ہو کبھی مجھ سے ہمکلام اے دوست

ایک اردو غزل از ارشاد نیازی

ہو کبھی مجھ سے ہمکلام اے دوست
کہہ رہی ہے سہانی شام اے دوست

زندگی کیا ہے اک سفر کے سوا
کیجیے کیا یہاں قیام اے دوست

کیا طنابوں سے باندھتا وحشت
جل گئے یاد کے خیام اے دوست

مستقل ہے جدائی کا موسم
ہے محبت کا اختتام اے دوست

رات بھر خواب جاگتے رہیں گے
نیند کا کیجے انتظام اے دوست

کال کیا, اس نے تو مسینجر پر
نہیں بھیجا کوئی پیام اے دوست

یاد احباب تب کیا مجھ کو
جب پڑا مجھ سے کوئی کام اے دوست

تشنگی جان لیوا ہے ارشاد
اور خالی پڑے ہیں جام اے دوست

ارشاد نیازی

ارشاد نیازی

نیازی تخلص رکھنے والے ارشاد احمد17 اپریل 1979 کو سیالکوٹ ایک قصبے چوبارہ میں پیدا ہوئے ۔ والدہ گھریلو خاتون تھیں اور والد صاحب شعبہ ء حکمت سے وابستہ تھے چار بھائی ہیں ایک بھائی اور شاعری کرتا ہے ابتدائی تعلیم گورنمنٹ ہائی سکول چوبارہ سے، ایف اے پرائیوٹ اور بی اے علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی سے کیا ۔