حق مہر کتنا ہوگا، بتایا نہیں گیا

فرحت زاہد کی ایک اردو غزل

حق مہر کتنا ہوگا، بتایا نہیں گیا
شہزادیوں کو بام پر لایا نہیں گیا

کمزور سی حدیث سُنا دی گئی کوئی
انصاف کا ترازو اُٹھایا نہیں گیا

میں اپنے ساتھ ساتھ ہوں ،وہ اپنے ساتھ ساتھ
ہمزاد ہم کو بنایا نہیں گیا

پیالے میں پیاس اور دریچے میں چاند تھا
وہ سو رہا تھا، مجھ سے جگایا نہیں گیا

اک خواب دیکھنے میں ہی ہم صرف ہوگئے
انگار زندگی کا، جلایا نہیں گیا

ہر بار چھوڑ آتی ہوں دریا میں لہر کو
چُلو میں بھر کے مجھ سے اُٹھایا نہیں گیا

فرحت زاہد

سائٹ منتظم

’’سلام اردو ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔ جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے سلام اردوکے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔