ہوا کے ساتھ کوئی حرفِ چشمِ تر جائے

ایک اردو غزل از ارشاد نیازی

ہوا کے ساتھ کوئی حرفِ چشمِ تر جائے
میں خود نہ جاؤں تو اس تک مری خبر جائے

مرے خلوص پہ قدغن لگائیے صاحب
یہ دل وفا کی اذیت سے ہی نہ بھر جائے

تو سنگ ساز تڑخنے سے آشنا ہی نہیں
تری بلا سے اگر آئنہ بکھر جائے

تو کیا میں پیاس کا مارا پڑا رہوں یونہی
تو کیا یہ ابر مرے ساتھ ہاتھ کر جائے

تو کیا یہ خواب کنارے نہ لگ سکیں ارشاد
تو کیا یہ موجِ تمنائے دل اتر جائے

ارشاد نیازی

ارشاد نیازی

نیازی تخلص رکھنے والے ارشاد احمد17 اپریل 1979 کو سیالکوٹ ایک قصبے چوبارہ میں پیدا ہوئے ۔ والدہ گھریلو خاتون تھیں اور والد صاحب شعبہ ء حکمت سے وابستہ تھے چار بھائی ہیں ایک بھائی اور شاعری کرتا ہے ابتدائی تعلیم گورنمنٹ ہائی سکول چوبارہ سے، ایف اے پرائیوٹ اور بی اے علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی سے کیا ۔