فَریب دَر آتَش

ایک اردو نظم از شاکرہ نندنی

آگ دل میں تھی، آتشدان میں تھی، روشنی بنی
باہر آئی تو وہی آگ، خاکستر کی کہانی بنی

رنگ و نور میں لپٹی ہوئی تھی خواہشوں کی راکھ
بس ایک نظر نے فریب دیا، ہر شے فانی بنی

نہ عشق رہا، نہ الفت رہی، فقط جسموں کا میل
کہاں گئے وہ وعدے، جو روح کی روانی بنی؟

چاہا جسے، وہ خواب نکلا، بازار میں بکا
حرمت بھی نیلام ہوئی، جو کبھی نشانی بنی

یہ آگ، جو ہر گھر جلا گئی، کبھی پرانی نہیں ہوتی
شاکرہ فریب کی نئی شکل میں، ہر دور کی کہانی بنی

شاکرہ نندنی

شاکرہ نندنی

میں شاکرہ نندنی ہوں، ایک ماڈل اور ڈانسر، جو اس وقت پورٹو، پرتگال میں مقیم ہوں۔ میری پیدائش لاہور، پاکستان میں ہوئی، اور میرے خاندانی پس منظر کی متنوع روایات میرے ثقافتی ورثے میں جھلکتی ہیں۔ بندۂ ناچیز ایک ہمہ جہت فنکارہ ہے، جس نے ماڈلنگ، رقص، تحریر، اور شاعری کی وادیوں میں قدم رکھا ہے۔ یہ سب فنون میرے لیے ایسے ہیں جیسے بہتے ہوئے دریا کے مختلف کنارے، جو میری زندگی کے مختلف پہلوؤں کی عکاسی کرتے ہیں۔