فریاد بن گئے کبھی خاموش رہ گئے

منزہ انور گوئندی کی ایک اردو غزل

فریاد بن گئے کبھی خاموش رہ گئے
ہر رنگ اہل درد حکایات کہہ گئے

کچھ واردات دل کہ زباں تک نہ آ سکے
کچھ سانحات درد کہ ناگفتہ رہ گئے

ہم سے ھمیشہ درد مشیت نے کھائی مات
ہر تیر حادثات کو ہم ہنس کے سہہ گئے

کچھ اشک خوں تھے جو سر مژگاں جمے رہے
کچھ لخت دل تھے آنسوؤں کے ساتھ بہہ گئے

بلبل بہ چشم نم ہے چمن سے بہت ہی دور
پھولوں کے ساتھ کانٹوں کے افسانے رہ گئے

منزہ انور گوئیندی

منزہ انور گوئیندی

تعارف منزہ انور گوئیندی کا تعلق ادبی گھرانے سے ہے ان کے والد انور گوئیندی کا شمار مشاہیر ادب میں ھوتا ھے اور وہ اردو ادب کے بانیوں میں سے ھیں ۔ سرگودھا میں کامران مشاعرے اور کامران رسالے کے ذریعے انہوں نے ادب کی آبیاری کی ان کی وفات کے بعد یہ مسند ان کی اکلوتی بیٹی منزہ انور گوئیُندی نے سنبھالی جو ایک نامور افسانہ نگار ، کالم نگار اور شاعرہ ھونے کے ساتھ ساتھ کامران ادبی رسالہ کی مدیرہ بھی ہیں ۔ منزہ انور گوئیندی عالمی شہرت یافتہ قلمکار اور صدا کار ہیں ۔ گزشتہ بیس سال سے ریڈیو پاکستان سے منسلک ھیں اور علمی و ادبی پروگرام پیش کر رہی ھیں ۔ منزہ انور گوئیُندی کو ملکی اور بین الاقوامی سطح پر کئی ایوارڈز اور اعزازات اور میڈلز دیے جا چکے گئے ھیں ۔ حال ھی میں دورہ برطانیہ کے دوران انہیں سفیر ادب کا خطاب بھی عطا کیا گیا ۔ اور ان کے اعزاز میں سکاٹ لینڈ بین الاقوامی مشاعرے کا انعقاد بھی کیا گیا منزہ گوئیندی کے خاندان کا شمار کارکنان تحریک پاکستان میں ھوتا ھے اور اس ضمن میں انہیں سابق صدر پاکستان عارف علوی کی جانب سے گولڈ میڈل بھی دیا گیا