کباڑی غنچے

عندلیب بھٹی کا ایک اردو افسانہ

۱
فرقان نے گہرائی میں بہتے تیز پانی کی طرف ایک نظر دیکھا۔ قدم آگے بڑھایا،کہ بس زندگی کو الوداع کہہ دے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
’’جہاں اچھا کرنا فرض ہو،وہاں کچھ نا کرنا ہی برا کرنا ہوتا ہے۔۔اور اس پر مصداق برا بھی کرتے چلے جانا۔۔چہ معنی۔۔؟‘‘
وہ چنیلیوں سے خواب دیکھنیوالا رشتوں کی چبھن سے منتشر تھا۔
نا سمجھنے سے کچھ کچھ سمجھنے تک فرقان کو پتا چلنے لگا تھا، اچھے اور برے کے درمیان پھیلی طویل خاموشی تنہائی کیوہ ٹل کھڑکاتی ہے،جسے کوئی چودہ برس کا لڑکا سننا نہیں چاہتا۔کبوتر کی طرح آنکھیں بند کرنے کے لیے پرانے ریلوے اسٹیشن کا سناٹاتھا۔
بڑے بھائی کا طنز اور ماں کی بیاعتنائی سمیٹے وہ ایک بار پھر اپنی پناہ گاہ میں تھا۔
بچپن میں ماں کی طرف لپکنے پر سرد مہری اُسے وہاں لے آتی۔ بند پڑا ریلوے اسٹیشن گردو نواح کے
۲
بچوں کے لیے ونڈر لینڈ تھا۔ انجن اور اس کے ساتھ ادھ ادھورے منسلک دو ریل گاڑی کے ڈبّے۔۔بچوں کے لیے الف لیلوی دنیا اور نئے نئے جوا ن ہوتے لڑکے لڑکیوں کے لیے چھپ چھپ کے ملنے کی بہترین سہولت تھے۔
کبھی وہاںریل گاڑی رکا کرتی تھی۔۔پھر بڑے لوگوں کو اِس چھوٹے سے قصبہ نما شہر میں ریلوے اسٹیشن کی سہولت عیاشی دکھائی دی۔فرقان کے لیے البتہ جائے پناہ تھی۔اردگرد کے گھنیدرخت روز ایک نئی رومان پرور داستان تحریر کرتے۔پتا چلاایک کی تکلیف دوسرے کی آسانی بن جاتی ہے۔
فرقان کو خبر ہی نا ہوئی، وہ بچپن کا کھیل کھیلتے،کب اکیلے پن کی دہائی کے لییآنے لگا۔
وہ سوچتافلموں میں ایسے موقعوں پر ایک دوست پاس آ کر بیٹھ جایا کرتا ہے،مگر یہاں ایسا کچھ نہیں تھا۔جیسے جیسے ہم جولیوں کو پتا چلتا گیا کہ وہ اپنے گھر میں ہی اجنبی ہے،انھیں پرایا ہونے میں دیر نا لگی۔اپنے ساتھ کھیلانا بند کرتے کرتے اُس پر جملے بازی کا سفر برق رفتاری سے طے ہوا،
فرقان کی ماںبڑی بہن اور بھائی کو پسند کرتی تھی،’’کیوں‘‘ا بھی تک وجہ سے دور تھا۔
فرقان کے باباکاانتقال ہو گیا۔ ماں انھیں ماموں کے گھر کیا لائی،پھر وہ  انھیں دکھائی ہی نا دیا۔سب سے بڑی بہن کو رونے پر محبت ملتی،بڑے بھائی کے لاڈ اٹھائے جاتے۔۔او رفرقان کے حصّے میں دروازوں کی اوٹ رہ گئی۔وہ لاغر بچہ تھا۔لڑکھڑاہٹ زود رنجی میں ڈھل گئی۔بہت سے رویّے، ناسمجھی کی نذر ہو گئے،اور آج بھی میٹرک کے دو پرچوں میں فیل ہونے کا غم منانے ٹوٹی ریل گاڑی کی برتھ پر بیٹھا تھا۔آنسوؤں سے زیادہ اِس بات کی فکر تھی کہ کوئی دیکھ نا لے۔
’’اسے بس اپنی خوبصورتی پر گمان ہے۔نہیں جانتا کہ لڑکوںکے لیے قابلیت اہم ہوتی ہے۔‘‘
سبھی مضامین میں واجبی نمبروں سے پاس ہونیکے ساتھ ساتھ حساب اور سائنس میں بری طرح فیل
۳
ہوا تھا۔
باہر کھٹکے پر چونک کر دیکھا،اِس کے ساتھ ہی بڑے بھائی جبران کی آواز نے دل پر پتھر مارا۔
’’۔۔اور دیں فیسیں، کہا بھی تھا کہ میں سمجھا دیا کروں گا،مگرا ِسے تو میرے برابر کھڑے ہونا تھا،میرے ہی طرح ٹیوشن پڑھنی تھی،بھئی یہ مجھے نہیں پڑھا سکتا،بجو نہیں پڑھا سکتی۔۔مجھے ٹیوشن رکھنی ہی تھی،نا۔۔اور رکھی تو فرسٹ ڈویژن بھی تو لایا ہوں۔۔اور اِسے۔۔دیکھ لیں اب۔۔‘‘
فرقان نے ماضی کو فراموش کرتے ہوئے ماں کی طرف اپنی آس بھیجی،مگر اُس کے لیے ہمیشہ کی چپ ابھی تک قائم تھی۔بہن کو بڑے بھائی پر فخر تھا۔وہ اُس کا میکہ قائم رکھنے والا تھا۔
بادبان کھلنے سے پہلے سمندر کا اشارہ سمجھنا اُس کے لیے مشکل تھا۔نہیں جانتا تھا کہ کنارہ نئے سمندر کو سامنے لا کھڑا کرے گا۔وہ محبت کا متلاشی ردعمل کے درد میں جیے جا رہا تھا۔
’’خوب صورت۔۔تو کیا میرے پاس بھی کچھ خاص ہے۔‘‘
رندھے ہوئے گلے سے تھوک نگلتے بھائی کے طنز نے پہلی بارفرقان کو اپنی خوبی کا پتا دیا۔
ہمیشہ کی طرح درد کی محفل سجا کر خود پر بے تحاشا ترس کھانے کے بعد رات گئے وہ گھر لوٹا تو ماموں کی بیٹی کو جبران کے ساتھ سرگوشیوں میں دیکھ کرخود کو واپس ریلوے اسٹیشن کی ٹوٹی برتھ پر لیٹا ہوا پایا۔
طنزیہ ہنسی کی آواز پر مڑ کے دیکھا تو جبران کی آواز کانوں میں نہیں دل کی سماعت پر برسی۔
’’۔۔تو تم نے شمسہ کے خواب بن لیے تھے۔ہا ہا ہہا۔۔ہا۔۔بیوقوف۔۔ماموں اپنی بیٹی کی شادی کسی نکمّے سے تو کبھی نہیں کرنے والے۔۔ہماری منگنی کی تاریخ رکھ دی گئی ہے۔‘‘
’’۔۔تو کیا وہ اتناہی کھلی کتاب ہے؟‘‘جبران کافوری ردعمل اُسے چونکا رہا تھا۔
فرقان کو خبر نا ہوئی وہ ردعمل سے نکل کر ادراک کے راستوں میں کھڑا تھا۔ابھی کئی دریا سامنے تھے اگر وہ اپنی آگہی کو جلا نا بخش سکا۔۔اور ایسا ہی ہوا۔زود رنجی نے اُسے خود کو دیکھنے نا دیا۔اُس کی نگاہ رشتوں پر ہی رہی۔۔اور ماضی اُس کا مستقبل بنتا چلا گیا۔وہی اُن کے لہجے،وہ ہی اُس کی ہار،اور وہی ریل کا ڈبّا۔جبران ایم بی اے کر چکا تھا۔جب کہ فرقان نے واجبی سے نمبروں سے بی اے کیا۔۔
جبران کو جلد ہی ایک کمپنی میں ملازمت ملنے والی تھی،جب کہ فرقان کی زندگی ایک ہی دائرے میں گھوما کر کہیںنہیں لے گئی تھی۔وقت گزر رہا تھا۔وہ اور اُس کا سوگ ہنوزاکیلے تھے۔
فرقان کی شاد ی کی تیاریاں جاری تھیں۔اور فرقان ایک ایسا وجود تھا،جو ہو کر بھی کہیں نہیں تھا،اُس سمیت سبھی نے ہار کو اُس کے وجود کا حصّہ مان لیا تھا۔۔۔اوراتنا۔۔کہ اب طنز کے قابل بھی نہیں رہا تھا۔گویا وہ اِس قدر پستی میں تھا کہ مقابلے کی دوڑ سے ہی خارج کر دیا گیا تھا۔
وہ کسی تیکھے جملے سے ڈرتے کمرے سے باہر آیا،مگر کوئی نظر اٹھی نا جھکی۔نا کوئی شکوہ ناہی کڑواہٹ۔ہر طرف ایک اجنبی گہما گہمی حیات تھی۔
چوبیس برس کے فرقان نے پھر قدموں کو ہدایت نہیں کی۔اِس لیے آج ریلویاسٹیشن اور گاڑی کا ڈبّا کہیں پیچھے رہ گیے۔
’’بس اے زندگی جی لیا تجھے۔۔مجھ میں اب تجھے جیے جانے کی ہمت نہیں۔‘‘
وہ ایک پتھر پر سر رکھ لیٹ گیا۔
’’دل کرتا ہے،آنکھ بند کروں تو کبھی نا کھولوں۔‘‘
یہ کیسی سوچ تھی۔فرقان کے جسم میں ایک جھٹکا لگا۔وہ ہڑبڑا کے اٹھا اورکھائی کے کنارے پہنچ گیا۔ایک قدم اٹھایا تھا کہ نظر نیچے گہرائی سے الجھ گئی۔اب اُس کا ایک پاؤں ہوا میں اور دوسرا زمین پر تھا۔
اُس پل بادل زور سے گرجا۔وہ گھبر اکر پیچھے ہٹا۔۔اور پھر آگے بڑھا۔۔وہ کسی’ہاں‘ اور’ناں‘ کے بیچ ڈول تھا۔خو د ترسی کسی فیصلے کی طرف بڑھ رہی تھی۔اُ س نے پھر سے قدم کھائی کی طرف بڑھایاتھا کہ ہلکی
۵
ہلکی بارش نے اُسے رونے کی اجازت دی۔وہ سسکتے ہوئے واپس پلٹا۔ایک پرانے درخت کے نیچے
بوسیدہ بینچ پر بیٹھ کر مرنے کی ہمت میں بے اختیار روتا چلا گیا۔
مدھم پھوہار کب کی تھم چکی تھی مگرفرقان کے اندر جل تھل پورا ایک پہر لے گیا۔شانے پر کسی کا ہاتھ نہیں تھا،نا ہی گلے لگانے کے لیے کوئی وجود۔۔۔ہر بار کی طرح خود کو تھام کر گھٹنوں پر سر رکھ دیا۔آنسوؤں نے آنکھ،اور بارش نیبینچ کی گرد صاف کر دی تھی۔
’’میری زندگی پر سب سے پہلے،سب سے زیادہ میرا حق ہے،سومیں اپنے جینے کی وجہ خود کیوں نہیں ہو سکتی؟‘‘
بینچ کی پشت پر کالے مارکر کے ساتھ ایک جملہ لکھا ہوا دکھائی دیا۔
دھڑ،دھڑ،دھڑ۔۔متروک ریلوے اسٹیشن پرگاڑی برق رفتاری سے گزر گئی۔ریل کا پرانا انجن ایک انگڑائی لے کے تروتازہ کھڑا سفر کے لیے تیّار تھا۔
اسٹیشن کے سبھی زرد پتے ایک تیز ہوا کا جھونکا اپنے ساتھ اڑا لے گیا۔مانو جیسے سب کچھ نیا نکور ہو گیا ہو۔
ایک ہی پل میں صدیوں کا سفر طے ہو گیا۔ایک منٹ پہلے کا فرقان کہیں نہیں تھا۔گذشتہ چوبیس برس دگڑ دگڑ بھاگتے ہوئے اُس کے سامنے مذاق بن کے گزر گئے۔
فرقان نے اپنے سینے کے بائیں جانب پھیلی گھٹن کے عفریت کو کلمۂ حق کی صدا سن کر بیمار کے اندر سے چھٹتے دیکھا۔اُس نے جھک کر تحریر کا باقی ماندہ کچھ تلاش کرنا چاہا۔۔۔اور وہ کامیاب ہوا۔
اُس کی پشت کے پیچھے بینچ پر ایک تحیریر مٹے مٹے نقوش کے باوجود اپنا پورا متن پیش کر رہی تھی۔اُس نے تیزی سے ہاتھ پھیر کر رہ گئی مٹی صاف کی۔
’’اگر تم ردِعمل میں فیصلے کرتے ہو،تو جان لو تم جیتے ہو نا مرتے ہو۔تم پر تمھارا اختیار نہیں۔تمھیں تو کچھ
۶
دوسرے لوگوں کے اشارے،حکم دیتے ہیں۔لہذاتم وہ کبھی نہیں کرتے جو دراصل کرنا چاہتے ہو،تو تم کیا اپنی زندگی کے مختار ہو۔تمھیں خبر ہی نہیں ،دراصل تمھاری زندگی کوئی اور جی رہاہے۔‘‘
آنکھ کی کور بھیگ گئی۔فرقان بینچ پر چت لیٹ گیا۔یہ کس مقام پہ قدرت نے جینے کی نوید دی ڈالی۔بیتے برسوںکا خسارہ آنکھ میں تیرنے لگا۔جانے بارش کا اثر تھا کہ نظریے کا۔۔سب کچھ دھلا دھلایا تھا۔
دکھائی نا دینے والا کب گیا،کب آیا۔کسی کو خبر نا ہوئی،مگر چند ہی روز میں چونکنے کا مرحلہ آ گیا۔فرقان کی خاموشی میں پہلے کی سی دردمندی کی جگہ جو چیخ تھی،وہ سب کے کان پھاڑ رہی تھی۔
وہ خاموش،مگر مصروف۔۔،وہ خاموش،مگر مطمئن،وہ خاموش، مگر گردو نواح سے بے نیاز۔۔اور یہی وہ ادا تھی جو ناقابلِ برداشت اور نعرہ ٔ بلند تھی۔
’’تمھیں کیا ہوا؟‘‘
’’کیوں؟ کیا ہوا؟‘‘
سب سے پہلے ماں اور بیٹے کے درمیان مکالمہ ہوا۔
سوال کے جواب میں سوال تھا،جس کا جواب بہرحال کسی کے پاس نہیں تھا۔
’’تم کچھ بدل سے نہیں گئے؟‘‘
’’اچھا؟کیسے۔۔؟‘‘
بہن بھائی کا مکالمہ ایک بار پھر ایک سوال لیے کھڑا تھا۔جس کا جواب سامنے والے کے پاس نہیں تھا۔
’’کسی دو نمبر ی میں تو نہیں پھنس گئے؟‘‘
’’کیسے۔۔؟‘‘
جبران نے طنز کی تو اُسے بھی سر ٹکرانے کو ایک سوال ملا۔
۷
کبھی نا توجہّ دینے والے،اُس کے بارے میں بات کر تو رہے تھے مگریہ اُن کو قبول نہیں تھا۔
’’کسی لڑکی کا چکر تو نہیں چلا رہا۔۔؟‘‘
بہن نے ماں اور بھائی کے سامنے ہر گھر کی بات کہی۔۔تو جبران نے قہقہہ بلند کیا۔
’’لڑکی۔۔بات سے پہلے اُس کی سسکی نکل جاتی ہے۔لڑکی کہاںسے آئے گی۔چھوڑو۔۔آپ لوگ بھی کیا لے بیٹھے، توجہّ حاصل کرنے کے ہتھکنڈے ہیں۔‘‘
جبران کو اپنے بارے بات کرنے کی بجائے فرقان کا تذکرہ قطئعی قبول نہیں تھا۔
رات کا پہلا پہر تھا۔فرقان اپنے کمرے میں بستر پر لیٹا مستقبل کی منصوبہ بندی کر رہا تھا۔اُسے جلدی تھی۔بیتے برسوں کا خسارہ کندھوں پر اٹھا رکھا تھا۔تکیّے کے بائیں جانب ٹیپو سلطان کی سرگذشت رکھی تھی۔
اچانک وہ چونک کر اٹھ جاتاہے۔
’’وہ۔۔وہ تحریر لکھنے والا کون تھا؟۔۔وہ مفہوم۔۔گویا اُسی کے لیے ہی ہو۔اگر میں اُس انسان کو تلاش کر لوں تو مجھے کسی کے ساتھ کی ضرورت نہیں رہے گی۔‘‘
اُس رات کی صبح تک فرقان کو جان سے جانے کا اندیشہ لاحق ہو گیا۔تجسّس اور کسی کے ملنے کے اشتیاق نے اُس کے جسم میں سنسناہٹ پیدا کر دی۔برسوں کی تنہائی دوسراہٹ میں بدلتی دکھائی دی۔اُس نے رات آنکھوں میں کاٹ دی۔آذان کی پکار کے ساتھ وہ بستر سے نیچے تھا۔
نماز ادا کرنے تک دل کی دھڑکن زبان بن چکی تھی۔
فرقان تیزی سے موٹر سائیکل کی چابی اٹھاتے ہوئے باہر کی طرف تھا۔اُس کی تیزی بہت سوں کو مشکوک سرگرمی کا پتا دے گئی۔۔۔وہ۔۔وہ تھا کہ اُس کی ہر حرکت کے ساتھ خود بہ خود کچھ منفی جوڑ دینا لازم
۸
تھا۔ہاں!اگر جبران یہ سب کچھ کرتا تو یقیناََ اُسے مثبت مانا جاتا۔
پتا چلا سچ اور جھو ٹ۔۔حقیقت اور افسانہ،اچھا یا برا،فاعل کی شخصیت کے ساتھ تبدیل ہو جاتاہے۔اُس کا اپنے تعیں کوئی معیار یا تعریف نہیں ہے۔
موٹر سائیکل کو انتہائی رفتار پر بھگاتے ہوئے وہ آدھ گھنٹے میں اپنے مطلوبہ بینچ پر تھا۔مختلف زاویوں سیتحیریر کی تصاویر لے کے اُس نے کچھ اور کے لیے ایک گھنٹہ چھان بین کی مگر بے سود۔۔۔بار بار لکھے کو پڑھ کے اُس پتا چلاکہ وہ تحریر کسی لڑکی کی تھی۔۔اِس انکشاف نے اُسے جہاں چونکایا،وہ کسی رویہ ساز کی تلاش میں یہاں تک پہنچا تھا۔
’’۔۔۔تو کیا قابلیت کے لیے ہستی کی تشکیل اہم ہے؟جہاں علم ہو،وہی درگاہ ہے۔‘‘
اُس نے خود کو سرزنش کی،اور ایک بار پھر گھنے درخت کے نیچے اُس بوسیدہ بینچ پر چت لیٹ کر لکھنے والی کی منظر کشی کرنے لگاتھا،کہ چڑیا کی چوں چوں نے اُس کے خیالوں میں ارتعاش پیدا کیا۔اُس نے آنکھ کھول کر اُوپر دیکھا۔چڑیاشاخوں میں پھنسے ایک پرس میں تنکے گھسانے کی کوشش میں چڑچڑی ہو رہی تھی۔
فرقان تیزی سے بینچ پر کھڑا ہوا اور بیگ کو کھینچا۔
’’بی چڑی،اِس کی زپ بند ہے۔اور ننھے سے سوراخ میں تم کیسے گھونسلہ بناؤ گی۔میں اِس کی جگہ تمھیں کچھ اور دیتا ہوں،جس میںتمھارا گھر آسانی سے بن جائے گا،بلکہ میں تمھاری مدد کر کے جاؤں گا۔‘‘
فرقان نے تیزی سے جس آس میں پرس کی زپ کھولی۔اُسے نااُمیدی نہیں ہوئی۔
لڑکی کانام دعا تھا،اور مختلف بھرتی کی چیزوں میں اُس کے لیے کچھ کاغذوں پر چند تحاریر موجود تھیں،جو
۹
اُس نے کبھی کسی بھی وقت لکھ کر بیگ میں ڈالی ہوں گیں۔گویا ہر منظر کے ساتھ وہ کچھ نا کچھ کہنے کو لکھ لیا کرتی تھی۔۔۔اور اُس کی تحریر کسی کے لیے مشعل راہ ہوئی۔
رات کا ابتدائی پہر تھا۔فرقان اپنے بستر پر کاغذ کے پرزے پھیلائے بیٹھا تھا۔
۔۔۔’’سنو!دعا کے لییکہا نہیں جاتا۔دعا وہ جو تمھارا مقصد پورا کر دے،وہ تو لے لی جاتی ہے۔۔وہ کمائی جاتی ہے۔اُس کے لیے کہنے کی ضرورت نہیں پڑتی۔محبت بھی طے کر کے نہیں کی جاتی۔۔اسے بھی کمالیا جاتاہے۔ہر اُس جگہ اپنے ہونے کو ثابت کر کے جہاںوہ اکیلی ہو۔اور گلے لگانے کو کہا نہیں جاتا،گلے توکوئی بیاختیار لگا لیتا ہے،تم اُس بے اختیاری کا موجب بنو۔‘‘
۔۔۔’’پجاری اٹھ کر چلا جائے،تو قصور دیوتا کا ہے۔‘‘
۔۔۔’’وہ جن بچوں کو درخت کی چھاؤں نا ملے،اُ ن کے لہجے کی گرمی کو برداشت بھی کرنا سیکھو۔‘‘
’’۔۔اور اگر میں تمھارے ہونے کے باوجود تنہا محسوس کروں تو،تم کون ہو۔۔۔؟‘‘
’’۔۔اور مجھے تنہا کر دیا گیا ہو،تو میں اپنے جینے کی وجہ خود کیوں نہیں بن سکتی۔۔میری زندگی کوئی دوسرا کیوں بسر کرے گا۔‘‘
چند مڑے تڑے کاغذ فرقان کی زندگی کی اثاث ہو گئے۔
’’آج سے میری زندگی میں ہر اُس بات کے لیے ناں ہے،جسے کسی نے ہاں بنا دیا تھا۔آج سے میں ہوں خود اپنے لیے۔۔‘‘
اُس رات کی صبح تک فرقان کی زندگی کے دو ہی مقصد تھے،ترقی اور دعا کی تلاش۔۔چھوٹی سی ڈائری پر کچھ فون نمبر تھے۔۔جو اُس کی تلاش کے آغاز تھے۔مسلسل کوشش کے باوجود بھی اُن سے کوئی سیدھا سراغ نا ملا کہ وہ مختلف دکانوں کے تھے۔
۱۰
گھر والوں نے چہ مگوئیاں کیں،مگر فرقان کی خاموشی میں چھپی طمانیت کنکریٹ تھی۔جس سے سر ٹکرا کر خاموش ہوجاتے۔وہ مطلب کی بات کرتا،اِس کے بعد کوئی خواہ چلا چلا کر ہار جائے۔۔
نہیں جانتے تھے وہ اب صرف اپنی کہنے میں ہے۔۔سننے میں نہیں۔
۔۔اور چونکہ دو برس بیت جانے کے باوجود وہ غلط سامنے نہیں آیا جس کی انھوں نے آس باندھ رکھی تھی۔۔اِس لیے سب ایک دوسرے کے ساتھ پھر سے بندھ گئے۔
جبران البتہ آتے جاتے کوئی جملہ کسنے سے نا رکتا،مگر اُسے مایوسی ہوتی۔۔ ایسے لگتا جیسے وہ کسی دیوار سے بات کر رہا تھا۔وہ یوں بھی اپنی شادی کے نئے نئے دنوں میں مست تھا۔
وقت کچھ قدم آگے بڑھا۔فرقان کی محنت اور دعا کی تلاش اوّل روز کی طرح تروتازہ تھے۔
اُس نے اپنے اندر کی آگ کو کبھی مدھم نا ہونے دیا۔۔اِس لیے کبھی کبھار کسی سے کوئی بات کر لیاکرتا،تا کہ سامنے سے آئے جملے اُس کے اندر انگار دہکائے رکھیں۔وہ اور بات کہ سامنے والا جواب میںمدھم مسکراہٹ دیکھ کربیزار ہو جاتا۔
پانچ برس بیت گئے۔شروع کی گئی دو کوششیں،اپنی لگن میں سچ کا فردا تھامے سامنے تھیں۔اُس نے سی ایس ایس کا امتحان پاس کر لیا تھا۔
اُسے دعا کے گھر کا پتا مل گیا تھا۔
اُس رات اُس نے جی بھر کے اُس منظر کو یاد کیا،جب اُس کا ایک قدم زمین پر اور دوسرا ہوا میں معلق،زندگی اور موت کے بیچ لہرا رہا تھا۔
اُس کے ہاتھ میں دعا کا پرس تھا۔اُس نے زندگی کے ہر مشکل لمحے میں دعا کی تحریر کو پڑھا تھا۔۔وہ جیسیسامنے کھڑے کاندھے پر ہاتھ رکھے اُسے بتا دیتی کہ کیا کرنا چاہیے۔وہ اُس تحریر اور تصّور کے
۱۱
ہوتے کبھی اکیلا ہوا ہی نہیں تھا۔
صبح سویرے اُس نے اپنی گاڑی کا دروازہ کھولا ہی تھا کہ ماں،بہن او ر بھائی فوراََ سامنے آئے۔۔اور مبارک باد پیش کی۔ماں نے وہ ماتھا چومنے کی کوشش کی جو کبھی بخار کی شدت میں اِس چوم کی آس میں پارنے انجن کی برتھ پر تنہا ہواکرتا تھا۔بہن نے تالی بجائی۔
’’کوشش کے راستے میں تنہاچلنے والے کو پھر فرق نہیں پڑتا کہ تالیاں بجاتے ہجوم میں کون اپنے پن کی دہائی دے رہا ہے۔‘‘
فرقان نے ماں کا ہاتھ ایک طرف کرتے ہوئے گاڑی کا دروازہ کھولا۔
دعا کا پرس اُس کے گلے میں جھول رہا تھا۔اُس نے بگٹٹ بھاگتے دل پہ ہاتھ رکھتے دروازے کی گھنٹی بجائی۔
’’جی دعا مُصطفٰی سے ملنا ہے۔‘‘
دروازہ کھلتے ہی اُس نے بنا سامنے کھڑی ہستی کا جائزہ لیے خود کو کہتے سنا۔
جواب کے انتظار میں دو لمحے صدیاں بن کے درمیان میں کھڑے
ہوئے۔سامنے کھڑی پچاس برس کے قریب خاتون کے جسم میں ایک جھٹکا لگا،مگر لب ہل کر رہ گئے۔کوئی انیس بیس برس کی لڑکی نے پیچھے سے کڑک آواز میں کہا۔
’’پھپھو۔۔؟پھپھونے تو پانچ سال پہلے خودکُشی کر لی تھی،آپ تجمل صاحب ہیں ۔۔کیا۔۔؟‘‘
ایک انٹرویو کے دوران فرقان نے جب اپنی کہانی سناتے ہوئے،بوسیدہ بینچ کا تذکرہ کیا تو یہ بات پوری شدومد سے عام ہو گئی۔بہت سے طالب علم اُس بینچ تک پہنچے،مگر بہت تلاش کے باوجود انھیں بینچ پر کوئی تحریر،درخت اور چڑیا کا گھونسلہ کہیں دکھائی نا دیا۔

عندلیب بھٹی

عندلیب بھٹی

ریسرچر علم بشریات۔۔مصنفہ۔۔رویہ ساز۔۔۔کاونسلر۔۔۔روحانی طبیبہ