رمضان کی آخری شامیں ہمیشہ ایک عجیب سی خاموشی اپنے اندر سموئے ہوتی ہیں۔ یہ خاموشی صرف وقت کی نہیں بلکہ دل کی گہرائیوں میں اتر جانے والی ایک کیفیت ہوتی ہے۔ ایک طرف پورے مہینے کی عبادتوں کی یادیں، سحری کی رونقیں اور افطار کی خوشبوئیں ذہن میں تازہ ہوتی ہیں، تو دوسری طرف عید کے چاند کا انتظار دل کو بے چین کیے رکھتا ہے۔
یہ وہ لمحہ ہوتا ہے جب آسمان پر نظر جم جاتی ہے اور دل کسی انجانی خوشی کی دستک سننے لگتا ہے۔ عید کا چاند محض ایک فلکیاتی حقیقت نہیں بلکہ ایک احساس ہے، ایک وعدہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہماری محنت کو قبول فرمایا اور ہمیں خوشی کا ایک دن عطا کیا۔
آخری روزہ ایک عبادت سے بڑھ کر ایک پیغام ہوتا ہے۔ یہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ صبر کا سفر اپنے اختتام کو پہنچ رہا ہے، مگر اس کے اثرات ہمیشہ باقی رہنے چاہئیں۔ رمضان ہمیں صرف بھوکا پیاسا رہنا نہیں سکھاتا بلکہ یہ ہمیں انسان بننا سکھاتا ہے۔ دوسروں کے درد کو محسوس کرنا، اپنے نفس کو قابو میں رکھنا اور ہر حال میں اللہ کا شکر ادا کرنا، یہی وہ سبق ہیں جو اس مہینے کی اصل روح ہیں۔
جب عید قریب آتی ہے تو بازاروں کی چمک دمک بڑھ جاتی ہے، مگر اصل روشنی دلوں میں ہونی چاہیے۔ نئے کپڑے پہننا، لذیذ کھانے بنانا اور خوشیاں منانا اپنی جگہ، مگر اگر ہمارے آس پاس کوئی اداس ہے تو ہماری عید ادھوری ہے۔ ایک مسکراہٹ، ایک ہمدردی بھرا جملہ یا کسی ضرورت مند کی مدد، یہی وہ اعمال ہیں جو عید کو حقیقی معنوں میں مکمل کرتے ہیں۔
عیدالفطر دراصل شکر کا دن ہے۔ یہ اس بات کا اعلان ہے کہ ہم نے رمضان کو پایا، اسے جیا اور اب ہم اس کے پیغام کو اپنی زندگی کا حصہ بنانا چاہتے ہیں۔ یہ دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ اصل کامیابی دنیاوی نمود و نمائش میں نہیں بلکہ دل کی صفائی اور نیت کی سچائی میں ہے۔
آج جب ایک روزہ باقی ہے، ہمیں چاہیے کہ ہم خود سے ایک وعدہ کریں۔ ایک ایسا وعدہ جو صرف رمضان تک محدود نہ ہو بلکہ ہماری پوری زندگی پر اثر انداز ہو۔ ہم وعدہ کریں کہ ہم سچ بولیں گے، دوسروں کے لیے آسانی پیدا کریں گے اور ہر حال میں اللہ تعالیٰ کی رضا کو مقدم رکھیں گے۔
چاند رات کی وہ گھڑیاں جب آسمان پر ہلکی سی روشنی ابھرتی ہے، دراصل امید کی علامت ہوتی ہیں۔ یہ ہمیں بتاتی ہیں کہ اندھیرا چاہے کتنا ہی گہرا کیوں نہ ہو، روشنی اپنا راستہ بنا ہی لیتی ہے۔ عید کا چاند بھی ہمیں یہی سبق دیتا ہے کہ صبر کے بعد خوشی ضرور آتی ہے۔
آخر میں، عیدالفطر صرف ایک دن نہیں بلکہ ایک احساس ہے جو ہمیں جوڑتا ہے، ہمیں قریب لاتا ہے اور ہمیں ایک بہتر انسان بننے کی ترغیب دیتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اس عید کی اصل خوشیوں کو سمجھنے اور انہیں اپنی زندگی کا حصہ بنانے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
خیر اندیش
نعمان علی بھٹی