گناہوں سے دور نہیں ہیں

ایک اردو تحریر از محمد حسین بہشتی

میں آپ سے عرض کر رہا ہوں کہ انسان بنیادی طور پر گناہوں، خطاؤں، لغزشوں، مشکلات اور گرفتاریوں سے ہرگز دور نہیں ہوتا۔ یہ سب کچھ شک، گمان، کفر، شرک اور نفاق سے آغاز ہوتا ہے، اور پھر کفر و شرک سے لے کر فسق و فجور، فحاشی و منکرات تک پھیل جاتا ہے۔ یہ گناہ ہمارے فکر و خیال، ہمارے قلوب اور ہمارے اعضاء و جوارح—آنکھ، کان، شکم اور شرمگاہ—سب پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ یہ گناہ ہم سے کسی دور فاصلے پر نہیں رہتے۔
خدا نخواستہ اگر ایک دن کوئی ہم سے کہے کہ فلاں شخص کو قتل کرو، فلاں کا مال چرا لو، یا فلاں عورت سے زنا کرو—تو ہم فوراً انکار کریں گے کہ نہیں، ہرگز نہیں!
لیکن اس کی وجہ یہ نہیں کہ ہم گناہوں سے دور ہیں، بلکہ اس لیے کہ فی الحال ہم اس وادی میں داخل نہیں ہوئے، ہم مجبور نہیں ہیں، ہم کسی محبوب یا محبوبہ کے اسیر نہیں ہیں، ہمیں ابھی کسی فقر و ہلاکت کا سامنا نہیں، ہمیں کوئی بڑی رقم کی پیشکش نہیں ہوئی، اور نہ ہی ہم کسی سخت آزمائش، امتحان یا جبر میں مبتلا ہوئے ہیں۔
ہم کسی ظالم و مستکبر کے ہاتھوں نہیں چڑھے کہ وہ ہمیں مجبور کرے کہ ہم فلاں جرم کریں، فلاں کو قتل کریں۔
ویسے تو ہم ہر ایک اپنے اپنے وقت کے فرعون ہیں، مگر ہمارا مصر چھوٹا اور محدود ہے۔ کوئی اپنے بال بچوں پر فرعون بنا ہوا ہے، کوئی اپنے خاندان والوں پر، کوئی اپنے گاؤں والوں پر، کوئی اپنے دفاتر اور اداروں میں فرعونیت دکھا رہا ہے۔
خلاصہ یہ کہ دوستوں، رشتہ داروں، اور ہم وطنوں کے لیے ہم میں سے بہت سے لوگ عملاً اَنَا رَبُّکُمُ الأَعلَىٰ بنے ہوئے ہیں۔
کسی بڑے گاڑی والے کو دیکھ لیجئے جو سڑکوں اور گلیوں میں بوڑھوں، بچوں اور خواتین کی پروا کیے بغیر بدمعاشی کرتا پھرتا ہے—اگر یہ فرعونیت نہیں، تو اور کیا ہے؟
دفاتر اور اداروں میں چلے جائیں؛ اگر کوئی آپ کو جانتا ہو تو کام ہو جائے گا، ورنہ کوئی پوچھنے والا نہیں۔ ہر جگہ گروہ بندی ہے، سفارش ہے، رشوت ہے۔ اور ہر شخص اپنے دائرہ کار میں کسی نہ کسی درجے میں فرعون بنا ہوا ہے۔
پھر بھی ہم سمجھتے ہیں کہ ہم گناہوں سے دور ہیں!
عرض کرنے کا مقصد یہ ہے کہ ہم اپنی اصلاح کریں۔ یوں نہ سمجھیں کہ ہم پاک اور معصوم ہیں۔ جب انسان اپنے گناہوں اور غلطیوں کا احساس کر لے، تو پھر وہ غرور، تکبر، حسد، بغض اور کینہ نہیں کرتا، اور گناہوں سے بچنے کی کوشش کرتا ہے۔
ایک اہم اور بنیادی بات یہ ہے کہ جب انسان کی مفادات، مال و دولت، عہدہ، مقام اور شہرت درمیان میں آجائیں، تب پتہ چلتا ہے کہ کون کیا ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں سے "شمر” اور "عمر سعد” جیسے کردار وجود میں آتے ہیں۔ شکلیں مختلف ہوں گی، مگر کردار ایک جیسے ہوں گے۔
تاریخ میں آتا ہے کہ کسی نے ہارون الرشید سے پوچھا:
“تم اپنے چچا زاد، ماموں زاد اور تایا زاد بھائیوں کو کیوں قتل کروا رہے ہو؟”
ہارون الرشید نے اپنے بیٹے کو مخاطب کرتے ہوئے کہا:
“بیٹا! تم میری جان ہو، میں تم سے بہت محبت کرتا ہوں۔ لیکن یاد رکھو، اگر ایک دن تم بھی میرے تخت و تاج کے لیے خطرہ بنے تو میں تمہیں بھی معاف نہیں کروں گا!”

محمد حسین بہشتی

محمد حسین بہشتی

نام : محمد حسین بہشتی پیدائش : 1969م سندوس سکردو ابتدائی تعلیم : سندوس سکردو اعلی تعلیم : گر یجو یشن کراچی یونیورسٹی شغل : تحقیق (ریسرچ سیکا لر )( اب تک 200 سو مقالہ اور 25 کتابیں)