انسانی تاریخ مختلف فکری، سماجی اور معاشی منازل کے ارتقاء کا نام ہے۔ ہم جس دور میں سانس لے رہے ہیں یہ ایک طرف فکری آزادیوں کا دعوے دار ہے تو دوسری طرف نادیدہ زنجیروں میں جکڑا ہوا ہے۔ اسی پیچیدہ اور تہہ در تہہ صورتحال کو سمجھنے کے لیے گورنمنٹ پوسٹ گریجویٹ کالج چارسدہ کے شعبۂ اردو کی جانب سے منعقدہ علمی نشست بعنوان "مابعد جدید بیانیہ اور مشرقیت” میں نہایت فکر انگیز مباحثے سامنے آئے۔ اس مکالمے کے دوران ایک نہایت اچھوتا اور فکر انگیز زاویہ سامنے آیا۔ وہ یہ کہ مابعد جدیدیت کا فکری رویہ بنیادی طور پر ہر اس شے کی مخالفت کرتا ہے جو کسی حتمی بیانیے یا بڑی تحریک کا دعویٰ کرے چاہے وہ عالمی سرمایہ داری کا روایتی نظام ہی کیوں نہ ہو۔
منطقی اور فکری اعتبار سے اس موقف کو رد کرنے کی گنجائش بہت کم ہے لیکن اس پر کئی نکتے اٹھائے جاسکتے ہیں۔ مابعد جدیدیت نے ہمیں سکھایا ہے کہ کوئی ایک سچائی نہیں ہوتی اور ہر وہ نظام جو انسان پر اپنی حتمیت مسلط کرتا ہے، وہ دراصل استحصال ہی کی ایک شکل ہے۔ اسی فکری بغاوت نے روایتی سرمایہ داری کی بنیادوں پر سوال اٹھائے لیکن آج کی تیزی سے بدلتی ہوئی دنیا میں ایک نیا اور زیادہ گمبھیر پہلو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ وہ یہ کہ اکیسویں صدی کا سب سے بڑا اور خاموش انقلاب ٹیکنو فیوڈل ازم کی صورت میں رونما ہو چکا ہے جس نے انسان کے آزاد شعور کو الگورتھم کی غیر مرئی بیڑیوں میں جکڑ لیا ہے۔
یہاں یہ سمجھنا نہایت ضروری ہے کہ آخر یہ ٹیکنو فیوڈل ازم ہے کیا۔ دراصل، یہ وہ نیا معاشی اور سماجی ڈھانچہ ہے جہاں روایتی سرمایہ داری کی طرح اشیاء کی پیداوار اور منڈی کے آزاد مقابلے کی اہمیت ختم ہو چکی ہے۔ جس طرح ماضی کے جاگیردارانہ دور میں زمین کے مالک کسانوں سے لگان وصول کرتے تھے، بالکل اسی طرز پر آج کی چند عظیم الجثہ ٹیکنالوجی کمپنیاں ڈیجیٹل دنیا کی بلا شرکتِ غیرے مالک بن چکی ہیں۔ یہ ڈیجیٹل جاگیردار اب کوئی چیز تیار کر کے نہیں بیچتے، بلکہ انہوں نے وہ تمام آن لائن پلیٹ فارمز اور راستے اپنے قبضے میں کر لیے ہیں جہاں سے انسانی روابط، تجارت اور معلومات کا گزر ہوتا ہے۔ عام صارف اور چھوٹے کاروباری افراد اس ڈیجیٹل زمین پر محض بے زمین کسانوں کی مانند ہیں، جنہیں اس آن لائن دنیا میں اپنا وجود برقرار رکھنے کے عوض اپنا ذاتی ڈیٹا، نجی معلومات اور کمیشن کی مد میں بھاری لگان ان کمپنیوں کو ادا کرنا پڑتا ہے۔
یہ نیا تکنیکی نظام ہماری زندگیوں پر اس حد تک حاوی ہو چکا ہے کہ اب انسانوں پر براہِ راست طاقت کا استعمال نہیں ہوتا بلکہ ٹیک کمپنیوں کے بنائے گئے پوشیدہ الگورتھمز نہایت خاموشی سے ہمارے ذہنوں کو کنٹرول کرتے ہیں۔ ہم کیا دیکھتے ہیں، کیا سوچتے ہیں اور ہماری خواہشات کیا ہیں۔ اس کا فیصلہ اب آزاد منڈی نہیں بلکہ چند طاقتور ڈیجیٹل جاگیردار کر رہے ہیں۔
اس ٹیکنو فیوڈل نظام کا سب سے حیران کن اور تشویش ناک پہلو یہ ہے کہ اس نے انسانی مشقت، تھکاوٹ اور آرام کے صدیوں پرانے تصورات کو ہی الٹ کر رکھ دیا ہے۔ پرانے وقتوں کی مادی دنیا کا اصول انتہائی سادہ تھا۔ انسان جب کھیتوں، کارخانوں یا کسی بھی سخت جسمانی مشقت کے بعد نڈھال ہو جاتا تھا تو محض کچھ دیر بیٹھنے یا لیٹنے سے اس کا بدن دوبارہ تازہ دم ہو جایا کرتا تھا۔ اُس دور میں تھکاوٹ کا تعلق حرکت سے تھا اور آرام کا تعلق سکون سے تھا لیکن اس کے برعکس موجودہ ٹیکنو فیوڈل کا سب سے بڑا کرب یہ ہے کہ آج کا انسان سکرینوں کے سامنے محض بیٹھے بیٹھے ہی تھک جاتا ہے۔ یہ ایک ایسی شدید اعصابی اور نفسیاتی تھکاوٹ ہے جو اس کے جسم کی نہیں بلکہ اس کی روح، توجہ اور ذہن کی توانائیاں نچوڑ لیتی ہے۔ انسان گھنٹوں اپنی جگہ پر بیٹھا سکرین پر انگلیاں پھیرتا رہتا ہے اور بظاہر کوئی جسمانی مشقت نہ کرنے کے باوجود خود کو اندر سے کھوکھلا اور مضمحل محسوس کرتا ہے۔ یہ بیٹھے بٹھائے کی تھکاوٹ دراصل اس ڈیجیٹل لگان کی قیمت ہے جو ہم اپنی توجہ اور ذہنی توانائی کی صورت میں ان ٹیک کمپنیوں کو ادا کر رہے ہیں۔
فرخ ندیم اور منصور ساحل نے اس بیانیے پر جو نکتے اٹھائے ہیں اس علمی مباحث نے ہمیں یہ سوچنے پر مجبور کیا ہے کہ ہم ایک طرف تو مابعد جدیدیت کے زیرِ اثر پرانے بیانیوں سے آزاد ہو رہے ہیں لیکن دوسری جانب ٹیکنو فیوڈل ازم کے ایک نئے اور زیادہ خطرناک جال میں پھنستے جا رہے ہیں۔ اس نئے دور میں غلامی جسموں کی نہیں بلکہ ذہنوں کی ہے۔ جب تک ہم اس الگورتھم کے جبر اور اپنی اس ذہنی تھکاوٹ کے اصل اسباب کو نہیں سمجھیں گے ہم اس نئی ڈیجیٹل جاگیرداری کے بے بس کسان ہی بنے رہیں گے۔
مدثر عباس