جا تجھے دل ربا معاف کیا

حسیب بشر کی ایک غزل

جا تجھے دل ربا معاف کیا
زندگی با خدا معاف کیا

تیرے جانے کا غم نہیں مجھ کو
یہ مقدر ہے, جا معاف کیا

ہم اچانک ہی اجنبی ہو گئے
کیوں یہ بدلی ہوا، معاف کیا

کتنی نازک سی شے بھروسا ہے
توڑ تم نے دیا، معاف کیا

آخری بار اُسے ملوں اور کہوں
جا تجھے بے وفا معاف کیا

لمس شامل لہو میں جب سے ہے
دل ہے سیماب سا, معاف کیا

خود سے بھی پوچھنا تھا مجھ کو حسیب
تو نے یہ کیا کِیا، معاف کیا

حسیب بشر

حسیب بشر

حسیب بشر کا تعلق پنجاب کے شہر وزیرآباد سے ہے۔ آپ لاہور کی مختلف سماجی اور غیر سماجی تنظیموں کے اہم رکن ہیں۔ آپ نے اپنا تخلیقی سفر2011 میں شروع کیا اور 2016 میں منظر عام پر آئے۔