عشقِ خدا یہ ہے کہ بندہ دنیا کی ہر چیز سے زیادہ خدا سے محبت رکھے۔
ماں باپ، بیوی بچوں اور ہر وہ چیز جو انسان کو اپنے جال میں پھانس لیتی ہے—ان سب سے بڑھ کر خدا کو چاہنا چاہیے۔
انسان کو اپنے اندر اتنی ظرفی پیدا کرنی چاہیے کہ جب بھی خدا کے مقام کے مقابل کوئی شے آجائے تو فوراً یادِ خدا دل میں تازہ ہو جائے۔
اپنے آپ کو اس قدر تیار کرے کہ اسے اس بات کا یقین ہوجائے کہ اب اس کے دل کو کسی کی محبت، خوبصورتی، لذت یا شہرت گمراہ نہیں کر سکتی۔
تو سمجھ لیجیے کہ اس دن آپ کی بندگی دنیاوی حوالے سے مکمل ہو گئی، مگر معنوی اور حقیقی معنی میں اب عشق کا آغاز ہوا ہے۔ یہی عشقِ خدا کی حقیقت ہے۔
عشق آسان نمودِ اوّل، ولی افتاد مشکل ها
ابتدائے عشق هے روتا ہے کیا، آگے آگے دیکھیے ہوتا ہے کیا۔
1۔ عشق ہمیشہ کسی کامل و اکمل ہستی سے ہوتا ہے، پس خدا کے سوا کوئی کامل نہیں۔
2۔ عشقِ مجازی اور عشقِ حقیقی میں یہی فرق ہے کہ عشقِ مجازی کا انجام فنا اور جدائی ہے، مگر عشقِ حقیقی کا آغاز سے انجام تک دوام اور بقا ہے۔ عشقِ مجازی کی ایک آنکھ ہوتی ہے، جبکہ عشقِ حقیقی کی دو آنکھیں ہوتی ہیں۔
3۔ عشقِ مجازی اگر عشقِ حقیقی تک پہنچنے کا ذریعہ بن جائے تو یقیناً وہ قابلِ شمار و قابلِ ستائش عمل ہے، کیونکہ اس ذریعے سے ہدف اور مقصد تک پہنچنا آسان ہوجاتا ہے۔
چونکہ مراحل طے ہوتے ہیں، راستہ مضبوط ہوتا جاتا ہے، اور انجامِ کار انسان عشقِ خدا سے ہمکنار ہوجاتا ہے۔
محمد حسین بہشتی