کار دنیا سے یا اس کار زیاں سے آگے

علی کوثر کی ایک اردو غزل

کار دنیا سے یا اس کار زیاں سے آگے
کوئی رستہ کوئی پگڈنڈی یہاں سے آگے

میرے الفاظ سے کھلتی نہیں اس پر میری بات
چاہیے ذریعہ ترسیل زبان سے آگے

اک یقیں لے کے چلا مجھ کو یقیں کے پیچھے
اک گماں مجھ کو چلا لے کے گماں سے آگے

میں نے تصویر کیا ہے جسے احساس کے ساتھ
وہ جہاں ہے تیری تصویر جہاں سے آگے

اک دیا جلتا ہے سینے کے نہاں خانے میں
اور ہوا چلتی ہے اس دار نہاں سے آگے

علی کوثر

علی کوثر

میرا تعلق گوجرانولہ سے ہے - میں ملازمت پیشہ ہوں اور بیکن ہاؤس سے منسلک ہوں -