گِلہ تو آپ سے ہے اور بے سبب بھی نہیں

سیّد اقبال عظیم کی ایک اردو غزل

گِلہ تو آپ سے ہے اور بے سبب بھی نہیں
مگر اِرادۂ اظہار زیرِ لب بھی نہیں

میں چاہتا ہوں کہ اپنی زباں سے کچھ نہ کہوں
میں صاف گو ہوں، مگر اتنا بے ادب بھی نہیں

جفا کی طرح، مجھے ترکِ دوستی بھی قبول
ملال جب بھی نہ تھا مجھ کو، اور اب بھی نہیں

گزر گیا وہ طلب گاریوں کا دَور بخیر
خدا کا شُکر، کہ اب فرصتِ طلب بھی نہیں

مزاجِ وقت سے تنگ آ چکا ہے میرا ضمیر
مِرے اصول بدل جائیں تو عجب بھی نہیں

گئے دنوں کا فسانہ ہے اب ہمارا وجود
وہ مفلسی بھی نہیں ہے، وہ روز و شب بھی نہیں

جواب دوں گا میں، کچھ مجھ سے پوچھ کر دیکھو
ابھی میں ہوش میں ہوں ایسا جاں بہ لب بھی نہیں

حسب نسب کی جو پوچھو تو شجرہ پیش کروں
کتاب کوئی نہیں ہے، مِرا لقب بھی نہیں

سیّد اقبال عظیم

سائٹ منتظم

’’سلام اردو ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔ جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے سلام اردوکے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔