اِدھر اُدھر میں نہیں

حارث بلال کی ایک اردو غزل

اِدھر اُدھر میں نہیں کوئی رابطہ مجھ میں
بسا ہے ایسا پہاڑوں کا سلسلہ مجھ میں

زمیں پہ آئے تو یہ بستیاں سکڑ جائیں
کوئی زمانہ جو وسعت بڑھا گیا مجھ میں

غروب ہوتا ہوا سا طلوع ہوتا ہوا
جلا ہوا ہے بجھایا ہوا دیا مجھ میں

یہ اب جو یار بھی پتھر اچھال دیتے ہیں
کسی نے دیکھ لیا ہے وہ آئنہ مجھ میں

نکل پڑے تھے سبھی اختتام کی جانب
پھر ایک شام اچانک وہ در کھلا مجھ میں

میں خود بھی رکھنا نہیں چاہتا تجھے لیکن
مجھے بھی ملتا نہیں کوئی راستہ مجھ میں

بکھیر دیتا ہوں کچھ بانٹتے ہوئے حارثؔ
نشانی چھوڑ گیا ہے مرا خدا مجھ میں

حارث بلال

حارث بلال

حارث بلال 1993دسمبر میں سرگودھا میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے 2014 میں شاعری کا آغاز کیا۔ ان کا شعری مجموعہ "ہم شجر" نومبر 2025 میں شائع ہو چکا ہے۔ تعلیمی حوالے سے ایم فل کی ڈگری لمز یونیورسٹی لاہور سے حاصل کر چکے ہیں اور گولڈ میڈل کے حامل ہیں۔ تا حال وہ نمل یونیورسٹی میانوالی میں اسسٹنٹ رجسٹرار کے طور پر خدمات انجام دے رہے ہیں۔