جگر میں، آنکھ میں، خُوں میں

ایک اردو غزل از عُظمی جٙون

جگر میں، آنکھ میں، خُوں میں، کہاں پہ رکھا جائے ؟
سوالِ وصل تو نوکِ زُباں پہ رکھا جائے ؟

زماں پہ اور نہ کون و مکاں پہ رکھا جائے ؟
یہ بارِ غم تو دلِ ناتواں پہ رکھا جائے ؟

ہے رٙتجگوں کا پڑاؤ ہماری آنکھوں میں،
تو کیوں نہ خواب کو دل کی دُکاں پہ رکھا جائے ؟

یہ کاروبارِ مُحبّت جُنُوں کا سودا ہے،
تو کیا خیال ہے اس کو زیاں پہ رکھا جائے ؟

ہمارے پاس ہے چاہت، جُنُوں، بد عہدی،
سوال یہ ہے کہ کِس کو کہاں پہ رکھا جائے ؟

یہ گھر کی بات ہے، گھر میں رہے تو بہتر ہے،
زمیں کا فیصلہ کیوں آسماں پہ رکھا جائے ؟

اُسی روایتِ شبیرؓ کے ہیں داعی ہم،
ہمارے سر کا عٙلٙم بھی سِناں پہ رکھا جائے ؟

عُظمی جٙون

عُظمی جَون

عُظمی جَون- سِبّی : بلوچستان-دو شعری مجموعوں کے خالق :*خِزاں کی رُت سُنہری ہے**ستارے میرے آنسو ہیں*- پروفیسر/پرنسپل (ریٹائرڈ)- مقامی، صوبائی، ملکی اور عالمی مشاعروں میں شرکت۔ لاتعداد ایوارڈ و اسناد یافتہ۔ *فن اور شخصیت*- *خِزاں کی رُت سُنہری ہے کا فنی جائزہ* - *"خِزاں کی رُت سُنہری ہے" کا تنقیدی جائزہ*- *عُظمی جَون کی شاعری میں روایت و جدیدیت کا تقابلی جائزہ* جیسے عنوانات کے تحت BS, ایم ایس اور M.Phil کی سطح پر تحقیقی مقالہ جات۔ Face Book, YouTube، Instagram جیسے سوشل میڈیا پر Uzmee Jaon کے نام سے چینل اور پیجز۔ریختہ اور گوگل پر مواد موجود۔آذربائیجان میں عارضی رہائش۔