فضاؤں کی ہیں سانسیں تنگ ، روکو

کومل جوئیہ کی ایک اردو غزل

فضاؤں کی ہیں سانسیں تنگ ، روکو
خدا کا واسطہ یہ جنگ روکو

لہو ہے اور رگوں سے بہہ رہا ہے
یہ پانی ہے نہ کوئی رنگ ، روکو

تمہارے گھر بھی شیشے کے بنے ہیں
مری جانب اچھلتا سنگ روکو

یہ نفرت بانٹنے والے ، دلوں میں
لگاتے جارہے ہیں زنگ ، روکو

گذرنے والو منظر کو بدل دو
رکو اور ساعتِ خوش رنگ روکو

کومل جوئیہ

کرن شہزادی

سلام اردو ایڈیٹر