اس شہر میں محبت اپنے آب و تاب میں ہے
اور ستم یہ کہ ہر روح اضطراب میں ہے
اپنی تسکین کے لیے پوچھتے ہیں یہ لوگ
کون ہے وہ جو تیرے ہر ایک جواب میں ہے
مسلسل اس کی راہگزر سے گزر رہا ہے دل
یہ جانتے ہوۓ انا بے انتہاں جناب میں ہے
ایسی ادب و حیا کو آگ لگا دو میں
جہاں بیٹیاں حجاب،اور بیٹے شراب میں ہے
تم جیسے بے تکلف دوستوں پے صدقے جاؤں
حیران تمام سوال ایک ہی جواب میں ہے
نگار فاطمہ انصاری