نقصان نہیں بلکہ ایک اجتماعی معاشی صدمہ ہے۔

سانحہ گل پلازہ ہمیں ایک بار پھر یہ پیغام دیتا ہے کہ انسانی جان کی قدر سرمایہ سے کہیں زیادہ ہے۔ اگر ہم نے اب بھی سبق نہ سیکھا، اگر حفاظتی نظام کو سنجیدگی سے نہ لیا اور اگر ذمہ داروں کو قانون کے کٹہرے میں نہ لایا گیا تو یہ آگ دوبارہ کسی اور نام اور کسی اور جگہ پر بھڑک سکتی ہے۔

اب وقت آ گیا ہے کہ یوم سوگ کو محض ایک علامتی عمل نہ رہنے دیا جائے بلکہ اسے اصلاح اور احتساب کا نقطہ آغاز بنایا جائے۔ کراچی کے شہری مزید لاشیں، مزید راکھ اور مزید وعدے برداشت کرنے کے متحمل نہیں ہو سکتے۔

یوسف صدیقی

یوسف صدیقی

میرا نام یوسف صدیقی ہے اور میں ایک تجربہ کار کالم نگار اور بلاگر ہوں۔ میں نے 2009 سے تحریری دنیا میں قدم رکھا اور مختلف پلیٹ فارمز پر اپنے خیالات عوام کے سامنے پیش کیے۔ میں نے روزنامہ دنیا میں مختصر کالم لکھے اور 2014 میں بہاولپور کے مقامی اخبار صادق الاخبار میں بھی مستقل لکھائی کا تجربہ حاصل کیا۔ اس کے علاوہ، میں نے ڈیجیٹل ویب سائٹ "نیا زمانہ" پر کالم شائع کیے اور موجودہ طور پر بڑی ویب سائٹ "ہم سب" پر فعال ہوں۔ میری دلچسپی کا مرکز سماجی مسائل، سیاست اور عمرانیات ہے، اور میں نوجوانوں اور معاشرتی تبدیلیوں کے موضوعات پر مؤثر اور معلوماتی تحریریں پیش کرنے کے لیے کوشاں ہوں۔ بلاگ نویسی کا تجربہ: میں تقریباً 15 سال سے مختلف پلیٹ فارمز پر لکھ رہا ہوں۔ میری تحریریں عوامی، سیاسی اور سماجی موضوعات پر مبنی ہیں۔