ہے کسی اور ہی مٹی پہ کفِ پا میرا

ایک اردو غزل از ارشاد نیازی

ہے کسی اور ہی مٹی پہ کفِ پا میرا
کچھ نہیں اس در و دیوار سے رشتہ میرا

نیند آتی ہے کسی اور ہی مسکن میں مجھے
سانس لیتا ہے کہیں اور ہی سایہ میرا

خود کو ہر روز سرِ راہ پڑا ملتا ہوں
پھر کہیں خواب سا ہو جاتا ہے رستہ میرا

جب بھی بے مہری ء شب دل پہ گراں ہوتی ہے
دور اک چھت پہ نکلتا ہے ستارہ میرا

پھر تری پیاس میں لب سوکھنے لگتے ہیں مرے
پھر کسی لہر سے بھر جاتا ہے دریا میرا

کوئی آ کر مجھے ہمرنگِ چمن دیکھے تو
یوں سرِ شاخِ تمنا یہ مہکنا میرا

اب کہاں پر مری وحشت کا قدم پڑتا ہے
دھیان رکھتی ہے بہت تنگی ء صحرا میرا

ارشاد نیازی

ارشاد نیازی

نیازی تخلص رکھنے والے ارشاد احمد17 اپریل 1979 کو سیالکوٹ ایک قصبے چوبارہ میں پیدا ہوئے ۔ والدہ گھریلو خاتون تھیں اور والد صاحب شعبہ ء حکمت سے وابستہ تھے چار بھائی ہیں ایک بھائی اور شاعری کرتا ہے ابتدائی تعلیم گورنمنٹ ہائی سکول چوبارہ سے، ایف اے پرائیوٹ اور بی اے علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی سے کیا ۔