جسوندر سنگھ بھلا کی یاد میں

ایک اردو تحریر از یوسف صدیقی

مشہور پنجابی فلم جٹ اینڈ جولیٹ کے مزاحیہ اداکار جسوندر سنگھ

بھلا کی آخری رسومات 23 اگست بروز ہفتہ ادا کی جائیں گی۔ ان کے انتقال کی خبر نے نہ صرف پنجابی فلم انڈسٹری بلکہ دُنیا بھر میں موجود اُن کے مداحوں کو افسردہ کر دیا ہے۔ پنجابی مزاحیہ فلموں کا یہ روشن ستارہ ایک بھرپور زندگی گزار کر رخصت ہوا اور اپنے پیچھے یادوں کا ایسا خزانہ چھوڑ گیا ہے جسے فراموش کرنا ممکن نہیں۔

جسوندر سنگھ بھلا کا شمار اُن فنکاروں میں ہوتا ہے جنہوں نے مزاح کو ایک نئی پہچان دی۔ ان کا اندازِ گفتگو، کردار میں سادگی اور طنز و مزاح کے ذریعے حقیقت کو اجاگر کرنے کا فن انہیں دوسروں سے ممتاز کرتا تھا۔ جٹ اینڈ جولیٹ جیسی کامیاب فلموں نے انہیں شہرت کی بلندیوں پر پہنچایا اور یہ ثابت کیا کہ کامیڈی صرف ہنسنے ہنسانے کا ذریعہ نہیں بلکہ ایک گہری سوچ اور پیغام بھی رکھتی ہے۔ ان کے کرداروں میں موجود فطری معصومیت اور عوامی زبان کا استعمال ہر عمر کے لوگوں کو بھا گیا۔ چاہے وہ چھوٹا کردار ہو یا بڑے پردے پر اہم سین، بھلا صاحب نے ہمیشہ اپنی موجودگی کو لازوال بنایا۔

بھلا صاحب نے ہمیشہ اپنے کرداروں کے ذریعے عوام کو نہ صرف ہنسایا بلکہ معاشرتی رویوں پر روشنی بھی ڈالی۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے ڈائیلاگ آج بھی عوامی زبان کا حصہ ہیں۔ ان کی شخصیت میں شرافت، ملنساری اور عاجزی نمایاں تھیں۔ ان کے ساتھی فنکار اکثر کہتے تھے کہ جسوندر سنگھ بھلا صرف ایک اچھے اداکار ہی نہیں بلکہ ایک بہترین دوست اور نیک دل انسان بھی تھے۔ ان کی مجلس میں بیٹھنے والے ہمیشہ ان کی باتوں سے خوشی اور سکون محسوس کرتے تھے۔

پنجابی فلم انڈسٹری کے دیگر فنکاروں نے بھی ان کے انتقال پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔ ان کے مطابق بھلا صاحب کی کمی کو پورا کرنا تقریباً ناممکن ہے کیونکہ وہ ایک ایسے فنکار تھے جو ہر نسل کے لیے یکساں مقبول رہے۔ نوجوان فنکار انہیں اپنا استاد سمجھتے تھے جبکہ پرانے فنکار ان کے تجربے اور خلوص کی مثال دیتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ صرف ایک اداکار نہیں بلکہ ایک ادارہ تھے۔

ان کے جانے سے پنجابی فلم انڈسٹری ایک بڑے خلا سے دوچار ہو گئی ہے۔ ایسے فنکار صدیوں میں پیدا ہوتے ہیں جو اپنے کام سے دلوں میں زندہ رہتے ہیں۔ ان کی فلموں کے کردار، مکالمے اور ان کی مخصوص مسکراہٹ ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔ ان کی کامیڈی میں فحاشی یا بازاری پن نہیں ہوتا تھا، بلکہ وہ روزمرہ زندگی کے مسائل کو اس انداز سے بیان کرتے کہ ہر شخص اپنی جھلک ان کرداروں میں دیکھتا تھا۔

جسوندر سنگھ بھلا کے چاہنے والے یہ یقین رکھتے ہیں کہ ہنسی اور خوشی کے لمحے جو انہوں نے اپنے فن کے ذریعے بانٹے، وہ ان کی اصل پہچان رہیں گے۔ ان کی یاد میں صرف غم ہی نہیں بلکہ وہ مسکراہٹیں بھی شامل ہیں جو انہوں نے لاکھوں چہروں پر بکھیر دیں۔ آنے والے برسوں میں جب بھی پنجابی سینما کی کامیڈی کا ذکر ہوگا، جسوندر سنگھ بھلا کا نام سب سے نمایاں رہے گا۔ ان کے چاہنے والوں کے دلوں میں وہ ہمیشہ ایک روشن چراغ کی مانند زندہ رہیں گے، جو دکھ اور اندھیروں میں بھی ہنسی اور روشنی کی راہیں دکھاتا رہے گا۔

یوسف صدیقی

یوسف صدیقی

میرا نام یوسف صدیقی ہے اور میں ایک تجربہ کار کالم نگار اور بلاگر ہوں۔ میں نے 2009 سے تحریری دنیا میں قدم رکھا اور مختلف پلیٹ فارمز پر اپنے خیالات عوام کے سامنے پیش کیے۔ میں نے روزنامہ دنیا میں مختصر کالم لکھے اور 2014 میں بہاولپور کے مقامی اخبار صادق الاخبار میں بھی مستقل لکھائی کا تجربہ حاصل کیا۔ اس کے علاوہ، میں نے ڈیجیٹل ویب سائٹ "نیا زمانہ" پر کالم شائع کیے اور موجودہ طور پر بڑی ویب سائٹ "ہم سب" پر فعال ہوں۔ میری دلچسپی کا مرکز سماجی مسائل، سیاست اور عمرانیات ہے، اور میں نوجوانوں اور معاشرتی تبدیلیوں کے موضوعات پر مؤثر اور معلوماتی تحریریں پیش کرنے کے لیے کوشاں ہوں۔ بلاگ نویسی کا تجربہ: میں تقریباً 15 سال سے مختلف پلیٹ فارمز پر لکھ رہا ہوں۔ میری تحریریں عوامی، سیاسی اور سماجی موضوعات پر مبنی ہیں۔