ہر گھڑی اک نیا تقاضا ہے

شاز ملک کی ایک اردو غزل

ہر گھڑی اک نیا تقاضا ہے
زندگی کیا ترا تماشا ہے

تم زمانے کی بات مت کرنا
کس کے حق میں کہو زمانہ ہے

دل کی ہم بات کیا کریں صاحب
درد کا روح پر بھی چھالا ہے

ہوش والوں کو یہ خبر کر دو
تیرگی میں چھپا اُجالا ہے

کون جانے کہاں پہ کس کس نے
اپنا خود ہی اٹھایا لاشہ ہے

وقت کے بے ثبات دریا نے
غم کی لہروں کو ہی اچھالا ہے

بول کچھ تو اے میرے چارہ گر
کیوں محبت کا مول گھاٹا ہے

رنج و غم درد اور خوشی حیرت
زندگی کا یہ ہی فسانہ ہے

شاز سب کو سمجھ نہیں آتی
درد کی اک الگ سی بھاشا ہے

شاز ملک

شاز ملک

شاعرہ ، ناول نویس ،افسانہ نگار ، کالم نویس گیت کار ، ڈرامہ اسکرپٹ رائیٹر شاز ملک پاکستان کے شہر سیالکوٹ سے تعلق رکھتی ہیں گزشتہ ستائیس سالوں سے فرانس میں مقیم ہیں