اس لب کی خامشی کے سبب ٹوٹتا ہوں میں

اظہر فراغ کی ایک اردو غزل

اس لب کی خامشی کے سبب ٹوٹتا ہوں میں

دست دعا میں رکھا ہوا آئنہ ہوں میں

اب جا کے ہو سکے گی محبت وثوق سے

خود سے بچھڑتے وقت کسی سے ملا ہوں میں

آباد ہے خزانے کی افواہ سے وجود

متروک جنگلوں کا کوئی راستہ ہوں میں

دستار کاغذی ہے فضیلت ہے نام کی

چھوٹوں کی مہربانی سے گھر میں بڑا ہوں میں

رو کر نہ سویا جائے تو کیا نیند کا جواز

بستر کی ہر شکن میں پڑا جاگتا ہوں میں

ہوں اپنی روشنی کی اذیت میں مبتلا

جلتا ہوا چراغ ہوں الٹا پڑا ہوں میں

اظہر فراغ

سائٹ منتظم

’’سلام اردو ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔ جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے سلام اردوکے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔