جانے گھر سے کوئی گیا ہے

سیّد اقبال عظیم کی ایک اردو غزل

جانے گھر سے کوئی گیا ہے گھر سُونا سُونا لگتا ہے
گھر کے بچے بچے کا چہرہ اُترا اُترا لگتا ہے

ہم باہر سے گھر کیا لوٹے ہیں سب کو پرائے لگتے ہیں
اب جو بھی ہم سے ملتا ہے کچھ روٹھا روٹھا لگتا ہے

یہ کس کو خبر تھی اس کو بھی دیکھ دینے کے ڈھب آتے ہیں
چہرے مہرے سے تو وہ ہم کو بھولا بھالا لگتا ہے

حسن اگر سچا ہو تو اس کو زیبائش کی حاجت کیا
سیدھے سادے جوڑے میں بھی وہ کتنا پیارا لگتا ہے

غفلت کی نیندیں سونے والے اس لذت کو کیا سمجھیں
جب صبح اذانیں ہوتی ہیں تو کتنا اچھا لگتا ہے

عہدہ ان کو جب سے ملا ہے وہ جانیں کیسے لگتے ہیں
لہجہ ہی نہیں اب چہرہ بھی کچھ بدلا بدلا لگتا ہے

اقبالؔ سے ہم کل رات ملے تھے چُپکا چُپکا بیٹھا تھا
کیا جانے اس کو کیا دکھ ہے جو کھویا کھویا لگتا ہے

سیّد اقبال عظیم

سائٹ منتظم

’’سلام اردو ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔ جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے سلام اردوکے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔