گریہ و نالہ کناں ہیں دل _ برباد اور میں

شاہ دل شمس کی ایک اردو غزل

گریہ و نالہ کناں ہیں دل _ برباد اور میں
آخری رات دسمبر کی تری یاد اور میں
۔
رقص و مستی میں نئے سال کی پہلی شب ہے
اور ہیں دست و گریباں مرا ہمزاد اور میں
۔
زرد شاخوں پہ جمی برف پگھلنے تک ہے
ذکر میرا ، مری شہرت مری روداد اور میں
۔
سوگ کے دن ہیں سو ہم بیٹھے ہیں (پھوڑی) ڈالے
یہ دسمبر کی اداسی , دل _ ناشاد اور میں
۔
خلد ویراں ہوئی آدم کے نکل جانے سے
پھر سے آباد کریں گے مرے اجداد اور میں

شاہ دل شمس

شاہ دل شمس

حافظ آباد, پاکستان