اتنی بڑھی گھٹن کہ ہواؤں پہ آگئی

ماوٰی سلطان کی ایک اردو غزل

اتنی بڑھی گھٹن کہ ہواؤں پہ آگئی
جلنے لگی جو دھوپ ، تو چھاؤں پہ آگئی

کچھ یاد بھی ہے تم نے دُکھائے ہیں کتنے دل
ایسا بھی کیا کہ بات دعاؤں پہ آ گئی

کل تک تعلقات طبیعت پہ بوجھ تھے
خود پے پڑی تو بات وفاؤں پہ آ گئی

اک دور تھا کہ قائلِ توحید تھے عباد
عرصہ ہوا خدائی ، خداؤں پہ آ گئی

ایمان بھوک کھا گئی ایقان خواہشیں
حیران ہوں کہ خلق خطاؤں پہ آ گئی

تادیب کی کمی کبھی جھلکی جو طفل میں
تو بات صرف ماں کی اداؤں پہ آ گئی

آدھا ادھورا ساتھ بھی آفت سے کم نہیں
جیسے بلا اک اور ، بلاؤں پہ آ گئی

ماوٰی سلطان

ماوٰی سلطان

بنیادی طور پر حافظ آباد سے ہیں لیکن آج کل مکہ مکرمہ میں مقیم ہیں۔